خالص اشیا خوردنی کی نایابی

خالص اشیا کا حصول ملک میں جوئے شیر لانے کے مترادف ہو چکا ہے

m_saeedarain@hotmail.com

پنجاب کے بعد کئی سال قبل سندھ حکومت نے سندھ فوڈ اتھارٹی قائم کی تھی ۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی نے اپنے قیام کے بعد ہی ملاوٹ اور غیر معیاری اشیا خوردنی کی فروخت کے خلاف جو کارروائی شروع کی تھی، اس سے ملاوٹ مافیا میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا کیونکہ کسی امتیاز کے بغیر ملاوٹ کے خلاف کارروائیاں کی گئی تھیں۔

یہ ادارہ تاحال پنجاب میں بہتر کردار ادا کررہاہے جب کہ سندھ کا ادارہ بھی متحرک ضرور ہے لیکن اتنی تندہی نہیں ہے جتنی پنجاب میں دیکھنے میں آرہی ہے۔ پنجاب میں خالص اشیا خوردنی کا معیار بہتر ہوا تھا مگر سندھ میں صورتحال مختلف ہے۔

پورے ملک میں مضر صحت اور ملاوٹ اشیا تو سیکڑوں کی تعداد میں بنائی اور فروخت ہو ہی رہی ہیں اور دواؤں سے لے کر روزانہ کی زندگی میں استعمال ہونے والی اشیا خوردنی میں، اگر صرف دودھ ہی کی مثال لے لی جائے تو لاہور کے مقابلے میں کراچی میں دودھ مہنگا ہے ۔ دہی کے نرخوں پر تو کراچی انتظامیہ نے کبھی توجہ دینے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی اور دودھ اور دہی من مانے نرخوں پر فروخت ہوتا ہے۔

کراچی میں دودھ کا سرکاری نرخ دو سو چالیس روپے فی لیٹر مقرر ہے مگر دہی کا کوئی نرخ مقرر نہیں اور شہر میں دودھ کی طرح دہی بھی من مانے نرخوں پر دستیاب ہے جس کا معیار چیک برائے نام ہی چھاپوں میں نظر آتا ہے مگر غیر معیاری و مضر صحت دودھ دہی فروخت کرنے پر جرمانے تو ہوئے مگر عدالت سے سزا کسی کو نہیں ہوئی۔

دودھ دہی ہر گھر کی ضرورت ہے خصوصاً بچوں کے لیے دودھ بہت ضروری ہے جو ان کے مستقبل کی صحت پر اثرانداز ہوتا ہے ۔ لاہور میں دودھ دہی کے نرخ بھی کم ہیں بلکہ فروخت کرنے والے دودھ کا نرخ نمایاں طور پر آویزاں کرتے ہیں بلکہ معیار کی شرطیہ گارنٹی بھی دیتے ہیں اور دہی دودھ کے نرخ سے صرف بیس تیس روپے کے اضافے سے فروخت ہوتی ہے۔

کراچی میں دودھ ڈھائی سو روپے فی لیٹر اور دہی دو سو اسی روپے سے تین سو روپے فی کلو دستیاب ہے اور بعض دکانوں پر ایک لیٹر دودھ خریدنے پر آدھا لیٹر دودھ فری، کہیں ایک پاؤ فری سرکاری نرخ کے بینرز بھی آویزاں نظر آتے ہیں مگر مختلف نرخوں پر دودھ فروخت کرنے والوں سے سندھ فوڈ اتھارٹی دودھ کے معیار کا پوچھتی ہے اور نہ کراچی انتظامیہ کہ وہ سرکاری نرخ کے برعکس مختلف نرخوں پر دودھ کیسے فروخت کر رہے ہیں۔

سوشل میڈیا کے مطابق خالص دودھ پتی چائے فروخت کرنے والے ہوٹلوں پر دودھ کے ڈرم اترتے کبھی نظر نہیں آئے تو وہ کون سا دودھ استعمال کرکے دودھ پتی چائے پلاتے آ رہے ہیں۔ چائے کے ہوٹل ہوں یا کھانوں کے ہوٹل ان پر حکومتی ٹیم کے چھاپے لگتے ہی نہیں نہ ان سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ کون سا دودھ اور چائے کی پتی مسالہ جات، گوشت، گھی وغیرہ استعمال کرتے ہیں جب کہ وہ نرخ اپنی مرضی کے وصول کرتے آ رہے ہیں۔

خالص اشیا کا حصول ملک میں جوئے شیر لانے کے مترادف ہو چکا ہے کیونکہ مضر صحت اور غیر معیاری اشیائے خوردنی کا معیار چیک کرنے اور ان کے سیمپل سرکاری لیبارٹریوں سے چیک کرنے کا اختیار پہلے بلدیاتی اداروں کے پاس تھا اور لیبارٹری کی منفی رپورٹ پر ذمے داروں کے عدالتوں میں چالان ہوتے تھے مگر اب ایسا نہیں ہے۔

انتظامیہ معیار کی بجائے نرخوں پر جرمانے کرتی ہے اور معیار چیک کرنے والے اہلکاروں کو ایسی جگہوں سے مفت کھانے پینے اور کمائی کے حصول سے زیادہ دلچسپی ہے انھیں عوام کی صحت کا خیال تک نہیں ہے۔

کھانے پینے کی اشیا میں ملاوٹ کو روکنا حکومتی اداروں کا بنیادی کام ہے، ادھر یہ بھی دیکھنے کی بات ہے کہ جن چیزوں کی ملاوٹ کی جاتی ہے ‘وہ کیمیکل حکومت کی منظوری سے درآمد کیے جاتے ہیں ۔پورے ملک کی مارکیٹوں میں درآمد شدہ خشک دودھ فروخت ہو رہا ہے، اگر یہ مضر صحت ہے تو پھر درآمد کیسے ہو جاتا ہے۔

اسی طرح کھانے پینے کی دیگر اشیاء میں جو کیمیکل استعمال ہوتے ہیں وہ بھی درآمد کیے جاتے ہیں۔ حکومت کی یہ عجیب و غریب پالیسی ہے کہ ایک جانب خشک دودھ درآمد کیا جاتا ہے تو دوسری جانب اگر اس دودھ کو لیکوڈبنا کر فروخت کیا جاتا ہے تو وہ مضر صحت کیسے ہو گیا۔ ادھر ڈبوں میں پیک اشیا کی کوالٹی چیک کا کوئی معیار نہیں ہے۔ زائد المیعاد اشیا بھی مارکیٹ میں فروخت ہو رہی ہیں‘ان پر جو لیبل چسپا ہوتے ہیں ‘ان میں گڑ بڑ کر دی جاتی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ ادویات میں بھی ملاوٹ کی جاتی ہے۔

کراچی شہر پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے‘ اس شہر میں مختلف لسانی گروہ آباد ہیں‘ اس شہر میں اشیائے خورونوش کی کوالٹی چیک کرنا انتہائی مشکل کام ہے ۔پنجاب کو دودھ کا گھر کہا جاتا ہے جب کہ اندرون سندھ میں بھی مویشی موجود ہیںتاہم کراچی چونکہ سمندر کے کنارے آباد ایک شہر ہے‘ اس شہر میں دودھیل جانوروں کی افزائش زیادہ نہیں ہو سکتی ‘یہاں گائے اور بھینسیں اندرون سندھ اور پنجاب سے لائی جاتی ہیں ‘اس لیے کراچی میں دودھ اور دہی بھی مہنگا ہے۔

Load Next Story