کراچی میں ایچ ون این ون انفلوئنزا پھیلنے لگا، 400 کیسز رپورٹ
شہر کے سرکاری اور نجی اسپتالوں میں فلو کی علامات کے ساتھ آنے والے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا، آغا خان اسپتال میں رواں سال انفلوئنزا کے 400 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر فیصل محمود کے مطابق کراچی میں انفلوئنزا کا ایچ ون این ون ویرینٹ شہریوں کو متاثر کر رہا ہے، یہی وائرس 2009 میں سوائن فلو کے نام سے سامنے آیا تھا۔ وائرس میں ہر سال تبدیلی کے باعث اس کے نئے ویرینٹس سامنے آتے ہیں اور رواں سال کے آخر تک انفلوئنزا کے کیسز میں مزید اضافے کا امکان ہے۔
ڈاکٹر فیصل محمود کا کہنا ہے کہ انفلوئنزا کے تمام مریضوں کے ٹیسٹ نہیں کیے جاتے صرف شدید بیمار افراد کے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔ انفلوئنزا کی پیچیدگیوں میں نمونیا سمیت دیگر سنگین طبی مسائل پیدا ہوسکتے ہیں، اس لیے اس سے بچاؤ کے لیے ویکسین اہم حفاظتی اقدام ہے۔ بزرگوں، بچوں اور کمزور قوت مدافعت والے افراد کو انفلوئنزا کی ویکسین لگوانی چاہیے۔
دوسری جانب سول اسپتال کراچی میں بھی فلو کے مریضوں کی تعداد بڑھ گئی ہے۔ انچارج ڈاکٹر عمران سرور شیخ کے مطابق اسپتال میں روزانہ فلو کی شکایت کے ساتھ 70 سے 80 مریض رپورٹ ہو رہے ہیں، جبکہ مریضوں کی تعداد میں دگنا اضافہ ہوا ہے۔ سول اسپتال میں ہر ماہ انفلوئنزا کے 10 سے زائد مشتبہ کیسز سامنے آ رہے ہیں، جبکہ انفلوئنزا کے شبے میں متعدد مریضوں کو ڈاؤ اسپتال بھیجا جاتا ہے۔
جناح اسپتال میں بھی فلو کی علامات والے مریضوں کی تعداد بڑھنے لگی ہے۔ ایمرجنسی انچارج ڈاکٹر عرفان کے مطابق اسپتال میں انفلوئنزا سے ملتی جلتی علامات کے ساتھ مریض رپورٹ ہو رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق انفلوئنزا کی علامات میں تیز بخار، نزلہ اور کھانسی شامل ہیں، جبکہ کمزور قوت مدافعت والے افراد میں نظامِ تنفس کا انفیکشن بھی ہوسکتا ہے۔ اس کی پیچیدگیوں میں نمونیا اور پھیپھڑوں میں پانی بھرنا شامل ہیں۔
ماہرین نے شہریوں کو ماسک استعمال کرنے اور سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے صحت مند غذا کو ترجیح دینے کا مشورہ دیا ہے۔ ان کے مطابق شوربے، سوپ اور رس دار پھلوں کا زیادہ استعمال کرنا چاہیے، جبکہ بیمار افراد کے قریب رہنے والوں کو بھی ماسک استعمال کرنا چاہیے۔ انفلوئنزا سے بچاؤ کے لیے مخصوص ویکسین بھی دستیاب ہے۔