برطانیہ:17 کروڑ سال قدیم سمندری ڈائنو سارکی باقیات دریافت

دونوں سیاحوں ان باقیات کی دریافت اتفاقیہ طور پر ہوئی

برطانیہ میں اتفاقی طور پر سیاحوں کے ہاتھوں دریافت ہونے والی ایک دیوہیکل سمندری ڈائنوسار کی باقیات پہلی بار نمائش کے لیے پیش کردی گئی ہیں۔

17 کروڑ 40 لاکھ سال قبل سمندر میں رہنے والے 10 میٹر لمبے ایک دیوہیکل اِکتھیوسار کی فوسل شدہ ہڈیاں اتفاقیہ طور پر دریافت ہوئیں۔ یہ قدیم سمندری شکاری تھا۔

بیلجیئم سے تعلق رکھنے والے سیاح مشیل پلسارٹ اور کیرین کرسٹنز انگلینڈ کے علاقے ڈورسیٹ میں بریڈپورٹ کے قریب ساحل پر چہل قدمی کر رہے تھے کہ انہیں چٹان کا ایک حصہ دکھائی دیا، جس میں سے ہڈیوں کے ٹکڑے باہر نکلے ہوئے تھے۔

دونوں سیاحوں نے قریب جا کر معائنہ کیا اور ہڈی کا ایک ٹکڑا نکال کر جانچ کے لیے ماہرین کے حوالے کردیا۔

حیرت انگیز طور پر یہ فوسل برطانیہ میں اب تک دریافت ہونے والی اپنی نوعیت کی سب سے کم عمر باقیات ہیں۔ اس دریافت سے اشارہ ملتا ہے کہ اِکتھیوسار ایک عالمی ماحولیاتی تباہی کے تقریبا 90 لاکھ برس بعد بھی موجود تھے، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ اس نے ان کا خاتمہ کردیا تھا۔

ڈولفن سے مشابہ یہ رینگنے والے جانور سمندر میں رہتے تھے اور ہوا میں سانس لیتے تھے۔ ان کی چھوٹی اقسام مچھلیوں اور اسکوئڈ کا شکار کرتی تھیں جبکہ بریڈپورٹ میں دریافت ہونے والا یہ خوفناک دیوہیکل اِکتھیوسار دوسرے بڑے سمندری رینگنے والے جانوروں کو اپنی خوراک بناتا ہوگا۔

Load Next Story