وزیراعظم کی اسلام آباد کے سرکاری اسکولوں میں اصلاحات کو فوری نافذ کرنے کا حکم

انفرا اسٹرکچر، نصاب، اساتذہ کی تربیت شامل،اسکول بسوں کا دائرہ کار بڑھانے اور طلبا کو مفت لنچ کا نظام فعال بنانے کا حکم

اسلام آباد:

وزیراعظم نے اسلام آباد کے سرکاری اسکولوں میں انفرا اسٹرکچر، نصاب، اساتذہ کی تربیت اور دیگر اصلاحات کو ہنگامی بنیادوں پر نافذ کرنے کی ہدایت کردی۔

وزیراعظم کی زیرِصدارت اسلام آباد میں اسکولوں میں اصلاحات کے حوالے سے اعلیٰ سطح  اجلاس ہوا۔ وزیراعظم نے وفاقی وزیر ترقی و منصوبہ بندی احسن اقبال کو اسلام آباد میں سرکاری اسکولوں کے مسائل ایک ہفتے میں حل کرنے کی ہدایت کی۔

انہوں نے کہا کہ طلبا و طالبات کو اسکولوں میں محفوظ ماحول فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، تمام اسکولوں میں اسمارٹ بورڈز جلد از جلد نصب کیے جائیں،شہباز شریف نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت میں اسکولوں کے مسائل حل کرنے کے لیے تمام وسائل فوری طور پر بروئے کار لائے جائیں۔

وزیراعظم نے فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کو ایک مؤثر اور فعال ادارے میں تبدیل کرنے کے لیے حکمت عملی تشکیل دینے کی ہدایت کی اور کہا کہ اسلام آباد کے سرکاری اسکولوں میں انفراسٹرکچر کے تمام مسائل ہنگامی بنیادوں پر حل کیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی بھرتیاں صرف اور صرف میرٹ کی بنیاد پر کی جائیں، اسلام آباد کے سرکاری اسکولوں کے اساتذہ تعلیم و تدریس کے علاوہ کسی اور سرگرمی میں حصہ نہیں لیں گے۔

وزیراعظم نے طلبا و طالبات کے لیے سرکاری اسکول بسوں کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینے، بسوں کی آؤٹ سورسنگ اور تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کی ہدایت کی۔ شہباز شریف نے جسمانی طور پر معذور طلباء و طالبات کے لئے تمام سرکاری اسکولوں میں ریمپ قائم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری اسکولوں میں بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ اسلام آباد میں طلبا و طالبات کی غذائی نشوونما یقینی بنانے کے لیے مفت لنچ کا نظام فعال کیا جائے۔ وزیراعظم نے سرکاری اسکولوں میں شمسی توانائی کو فروغ دینے کی بھی ہدایت کی۔

اجلاس میں وفاقی دارالحکومت کے سرکاری اسکولوں میں نصاب، انفراسٹرکچر اور دیگر امور کے حوالے سے سروے رپورٹ پیش کی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا  کہ اسلام آباد میں سرکاری سکولوں کے طلبا و طالبات کی نقل و حمل کے لیے 278 سرکاری بسیں چل رہی ہیں۔

Load Next Story