مولانا آزاد کے انکشافات
zulfiqarcheema55@gmail.com
نہرو رپورٹ کے بعد جن عوامل نے مسلمانوں کی علیحدگی میں فیصلہ کن کردار ادا کیا، ان میں علّامہ اقبالؒ کی فکری راہنمائی اور 1937 کے انتخابات کے نتیجے میں بننے والی کانگریس کی حکومتیں اور ان کے اقدامات سرفہرست ہیں۔
ہندوستان کی گیارہ میں سے آٹھ ریاستوں میں کانگریس کی حکومتیں قائم ہوئیں تو انھوں نے وہاں صحیح معنوں میں ’’ہندو راج‘‘ قائم کردیا۔ جس سے ہندو قیادت کی اصل ذہنیت پوری طرح بے نقاب ہوگئی،کانگریس حکومتوں کے زیرِ اثر اسکولوں میں کانگریس کے جھنڈے کو سلامی دینا،گاندھی کی مورتی کے سامنے ماتھا ٹیکنا، ہندو دھرم کی عظمت کا ترانہ بندے ماترم گانا لازم قرار دے دیا گیا اور اردو کی جگہ ہندی زبان رائج کردی گئی، اس پر پورے ہندوستان کے مسلمان سراپا احتجاج بن گئے۔ دو سال بعد جب یہ حکومتیں ختم ہوئیں تو مسلمانوں نے یومِ نجات منایا۔
مگر ان دو سالوں میں واضح ہوگیا تھا کہ اب برصغیر میں ہندؤں اور مسلمانوں کے اکٹھا رہنے کا باب ہمیشہ کے لیے بند ہوگیا ہے۔ ہندو راج کی جھلک دیکھنے کے بعد مسلم لیگ ایک واضح نتیجے تک پہنچ گئی۔
چنانچہ اس سے اگلے ہی سال 1940ء میں برّصغیر کے ہر علاقے سے مسلمانوں کے اکابرین اور عوام لاہور میں اکٹھے ہوئے جہاں ایک لاکھ سے زیادہ پرجوش حاضرین کے سامنے علیحدہ وطن حاصل کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا، یہ اظہار ایک قرارداد کی صورت میں کیا گیا جسے بنگال کے معروف راہنما اے کے فضل الحق نے پیش کیا اور جس کا اردو ترجمہ مولانا ظفر علی خاں نے عوام کو سنایا اور عوام نے فلک شگاف نعروں سے اس کی تائید کی۔
ولی خان صاحب نے اپنی کتاب میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ صوبۂ سرحد میں عوام کی اکثریت ان کے والد عبدالغفار خان اور کانگریس کی حامی تھی۔ اس بارے میں کانگریس کے سب سے بڑے حامی اور پیروکار مولانا ابوالکلام آزاد کیا فرماتے ہیں۔ ان کے اپنے الفاظ میں سن لیجیے۔ india wins freedom میں آزادؔ صاحب لکھتے ہیں۔
’’اکتوبر کے نصف آخر میں جواہر لال نے ایک ایسا قدم اٹھایا جو غیر ضروری تھا اور میں نے اس وقت جس کی مخالف کی تھی۔ شمال مغربی سرحدی صوبے میں مسلمانوں کی زبردست اکثریت تھی۔ 1937 میں اور پھر 1946 سے وہاں وزارت پر کانگریس کا غلبہ تھا۔ دراصل صوبۂ سرحد سے متعلق تمام معاملات میں ہم عبدالغفار خاں اور ان کے بھائی ڈاکٹر خان صاحب پر بھروسہ کرنے کے عادی ہوچکے تھے، گاندھی جی کبھی کبھی مذاق میں کہتے تھے کہ سرحد سے متعلق سوالات پر ان کے اپنے (گاندھی جی کے) ضمیر کے نگران یہی خان برادران ہیں۔
اس اثنا میں ان تک یہ سرکاری اطلاعات پہنچ رہی تھیں کہ سرحد کے لوگوں کا بہت بڑا حصہ کانگریس اور خان بھائیوں کا مخالف ہے۔ مقامی دفاتر بار بار یہ کہتے تھے کہ کانگریس مقامی حمایت سے بڑی حد تک محروم ہوچکی ہے اور لوگوں نے اپنی وفاداریاں کانگریس سے ہٹا کر مسلم لیگ کو منتقل کردی ہیں۔
جواہر لال کا خیال تھا کہ یہ اطلاعات صحیح نہیں ہیں، وائسرائے لارڈ ویویل، جواہر لال سے متفق نہیں تھے، کانگریسی حلقوں میں یہ تاثر تھا کہ عوام کی زبردست اکثریت مسلم لیگ کے ساتھ ہے۔ جواہر لال نے کہا کہ وہ سرحد کا دورہ کریں گے اور صورتِ حال کا خود جائزہ لیں گے۔
جب میں نے یہ سنا تو میں نے جواہر لال سے کہا کہ انھیں کوئی عجلت پسندانہ کارروائی نہیں کرنی چاہیئے۔ جواہر لال نے حال ہی میں اپنا منصب سنبھالا تھا اور ابھی تک اپنی پوزیشن مستحکم نہیں کرسکے تھے۔ اس موقع پر ان کا سرحد کا دورہ مخالف عناصر کو یہ موقع دے سکتا تھا کہ وہ کانگریس کی مخالفت میں لوگوں کو منظم کریں۔
چونکہ سرکاری ملازمین کی اکثریت کانگریس کے خلاف تھی، اس لیے اگر وہ ان مخالف عناصر کی سرگرم حمایت نہ بھی کرتے، تب بھی ان کی ہمدردیاں تو انھی کے ساتھ ہوتیں۔ چنانچہ بہتر یہی ہوگا کہ وہ ایک مناسب وقت تک کے لیے اپنا دورہ ملتوی کر دیں۔ گاندھی جی نے بھی میرے خیال کی تائید کی لیکن جواہر لال مُصر رہے اور یہ کہا کہ نتائج جو کچھ بھی ہوں، وہ ضرور جائیں گے۔
1946میں حقیقی صورت حال یہ تھی کہ خان بھائیوں کو سرحد میں اتنی حمایت حاصل نہیں تھی جتنی کہ ہم دہلی میں بیٹھے ہوئے سوچتے تھے۔ جواہر لال جب پشاور پہنچے تو ان پر یہ انکشاف ایک ناخوش گوارصدمے کے ساتھ ہوا، اُس وقت ڈاکٹر خان صاحب صوبے کے وزیراعلیٰ تھے اور ان کی وزارت ایک کانگریسی وزارت تھی۔
جواہر لال جس وقت ہوائی اڈے پر اترے تو انھوں نے دیکھا کہ ہزاروں لوگ وہاں جمع ہیں اور مخالفانہ نعرے لگارہے تھے، وہ خود پولیس کی حفاظت میں تھے اور پوری طرح غیر موثر ثابت ہوئے۔ جیسے ہی جواہر لال باہر نکلے، ان کے خلاف نعرے لگائے گئے اور ہجوم میں سے کچھ لوگوں نے ان کی کار پر حملہ کرنا چاہا۔
اگلے روز جواہر لال پشاور سے قبائلی علاقوں کے دورے کی غرض سے روانہ ہوگئے۔ انھوں نے ہر جگہ لوگوں کے ایک بڑے حصے کو اپنا مخالف پایا۔ زیادہ تر وزیرستان کے مَلک و مشر ان کے خلاف مظاہروں کے ذمے دار تھے۔
بعض مقامات پر ان کی کار پر پتھر پھینکے گئے اور ایک پتھر جواہر لال کی پیشانی پر آلگا۔ واقعہ یہ ہے کہ بہر نوع، ایک خاصہ طاقت ور حلقہ خان بھائیوں کا مخالف تھا۔ وزیراعلیٰ کی حیثیت سے ڈاکٹر خان صاحب کے دورِ اقتدار نے اس مخالفت کو مزید تقویت عطا کی تھی۔ انھیں پورے صوبے کو جیتنے کا موقع حاصل تھا، مگر ان سے چند غلطیاں سرزد ہوئیں جنھوں نے ان کے مخالفین کی طاقت بڑھادی۔
ان میں سے بعض غلطیاں خالصتاً شخصی اور سماجی نوعیت کی تھیں۔ سرحدی عوام اپنی میزبانی کے لیے مشہور ہے۔ وہ اپنی روٹی کا آخری ٹکڑا بھی مہمان کے ساتھ بانٹنے پر تیار رہتا ہے اور اس کا دسترخوان سب کے لیے کھلا ہوتا ہے۔
وہ دوسروں سے بھی خاص طور پر ان لوگوں سے جنھیں معاشرے میں کوئی اونچا مرتبہ حاصل ہو، ایسی ہی میزبانی کی توقع رکھتا ہے۔ کسی قبائلی کو لوگوں سے کوئی چیز اس طرح الگ نہیں کرتی جتنی کہ کنجوسی اور فیاضی کا نہ ہونا۔ بدقسمتی سے یہی وہ معاملہ تھا جس میں صوبہ سرحد کے حکمران اپنے مقلدّوں کی توقعات سے بہت کمتر ثابت ہوئے۔
عام انتخابات کے دوران کانگریس نے خاصی بڑی رقمیں دے رکھی تھیں، مگر اس میں سے بہت کم خرچ کیا گیا تھا۔ایک موقع پر پشاور سے ایک بہت بڑا وفد الیکشن کے سلسلے میں مجھ سے ملاقات کے لیے کلکتے آیا۔
چونکہ وہ چائے کا وقت تھا، میں نے انھیں چائے اور بسکٹ پیش کیے۔ وفد کے کئی اراکین نے بسکٹوں کی طرف حیرانی سے دیکھا۔ ایک شخص نے ایک بسکٹ اٹھایا اور مجھ سے اس کا نام پوچھا۔ ایسا لگتا تھا کہ بسکٹ انھیں پسند آئے تھے اور پھر انھوں نے مجھے بتایا کہ ایسے ہی بسکٹ انھوں نے ڈاکٹرخان صاحب کے گھر پر دیکھے تھے‘‘۔
(جاری ہے)