سندھ ہائیکورٹ نے صوبائی پبلک سروس کمیشن کے امتحانی نتائج ایک مرتبہ پھر روک دیے
سندھ ہائیکورٹ نے سندھ پبلک سروس کمیشن کے 2024 کے امتحانی نتائج ایک مرتبہ پھر روک دیے۔
سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے سندھ پبلک سروس کمیشن کے امتحان 2024 کے زبانی امتحان کے نتائج کے خلاف درخواستوں پر سماعت کے بعد تحریری حکم جاری کردیا۔
عدالت نے ایک مرتبہ پھر امتحانی نتائج روکنے اور آئندہ سماعت تک حالات جوں کے توں رکھنے کی ہدایت کردی، عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ سے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر مزید دلائل طلب کرلیے۔
عدالت نے سندھ پبلک سروس کمیشن کی جانب سے وفاقی آئینی عدالت میں ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف دائر اپیل کی تفصیلات بھی طلب کرلیں، وفاقی آئینی عدالت نے 15 جولائی کو سندھ ہائیکورٹ کے چھ عبوری احکامات پر عمل درآمد معطل کردیا تھا۔
عدالت نے کہا کہ موجودہ درخواستیں پہلے مقدمے سے مختلف اور نئی قانونی بنیاد پر دائر کی گئی ہیں، صرف 2024 کے امتحانات سے متعلق ہونا دونوں مقدمات کی قانونی بنیاد یکساں ہونے کے لیے کافی نہیں۔
ضمیر احمد سمیت 28 امیدواروں کی جانب سے دائر کردہ درخواستوں میں کہا گیا ہے کہ سندھ پبلک سروس کمیشن کے تحریری امتحان میں اچھے نمبروں سے کامیابی حاصل کی تھی لیکن سندھ پبلک سروس کمیشن نے انٹرویوز میں فیل کردیا، ہمارے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے۔