ماؤ زے تنگ سے متعلق متنازع بیان، چین نے ایمباپے کی معذرت قبول کرلی

ہم متعلقہ شخص کی جانب سے کی گئی معذرت کو سنجیدگی سے لیتے ہیں: چین

ماؤ زے تنگ سے متعلق متنازع بیان، چین نے ایمباپے کی معذرت قبول کرلی

چین نے فرانس کے کپتان اور ریئل میڈرڈ کے اسٹار فٹبالر کائلین ایمباپے کے چین کے سابق عظیم رہنما ماؤ زے تنگ سے متعلق متنازع بیان پر معذرت قبول کرلی۔ ان کے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر مداحوں اور مختلف برانڈز کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا تھا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گوو جیاکُن نے بدھ کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’ہم متعلقہ شخص کی جانب سے کی گئی معذرت کو سنجیدگی سے لیتے ہیں۔‘‘

 27 سالہ ایمباپے نے فرانسیسی ٹاک شو دی برج میں گفتگو کرتے ہوئے ماؤ زے تنگ سے مشابہت رکھنے والے ایک میم کا ذکر کیا اور انہیں چینی آمر قرار دیا تھا۔

ایمباپے نے کہا تھا کہ انہیں ایک ایسا میم سب سے زیادہ ہنساتا ہے جس میں ایک شخص کی ویڈیو دکھائی گئی ہے، جو ان کے خیال میں ایک چینی آمر ہے۔ اس میم میں ماؤ زے تنگ سے مشابہ تصویر پر ایمباپے کا چہرہ لگا کر دکھایا گیا تھا۔

بیان پر تنقید کے بعد فرانسیسی فٹبالر نے اپنے تبصرے کو غیر دانشمندانہ قرار دیتے ہوئے معذرت کی۔

ایمباپے کلب کی سطح پر ریئل میڈرڈ جبکہ بین الاقوامی سطح پر فرانس کی قومی ٹیم کے کپتان ہیں۔ ان کے قائدانہ انداز کو ماضی میں ڈریسنگ روم میں آمرانہ طرزِ عمل سے بھی تشبیہ دی جاتی رہی ہے۔

Load Next Story