پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس، گورنر راج، ایمرجنسی کی مذمت اور سہیل آفریدی کے کردار کی تعریف

 پارلیمانی پارٹی نے قیادت کے کردار کو سراہا، پارلیمانی پارٹی نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے کردار کو بھی سراہا

پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس 8 گھنٹے جاری رہا، اجلاس میں 70 ایم این ایز اور سینیٹرز نے شرکت کی، 28ویں ترمیم ایجنڈے میں شامل تھی نہ اس پر بحث ہوئی،28ویں ترمیم پر کوئی فیصلہ یا تجویز سامنے نہیں آئی۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ مشترکہ پارلیمانی پارٹی نے قیادت پر متفقہ اعتماد کا اظہار کیا، پارلیمانی پارٹی نے قیادت کے کردار کو سراہا، پارلیمانی پارٹی نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے کردار کو بھی سراہا۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں اپوزیشن لیڈرز کی قیادت پر بھی اعتماد کا اظہار کیا گیا، گورنر راج اور ایمرجنسی کی پارلیمانی پارٹی نے شدید مذمت کی، گورنر راج سے پیدا ہونے والے خلا پر بھی اجلاس میں غور ہوا، پارلیمانی پارٹی خلا کو پُر کرنے کے لیے فعال کردار ادا کرے گی۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی کی سفارشات دونوں اپوزیشن لیڈرز کو بھجوا دی گئی ہیں، محمود خان اچکزئی اور علامہ راجا ناصر عباس کو سفارشات بھجوائی گئی ہیں، دونوں اپوزیشن لیڈرز کی منظوری کے بعد سفارشات حتمی ہوں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ 28ویں ترمیم پر پارٹی کا مؤقف پہلے سے واضح ہے، متنازعہ قانون سازی سے گریز کیا جائے، جلد بازی میں قانون سازی سے مزید بحران پیدا ہوسکتا ہے، عوام کی مرضی کے بغیر صوبوں کی تقسیم نہیں ہونی چاہیے، نئے صوبے بنانے کا فیصلہ عوام کی مرضی سے ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ صوبوں کے معاملے پر قومی اتفاق رائے ضروری ہے، پارلیمانی پارٹی ایمرجنسی اور گورنر راج رول بیک کرانے کے لیے کردار ادا کرے گی۔

Load Next Story