کراچی میں بدترین لوڈشیڈنگ پر توجہ دلاؤ نوٹس پیش، معاملہ توانائی کی قائمہ کمیٹی کے سپرد

کے الیکٹرک ایک مافیا کے طور پر کام کرہا ہے، عوام اس ادارے کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، امین الحق

فوٹو: فائل

اسلام آباد:

کراچی میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور کے الیکٹرک کی جانب سے فیڈرز خرابیوں کو دور نہ کرنے سے متعلق امین الحق نے قومی اسمبلی میں توجہ دلاؤ نوٹس پیش کردیا۔

قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ کی صدارت میں منعقد ہوا، ایم کیو ایم پاکستان کے رکن سید امین الحق نے کراچی میں جاری بدترین لوڈشیڈنگ پر ایوان میں توجہ دلاؤ نوٹس پیش کرتے ہوئے کہا کے الیکٹرک کا شمار ان کمپنیوں میں ہوتا جسے عوام میں نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، کے الیکٹرک ایک مافیا کے طور پر کام کرہا ہے۔

امین الحق نے کہا کہ کے الیکٹرک اوور بلنگ کرکے اربوں روپے کما رہی ہے، اتنا کمانے کے بعد کراچی کی جنریشن کے لیے کتنا کیا ہے؟ رات کو بھی لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے، کے الیکٹرک کراچی کیلئے کیا کر رہی ہے؟۔

پارلیمانی سیکرٹری عامر طلال خان نے توجہ دلاؤ نوٹس پر جواب میں کہا کہ یہ لوڈشیڈنگ مجبوراً کرنی پڑتی ہے، بعض دفعہ یہ ہوتا ہے کہ کوئی مرمتی کام ہوتا ہے تو اس وجہ سے شاید اضافہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیپرا رول کے مطابق رات کے اوقات میں لوڈشیڈنگ نہیں ہونی چاہیے، ایسا کچھ ہے تو اس کو.ہم ضرور دیکھیں گے۔ انڈسٹریل فیڈرز پر کسی قسم کی لوڈشیڈنگ نہیں ہے۔ ڈپٹی اسپیکر نے معاملہ توانائی کی قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا۔

دریں اثنا ایوان نے 27 اکتوبر یوم سیاہ پر کشمری عوام سے اظہار یکجہتی کی قرارداد منظور کرلی، قرارداد وفاقی وزیر امور کشمیر امیر مقام اور چیئرمین کشمیر کمیٹی قاسم نون نے پیش کی۔

وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان امیر مقام نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بھارت تقریباً گزشتہ 80 سال سے کشمیری عوام پر ظلم کر رہا ہے، ہزاروں افراد کو اب تک شہید کیا جا چکا ہے، تقریبا 7 ہزار کشمیریوں کو جیل میں شہید کیا گیا، کشمیری اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں اور ایک انچ پیچھے نہیں ہٹے۔

امیر مقام نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر پر غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے، آج اسلام آباد میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کی تقریب میں ہزاروں کی تعداد میں سول سوسائٹی اور طلباء نے شرکت کی۔

پی ٹی آئی کی رکن شاندانہ گلزار نے انسداد زنا بالجبر تفتیش اور سماعت مقدمہ بل 2024 منظوری کے لیے قومی اسمبلی میں پیش کیا۔

وزیر قانون نے بل کی مخالفت کر دی، انکا کہنا تھا کہ نیشنل پولیس بیورو میں نظام پہلے سے موجود ہے، زنا بالجبر سے متعلق تمام کیسز کا ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم موجود ہے، بل کو مزید غور و خوض کیلئے قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا۔

Load Next Story