سچ کی جستجو

کرسٹین امان پور 1958 میں لندن میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد ایرانی اور والدہ برطانوی تھیں

دنیا کی تاریخ میں کچھ عورتیں اپنے عہدے، شہرت یا دولت کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لیے پہچانی جاتی ہیں کہ انھوں نے طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے لوگوں سے سوال کرنے کی جرأت کی۔

انھوں نے جنگ کے میدانوں میں قدم رکھا، انسانی المیوں کو دنیا کے سامنے پیش کیا اور ان حکمرانوں کو بھی کٹہرے میں کھڑا کرنے کی کوشش کی، جن کے فیصلوں سے لاکھوں انسانوں کی زندگیاں متاثر ہوتی ہیں۔ کرسٹین امان پور ان عورتوں میں سے ایک ہیں جنھوں نے صحافت کو محض ایک پیشہ نہیں بلکہ سچ کی تلاش اور انسانی ضمیر کو بیدار کرنے کا وسیلہ بنایا۔

انیس اکتوبر 2026 کو یہ خبر سامنے آئی کہ سی این این کی ممتاز بین الاقوامی صحافی کرسٹین امان پور 43 برس کی وابستگی کے بعد جون 2027 میں اس ادارے سے علیحدہ ہوجائیں گی، یہ خبر محض خبر نہیں بلکہ ایک ایسے دور کے اختتام کا اعلان بھی تھا جس میں ٹیلی صحافت نے جنگ ،سیاست اور عالمی طاقت کے کھیل کو لاکھوں ناظرین تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ امان پور نے خود بھی اپنے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے اس طویل رفاقت کو یاد کیا۔

کرسٹین امان پور 1958 میں لندن میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد ایرانی اور والدہ برطانوی تھیں، ان کا بچپن ایران میں بھی گزرا۔ انھوں نے امریکا کی یونیورسٹی آف رہوڈ آئی لینڈ سے صحافت کی تعلیم حاصل کی اور 1983 میں سی این این کے بین الاقوامی شعبہ خبر میں سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا۔

وہ براہ راست کسی بڑے عہدے پر فائز ہوکر صحافت میں داخل نہیں ہوئی تھیں۔ وہ اپنی صلاحیت، محنت اور مسلسل جدوجہد سے آگے بڑھی اور بالآخر وہ نمایاں ترین بین الاقوامی صحافیوں میں شمار ہونے لگیں۔

یہ سفر عورت کی طاقت کی ایک اہم مثال ہے۔ ایک ایسے شعبے میں جہاں فیصلے کرنے والے عہدوں پر طویل عرصے تک مردوں کی اکثریت رہی، ایک عورت نے اپنی جگہ بنائی، لیکن اس کامیابی کو صرف ایک عورت کی ذاتی قابلیت کا نتیجہ قرار دینا کافی نہیں۔ یہ ان سماجی رکاوٹوں کو عبور کرنے کی جدوجہد کی کہانی بھی ہے جو عورت کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو اکثر اس کی جنس کے پیمانے پر پرکھتی ہیں۔

عورت جب کسی بڑے ادارے میں کامیابی حاصل کرتی ہے تو اس کی کامیابی کو اکثر غیرمعمولی واقعہ بناکر پیش کیا جاتا ہے ،گویا اس کی موجودگی ہی ایک حیرت انگیز بات ہو۔ مرد کی کامیابی کو اس کی قابلیت کا فطری نتیجہ سمجھا جاتا ہے جب کہ عورت کو بار بار یہ ثابت کرنا پڑتا ہے کہ وہ بھی وہی کام کرسکتی ہے۔ کرسٹین امان پور کا طویل صحافتی سفر اس ذہنیت کے خلاف ایک عملی جواب ہے۔

ان کا ایک بڑا امتحان جنگ کی رپورٹنگ تھی۔ خلیجی جنگ ،بوسنیا ،روانڈا ،عراق ،افغانستان اور مشرق وسطیٰ کے تنازعات نے ان کے کام کو عالمی سطح پر نمایاں کیا۔ جنگ کے میدان میں رپورٹنگ محض کیمرے کے سامنے کھڑے ہوکر خبریں پڑھنے کا نام نہیں، وہاں خوف، غیر یقینی ،تباہی اور موت ،انسان کے روزمرہ تجربے کا حصہ بن جاتے ہیں۔

ایک صحافی کو ایسے حالات میں معلومات کی تصدیق بھی کرنی ہوتی ہے، اپنی حفاظت بھی اور ان لوگوں کی کہانی بھی دنیا تک پہنچانی ہوتی ہے جن کی آواز طاقت کے شور میں دب جاتی ہے۔

بوسنیا کی جنگ کے دوران امان پور کی رپورٹنگ نے انھیں خصوصی شہرت دی۔ اس جنگ میں عام شہریوں کی ہلاکتوں، نسلی تشدد اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں نے یورپ کے ضمیر کو بھی سوالوں کے سامنے کھڑا کیا۔

انھوں نے صحافت میں غیرجانب داری کے روایتی تصور پر بحث کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا کہ بعض حالات میں ظلم کے معاملے پر خاموش غیرجانب داری خود ناانصافی کی معاون بن سکتی ہے۔ ان کے نزدیک صحافی کا کام صرف دو متحارب فریقوں کے بیانات برابر وقت کے لیے نشر کرنا نہیں بلکہ واقعات کی حقیقت، طاقت کے عدم توازن اور انسانی حقوق کی پامالی کو بھی سامنے لانا ہے۔

 یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔ صحافت میں غیرجانب داری کا مطلب یہ نہیں کہ ہر دعوے کو بلا تحقیق یکساں حیثیت دے دی جائے۔ صحافی کو حقائق کی تصدیق، مختلف فریقوں کا موقف اور اپنے ذرائع کی جانچ کرنی چاہیے، لیکن اگر ایک طرف جارحیت ہو اور دوسری طرف بے گھر شہری ہوں تو دونوں کی طاقت اور حالات کو نظرانداز کرکے محض رسمی توازن پیدا کرنا بھی حقیقت کو مسخ کرسکتا ہے۔ سچائی کے ساتھ وابستگی کا تقاضا ہے کہ صحافی اپنے تعصبات سے آگاہ رہے، شواہد کو اہمیت دے اور کسی بھی فریق کو سوال سے بالاتر نہ سمجھے۔

امان پور کی شخصیت میں عورت کی طاقت کا ایک اور پہلو بھی دکھائی دیتا ہے، طاقتور لوگوں سے سوال کرنے کی صلاحیت۔ عالمی رہنماؤں کے انٹرویوز میں ان کا انداز اکثر براہ راست اور غیرمصلحت پسند رہا ہے۔ ان کے سامنے بیٹھنے والا شخص کوئی صدر، وزیراعظم یا جنگی حکمت عملی بنانے والا رہنما ہوسکتا ہے لیکن صحافی کی بنیادی ذمے داری اس کی خوشنودی حاصل کرنا نہیں۔ سوال پوچھنا، تضادات کی نشان دہی کرنا اور جواب طلب کرنا اس پیشے کی بنیاد ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں عورت کی خودمختاری کا سوال صحافت کی آزادی سے جڑ جاتا ہے۔ ایک عورت کی آواز کو اکثر نرم، محتاط اور مصالحت پسند ہونے کی توقعات میں قید کیا جاتا ہے، اگر وہ سخت سوال کرے تو اسے تلخ کہا جاسکتا ہے، اگر وہ اپنے موقف پر قائم رہے تو اسے ضدی قرار دیا جاسکتا ہے۔ مرد صحافی کے اسی رویے کو بعض اوقات مضبوط پیشہ ورانہ شخصیت کا نام دیا جاتا ہے۔

امان پور کی مثال ہمیں یاد دلاتی ہے کہ سوال کی اہمیت سوال کرنے والے کی جنس سے نہیں، اس کی بنیاد اور استدلال سے طے ہونی چاہیے۔تاہم کسی صحافی کی شہرت اسے تنقید سے بالاتر نہیں کرتی۔ امان پور کی انفرادی جرأت اور عالمی میڈیا کے ادارہ جاتی کردار کو الگ الگ سمجھنا چاہیے۔ یہی تنقیدی نظر صحافت اور جمہوریت دونوں کے لیے ضروری ہے۔

 اس بحث کی اہمیت پاکستان جیسے سماج میں اور بڑھ جاتی ہے جہاں صحافیوں کو مختلف قسم کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خواتین صحافیوں کو صنفی تعصب اور کردار کشی کا بھی مقابلہ کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کے لباس ،آواز، ذاتی زندگی اور سیاسی خیالات کو اکثر ان کی پیشہ ورانہ کارکردگی سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔

ایسے ماحول میں کرسٹین امان پور کا سفر ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کسی عورت کی کامیابی کو محض اس کی ذاتی فتح سمجھ کر مطمئن ہوجانا کافی نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے سماج میں دوسری عورتوں کے لیے بھی وہ راستے کھول رہے ہیں جن پر چل کر وہ آزادانہ طور پر سوال کرسکیں۔

عورت کی طاقت کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ہر حال میں ناقابل شکست ہو یا اسے خوف محسوس نہ ہوتا ہو۔ طاقت کا مطلب یہ بھی ہے کہ خوف کے باوجود ذمے داری سے کام لیا جائے، غلطی کا امکان تسلیم کیا جائے اور دباؤ کے باوجود حقائق سے وابستگی برقرار رکھی جائے۔ ایک مضبوط صحافی وہ نہیں جو کبھی غلطی نہ کرے بلکہ وہ ہے جو اپنی غلطی درست کرنے اور اپنے کام کا حساب دینے کے لیے تیار ہو۔

کرسٹین امان پور کا صحافتی سفر ایک بنیادی سوال ہمارے سامنے چھوڑتا ہے، کیا صحافت طاقتور لوگوں کے بیانات دہرانے کا ذریعہ ہے یا ان سے جواب طلب کرنے کا وسیلہ ؟کیا عورت کی کامیابی صرف اس وقت قابل قبول ہے جب وہ روایتی نظام میں جگہ بنالے یا اس کی اصل کامیابی اس نظام کو بدلنے میں بھی ہے جو لاکھوں دوسری عورتوں کے راستے میں رکاوٹ ہے۔

عورت کی طاقت کا سب سے روشن اظہار شاید یہی ہے کہ وہ اپنے لیے کھلے ہوئے دروازے سے گزرنے پر اکتفا نہ کرے بلکہ یہ بھی پوچھے کہ باقی عورتوں کے لیے دروازے کیوں بند ہیں۔ کرسٹین امان پور کی کہانی کو اسی سوال کے ساتھ یاد رکھا جانا چاہیے، کیونکہ سچ کی جستجو ،سوال کرنے کی آزادی اور انسانی وقار کا دفاع کسی ایک صحافی کی میراث نہیں، یہ ہر اس انسان کی مشترکہ ذمے داری ہے جو ایک زیادہ منصفانہ دنیا کا خواب دیکھتا ہے۔

Load Next Story