یونیورسٹیوں میں ترجمہ قرآن کی تدریس ختم کرنے پر ایچ ای سی جواب طلب

کے پی اسمبلی و سینیٹ نے ترجمہ قرآن کی قراردادیں منظور کیں مگر ایچ ای سی نے عمل نہ کیا اور عربی گرامر متعارف کرادی

پشاور:

پشاور ہائی کورٹ نے یونیورسٹیوں میں ترجمہ قرآن کی تدریس ختم کرنے سے متعلق ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے اعلامیے کے خلاف دائر رٹ پٹیشن  پر ایچ ای سی سمیت دیگر متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔

درخواست کی سماعت جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل بینچ نے کی۔ دوران سماعت درخواست گزار امان اللہ  حقانی کے وکیل سردار امان مؤقف اختیار کیا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی نے 2020ء جبکہ سینیٹ نے 2023ء میں ترجمہ قرآن کی تدریس سے متعلق قراردادیں منظور کی تھیں، جن کی روشنی میں ملک بھر کی یونیورسٹیوں میں طلبہ کو قرآن مجید کا ترجمہ پڑھانے کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا۔

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ترجمہ قرآن کی تدریس سے یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم مسلمان طلبہ مستفید ہورہے تھے، تاہم 2025ء میں ایچ ای سی نے ایک نیا اعلامیہ جاری کرتے ہوئے یونیورسٹیوں میں عربی گرامر متعارف کرانے کی ہدایت کی۔

ان کے مطابق عربی گرامر کی تدریس شروع کرکے ترجمہ قرآن کی تعلیم ختم کرنا متعلقہ قراردادوں کی اصل روح کے منافی ہے۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ ایچ ای سی کے مذکورہ اعلامیے کو کالعدم قرار دیا جائے اور متعلقہ حکام کو یونیورسٹیوں میں ترجمہ قرآن کی تدریس بحال کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں۔

عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد ایچ ای سی سمیت دیگر متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب جمع کرانے کی ہدایت کردی۔

Load Next Story