عالمی بحران کا بوجھ عوام پر، آئل ریفائنریز کا نفع 1100 گنا کیسے بڑھ گیا؟ حافظ نعیم

پالیسی ریٹ میں مزید اضافے سے صنعت کار اور برآمد کنندگان پریشان ہیں، امیر جماعت اسلامی

فوٹو: جماعت اسلامی

کراچی:

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے سوال اٹھایا ہے کہ حکومت نےعالمی بحران کا سارا بوجھ عوام پر ڈال دیا، آئل ریفائنریز کا نفع 1100 گنا کیسے بڑھ گیا؟

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ پورا ملک مہنگائی کا شکار ہے، پیٹرول کی اضافی قیمتوں اور بجلی کی بندش کے مسائل درپیش ہیں، جبکہ آنے والی صورتحال مزید سنگین ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسی صورت حال میں حکومت کا کام عوام کو ریلیف دینا ہے، لیکن ہماری حکومتیں ریلیف دینے کے بجائے بحران کو بڑھا دیتی ہیں۔ ایسے حالات میں حکومت مزید قرضے لیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اب تک جن طبقات نے حکومت کی ہے، وہ ناکام ہوگئے ہیں، اس میں سب سے بڑا کردار بیوروکریسی کا ہے۔

حافظ نعیم کا کہنا تھا کہ یہ وڈیرے اور بیوروکریسی فائدہ اٹھاتے ہیں، بحرانوں میں مافیا کو فائدہ پہنچتا ہے اور عوام پس جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عالمی سطح پر بڑھی ہیں، لیکن پیٹرولیم لیوی، جسے ہم بھتہ ٹیکس کہتے ہیں، ختم نہیں کیا جارہا۔ وزیراعظم اور ان کی ٹیم سے ملاقات میں بھی لیوی سے متعلق آواز اٹھائی گئی، لیکن کسی کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ حکومت کے مطابق لیوی ختم کرنے سے اسے پیسے نہیں ملیں گے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت پیٹرولیم لیوی سے ڈیڑھ سو ارب روپے وصول کررہی ہے، جس میں سے صرف 21 ارب روپے عوام کو ریلیف دینے پر خرچ کیے جارہے ہیں۔ حکومت جو ریلیف دے رہی ہے، اسے بھی ہم روک نہیں سکتے، ایک کروڑ لوگوں کو ریلیف پروگرام کا فائدہ پہنچ رہا ہے، تاہم حکومت لیوی ختم کرنے کو تیار نہیں، البتہ ریلیف کا دائرہ بڑھانے کا وعدہ کیا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی کے خلاف لانگ مارچ نومبر کے وسط میں ہوگا، تاہم اس وقت کی صورتحال کو دیکھ کر حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اپنے فائدے کے لیے مافیا اپنے حساب سے حکومت سے مسائل کا حل نکال لیتا ہے، لیکن عوام کو ریلیف نہیں ملتا۔ ایل پی جی کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سود کے ریٹ بڑھانے سے معیشت پر بوجھ پڑتا ہے، جس کا شکار حکومت نہیں بلکہ عوام ہوتے ہیں۔ بینک مافیا عوام کے پیسوں سے حکومت کو قرضے دیتا ہے، جبکہ حکومت یہ پیسہ لیوی سے وصول کرکے ادا کرتی ہے۔ بینک مزے کررہے ہیں اور ان کے پیسوں میں اضافہ ہورہا ہے اور عوام معاشی مشکلات برداشت کررہے ہیں۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کا کام عوام کی آواز بننا ہے، لیکن افسوس کہ یہ جماعتیں مافیا کے خلاف آواز نہیں اٹھاتیں، کیونکہ مافیاز ان سیاسی جماعتوں کا حصہ ہیں۔ یہ لوگ مافیا کو تحفظ فراہم کرتے ہیں اور عوام کے لیے آواز نہیں اٹھاتے۔ انہوں نے کہا کہ اسی لیے ہم اسلحہ اور جلاؤ گھیراؤ نہیں کرتے بلکہ پرامن احتجاج کرتے ہیں، جو ہمارا آئینی حق ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت جاگیرداروں، چینی، آٹا، گیس اور ریفائنری مافیا کو قابو کرنے میں ناکام ہے۔ بحران کے دوران عوام کو قربانی کا بکرا بنایا جاتا ہے اور مافیا کو تحفظ دیا جاتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں آئل ریفائنریز کا منافع 11 گنا کیسے بڑھ گیا ۔ عالمی بحران کے دوران ان کے منافع میں 1100 فیصد اضافہ کیسے ہوا؟

انہوں نے کہا کہ حکومت کو بحران کے دوران ریفائنریز کے منافع کی شرح کم کرنی چاہیے تھی۔ حکومت ناجائز منافع خوری اور مختلف ڈیوٹیز کے ذریعے عوام پر بوجھ ڈالنے والوں کو قابو کرے۔ آئل ریفائنریز اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے منافع میں اضافہ ہوا، جبکہ پیٹرولیم ڈیلرز نے بھی اپنا منافع بڑھا لیا اور سارا بوجھ عوام برداشت کررہے ہیں۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ مہنگے پیٹرول اور بجلی نے صنعتوں، چھوٹی صنعتوں اور عام شہریوں کو مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ پیٹرول کی قیمت بڑھتے ہی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ حکومت کے پاس اشیائے ضروریہ کی قیمتیں کنٹرول کرنے کا کوئی مؤثر نظام نہیں۔ مقامی حکومتوں کا بھی ایسا مؤثر نظام موجود نہیں جو بازاروں میں قیمتوں کو کنٹرول کرسکے۔

انہوں نے کہا کہ ایل پی جی کی قیمت تقریباً 250 روپے ہونے کے باوجود مارکیٹ میں 500 سے 600 روپے میں فروخت ہوتی ہے۔ حکومت کی رٹ کا مطلب صرف آپریشن کرنا نہیں، بلکہ قیمتیں کنٹرول کرنا اور عوام کو ریلیف دینا بھی ہے۔ حکومت کی ذمہ داری مافیا کو لگام دینا اور عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پالیسی ریٹ میں مزید 0.5 فیصد اضافے سے صنعت کار اور برآمد کنندگان پریشان ہیں۔ حکومت نے شرح سود کو سنگل ڈیجٹ میں لانے کا وعدہ کیا تھا، لیکن شرح سود میں اضافے سے کاروباری طبقے اور برآمد کنندگان کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ حکومت مہنگائی کے اسباب جانتی ہے، لیکن عوام کو ریلیف دینے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کررہی۔

Load Next Story