پاکستان میں فضائی آلودگی، شہریوں کی اوسط عمر 3.9 سال کم ہونے کا انکشاف

اسلام آباد اور راولپنڈی میں ٹرانسپورٹ سے متعلق اخراج کا حصہ 53 فیصد بتایا گیا ہے

پاکستان میں فضائی آلودگی سے سالانہ ایک لاکھ 28 ہزار اموات اور شہریوں کی اوسط عمر 3.9 سال کم ہونے کا انکشاف ہوا ہے.

پاکستان میں فضائی آلودگی کے باعث شہریوں کی متوقع عمر میں اوسطاً 3.9 سال کی کمی اور سالانہ تقریباً ایک لاکھ 28 ہزار قبل از وقت اموات کا انکشاف ہوا ہے۔

پاکستان ایئر کوالٹی انیشی ایٹو (پی اے کیو آئی) کی نئی رپورٹ کے مطابق فضائی آلودگی سے ملک کی معیشت کو مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 6.5 فیصد کے مساوی نقصان پہنچ رہا ہے، جبکہ لاہور میں فضائی آلودگی کے باعث شہریوں کی عمر میں سات سال تک کمی ہو سکتی ہے۔

پاکستان میں فضائی آلودگی کا جائزہ، صحت کے خطرات، ذرائع اور حل پر مبنی قومی منظرنامہ رپورٹ میں  پہلی مرتبہ مختلف شعبوں سے خارج ہونے والی آلودگی کے اخراج کا یکساں قومی تخمینہ اور متعدد شہروں میں فضائی معیار کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں لاہور، کراچی، اسلام آباد، راولپنڈی اور پشاور کے فضائی آلودگی سے متاثرہ علاقوں کا تجزیہ کیا گیا ہے۔

پاکستان ائیرکوالٹی انیشیٹو کے بانی جو رپورٹ تیارکرنیوالی ٹیم کا حصہ ہیں انہوں نے بتایا کہ رپورٹ کی تیاری کے لیے زمینی سطح پر فضائی معیار کی پیمائش، سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار اور مقامی سرگرمیوں سے متعلق معلومات استعمال کی گئیں۔ ان میں ایندھن کا استعمال، گاڑیوں کی اقسام اور تعداد، صنعتی اداروں کا ریکارڈ اور مختلف شعبوں سے خارج ہونے والے آلودہ ذرات اور گیسوں کی مقدار شامل ہے۔

رپورٹ میں پی ایم 2.5، کاربن مونو آکسائیڈ، نائٹروجن آکسائیڈز اور سلفر ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق لاہور میں پی ایم 2.5 کی سالانہ اوسط مقدار 110 مائیکروگرام فی مکعب میٹر سے زیادہ ہے، جو عالمی ادارہ صحت کی مقررہ سالانہ حد پانچ مائیکروگرام فی مکعب میٹر سے 22 گنا زیادہ بنتی ہے۔

رپورٹ میں لاہور میں فضائی آلودگی کے بنیادی ذرات کے اخراج میں ٹرانسپورٹ کا حصہ 35 فیصد، صنعتوں کا 28 فیصد اور اینٹوں کے بھٹوں کا 17 فیصد بتایا گیا ہے۔ ان ذرائع سے خارج ہونے والے آلودہ ذرات شہری فضائی معیار کو متاثر کر رہے ہیں، جبکہ سرد موسم میں آلودگی کی صورت حال مزید خراب ہو سکتی ہے۔

کراچی میں صنعتی سرگرمیاں فضائی آلودگی کا سب سے بڑا ذریعہ قرار دی گئی ہیں، جہاں صنعتی شعبے کا حصہ 49 فیصد بتایا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق غیر منظم صنعتی مراکز، ہیوی فیول آئل کا استعمال اور بندرگاہوں سے متعلق سرگرمیاں شہر میں آلودگی بڑھانے والے اہم عوامل ہیں۔

اسلام آباد اور راولپنڈی میں ٹرانسپورٹ سے متعلق اخراج کا حصہ 53 فیصد بتایا گیا ہے۔

رپورٹ میں فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے شہروں کی انتظامی حدود کے بجائے مشترکہ فضائی خطوں (ایئرشیڈز) کی بنیاد پر پالیسی سازی اور نگرانی کا نظام قائم کرنے کی سفارش کی گئی ہے، تاکہ مختلف علاقوں میں آلودگی کے ذرائع اور ان کے اثرات کو یکجا کرکے مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔

Load Next Story