آپ ماضی کی یادوں میں کھوئے رہتے ہیں یا مستقبل کے خواب دیکھتے ہیں؟ جانیے اس کے پیچھے چھپی نفسیات
کیا آپ بھی پرانی تصویریں دیکھ کر، بچپن کی یادیں تازہ کر کے یا گزرے ہوئے خوبصورت لمحات کو یاد کر کے خوش ہوتے ہیں، جبکہ آپ کے اردگرد کچھ لوگ ماضی کے بجائے مستقبل کے منصوبوں پر بات کرنا پسند کرتے ہیں؟
ماہرینِ نفسیات کے مطابق لوگوں کے ماضی اور مستقبل کو دیکھنے کے انداز مختلف ہوتے ہیں۔ کچھ افراد پرانی یادوں سے جذباتی سکون حاصل کرتے ہیں، جبکہ دوسرے آنے والے وقت، نئے تجربات اور اپنے مقاصد پر توجہ مرکوز رکھنا پسند کرتے ہیں۔
تاہم، ان دونوں رویوں میں سے کسی ایک کو دوسرے سے بہتر قرار نہیں دیا جا سکتا۔
کچھ لوگ ماضی کی یادوں میں کیوں کھوئے رہتے ہیں؟
نفسیات میں ماضی کی خوشگوار یادوں سے جذباتی وابستگی کو نوسٹیلجیا (Nostalgia) کہا جاتا ہے۔
ایسے افراد کے لیے پرانی تصاویر، بچپن کے واقعات، دوستوں کے ساتھ گزارا ہوا وقت یا کوئی پرانا گانا محض یادیں نہیں بلکہ خوشی، اپنائیت اور جذباتی سکون کا ذریعہ ہوتے ہیں۔
2020 میں سائنسی جریدے ’فرنٹیئرز آف سائیکالوجی‘میں شائع ہونے والے ایک تحقیقی جائزے کے مطابق ماضی کی بامعنی یادیں انسان میں سماجی تعلق، زندگی کے مقصد اور امید کے احساس کو مضبوط بنانے میں مدد دے سکتی ہیں۔
خاص طور پر زندگی میں تبدیلی یا غیر یقینی صورتحال کے دوران پرانی یادیں بعض افراد کو جذباتی سہارا فراہم کرتی ہیں۔
2013 میں پرسنیلیٹی اینڈ انڈیویڈیول ڈفرنسس میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں نوسٹیلجیا اور سماجی تعلق کی ضرورت کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا۔
تحقیق کے مطابق جو افراد دوسروں کے ساتھ جذباتی تعلق اور اپنائیت کی زیادہ خواہش رکھتے ہیں، وہ نسبتاً زیادہ پرانی یادوں کی طرف مائل ہو سکتے ہیں۔
تاہم، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ماضی کو یاد کرنے والا ہر شخص تنہا یا اپنی موجودہ زندگی سے ناخوش ہے۔
کچھ لوگ ماضی کے بجائے مستقبل پر کیوں توجہ دیتے ہیں؟
دوسری جانب بعض افراد گزرے ہوئے لمحات کو بار بار یاد کرنے کے بجائے آنے والے مواقع اور نئی کامیابیوں کے بارے میں سوچنا پسند کرتے ہیں۔
مثال کے طور پر، کچھ لوگ کسی سفر سے واپسی کے بعد اس کی تصاویر دیکھنے میں وقت گزارتے ہیں، جبکہ دوسرے فوراً اگلے سفر کی منصوبہ بندی شروع کر دیتے ہیں۔
ایسے افراد کو مستقبل کے اہداف، نئی کامیابیوں اور مختلف تجربات کا تصور زیادہ پُرجوش محسوس ہو سکتا ہے۔
یہی فرق بعض اوقات قریبی رشتوں میں غلط فہمی کا باعث بن سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، ایک شریکِ حیات پرانی ملاقاتوں اور خوبصورت یادوں کو دہرانا چاہتا ہے، جبکہ دوسرا مستقبل کے منصوبوں پر بات کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔
اس کا لازمی مطلب یہ نہیں کہ دوسرے شخص کے لیے پرانی یادوں کی کوئی اہمیت نہیں، بلکہ دونوں کے جذبات کے اظہار اور زندگی کو دیکھنے کے انداز مختلف ہو سکتے ہیں۔
ماہرینِ نفسیات کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ماضی کی یادوں سے سکون حاصل کرنا اور مستقبل کے لیے پُرجوش رہنا دونوں انسانی تجربات کا حصہ ہیں۔ ضروری نہیں کہ انسان صرف ایک ہی انداز رکھتا ہو، وہ اپنی زندگی کے مختلف مراحل میں دونوں رجحانات ظاہر کر سکتا ہے۔