موساد کی ویڈیو سے ایران میں 21 ہزار گرفتاریاں ہوئیں؛ سابق سربراہ کا بڑا دعویٰ

موساد نے 13 جون 2025 کو ایران کی سرزمین سے ایران پر حملوں کی ویڈیو جاری کی تھیں

 جون 2025 میں ایران پر حملوں کے دوران موساد سے منسوب جاری کردہ ویڈیو سے لی گئی تصویر۔

اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سابق سربراہ ڈیوڈ برنیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں خفیہ کارروائیوں کی ویڈیوز جاری کرنے کا مقصد ایرانی سکیورٹی اداروں میں بداعتمادی پیدا کرنا اور مبینہ اسرائیلی ایجنٹوں کو گرفتاری سے بچانا تھا۔

بی بی سی اردو کے مطابق اسرائیل نے 13 جون 2025 کو ایران پر حملوں کے آغاز کے فوراً بعد ایک ویڈیو جاری کی تھی، جس میں مبینہ موساد اہلکاروں کو ایرانی سرزمین پر فوجی سازوسامان نصب کرتے دکھایا گیا تھا۔

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بناتے وقت کی یہ ویڈیوز جاری کرنے کا مقصد نفسیاتی دباؤ ڈالنا تھا۔

موساد حکام کا کہنا تھا کہ ویڈیو جاری کرنے کی حکمت عملی کے نتیجے میں ایرانی حکام نے بڑی تعداد میں افراد کو گرفتار کیا جس سے حقیقی ایجنٹوں کی شناخت مشکل ہوگئی۔

حکام نے دعویٰ کیا کہ موساد کے 99.9 فیصد ایجنٹوں کی شناخت نہیں ہوسکی اور بعض مبینہ ایجنٹ اب بھی ایران میں ہی موجود ہیں۔

یاد رہے کہ ایرانی سیکیورٹی حکام نے اگست 2025 میں بتایا تھا کہ جنگ کے دوران تقریباً 21 ہزار افراد گرفتار کیے گئے تھے۔

تاہم ایرانی حکام کے مطابق یہ گرفتاریاں پورے 12 روزہ تنازع کے دوران ہوئیں جبکہ اسرائیلی حکام نے ان گرفتاریوں کو جنگ کے دوسرے روز سے جوڑا۔

برطانیہ کی ایبرسٹوِتھ یونیورسٹی کی محقق اویوا گٹمین کے مطابق ویڈیو جاری کرنے کا مقصد اسرائیلی طاقت کا تاثر پیدا کرنا، اپنے عوام کا حوصلہ بڑھانا اور ایرانی اداروں میں شکوک و شبہات پیدا کرنا ہوسکتا تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ برنیا کے دعووں کی آزادانہ تصدیق کا قابلِ اعتماد طریقہ موجود نہیں اس لیے یہ ثابت نہیں کہ ویڈیو کے اجرا نے گرفتاریوں یا موساد کے ایجنٹوں کے تحفظ میں کتنا کردار ادا کیا۔

Load Next Story