صرف گولہ بارود پر 29 ارب ڈالر خرچ، ایران جنگ میں امریکی اخراجات 47 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئے

اس تخمینے میں ایران کے حملوں سے متاثر ہونے والے امریکی فوجی اڈوں کی مرمت کے اخراجات شامل نہیں ہیں

واشنگٹن: ایران کے خلاف جنگ میں امریکی اخراجات بڑھ کر 47.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں جو جولائی میں لگائے گئے تخمینوں سے 25 فیصد سے بھی زیادہ ہیں۔

امریکی اخبار ’دی ہِل‘ کے مطابق محکمۂ جنگ کی جانب سے کانگریس کو فراہم کیے گئے تازہ تخمینے میں 16 اکتوبر تک جنگی کارروائیوں پر ہونے والے اخراجات کی تفصیلات شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ستمبر کے اوائل کے بعد سے امریکی اخراجات میں مزید 3.5 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔ مجموعی رقم میں سب سے بڑا حصہ، تقریباً 29 ارب ڈالر، استعمال شدہ یا تباہ ہونے والے گولہ بارود اور دیگر جنگی ہتھیاروں کی جگہ نئے ہتھیار فراہم کرنے پر خرچ ہوا۔

اس کے علاوہ تقریباً 6.1 ارب ڈالر فوجی سازوسامان کے نقصان سے متعلق اخراجات کی مد میں جبکہ لگ بھگ 12 ارب ڈالر اضافی فوجی آپریشنز اور دیگر عملی ضروریات پر خرچ ہوئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس تخمینے میں ایران کے حملوں سے متاثر ہونے والے امریکی فوجی اڈوں کی مرمت کے اخراجات شامل نہیں ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق ان اخراجات کو بھی شامل کیا جائے تو جنگ کی مجموعی مالی لاگت مزید بڑھ سکتی ہے۔

https://x.com/thehill/status/2115238617257820588?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2115238617257820588%7Ctwgr%5E04de0dffc19b31afbe6f6f62c9793e13804dc40d%7Ctwcon%5Es1_c10&ref_url=https%3A%2F%2Fgulfnews.com%2Fworld%2Fmena%2Fmiddle-east-war-netanyahu-says-he-could-work-with-trump-to-eliminate-iran-threat-after-israel-election-iran-war-cost-hits-471bn-hormuz-tensions-rise-1.500726349

جنگ پر بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث امریکی قانون سازوں کی جانب سے نگرانی اور مالی تفصیلات پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ تاہم فراہم کردہ رپورٹ میں اڈوں کی مرمت کے ممکنہ اخراجات یا جنگ کی مجموعی حتمی لاگت کا کوئی حتمی تخمینہ نہیں دیا گیا۔

Load Next Story