نیتن یاہو خوش نہ ہوں؛ گنتی ابھی باقی ہے؛ ڈبل لفافہ ووٹس پانسہ بدل سکتے ہیں
اسرائیلی انتخابات میں دہرے لفافوں کے ذریعے ڈالے گئے ووٹوں کی تصدیق اور گنتی عام ووٹوں کے بعد کی جاتی ہے
اسرائیل میں انتخابات کے ابتدائی نتائج کے بعد بھی سیاسی جماعتوں کی نشستیں بدلنے کا امکان ہے کیونکہ لاکھوں ووٹوں کی گنتی ابھی باقی ہے۔ یہ ووٹ دہرے لفافوں کے خصوصی نظام کے تحت ڈالے گئے ہیں جن کی جانچ اور گنتی عام ووٹوں سے مختلف ہوتی ہے۔
اسرائیلی انتخابی نظام میں فوجیوں، ریزرو اہلکاروں، پولیس ملازمین، قیدیوں، اسپتالوں میں زیر علاج مریضوں اور بیرون ملک تعینات سفارت کاروں سمیت مخصوص گروہوں کو اپنے مقررہ پولنگ مرکز کے بجائے دوسری جگہ ووٹ ڈالنے کی اجازت ہوتی ہے۔
ان کے ووٹ دہرے لفافوں میں جمع کیے جاتے ہیں۔ جس میں ووٹر اپنا خفیہ ووٹ ایک اندرونی لفافے میں رکھتا ہے جسے ذاتی معلومات والے دوسرے لفافے میں بند کیا جاتا ہے۔ اسی لیے ڈبل لفافہ ووٹ کہلاتا ہے۔
انتخابی حکام پہلے بیرونی لفافے کی مدد سے تصدیق کرتے ہیں کہ ووٹر پہلے کہیں اور اپنا ووٹ نہیں ڈال چکا۔ اس کے بعد اندرونی لفافہ الگ کرکے ووٹ کی گنتی کی جاتی ہے یوں ووٹر کی شناخت اور اس کے انتخاب کو خفیہ رکھا جاتا ہے۔
اس بار بڑی تعداد میں فوجی اہلکاروں اور اپنے گھروں سے بے دخل ہونے والے شہریوں کے باعث ایسے ووٹوں کی تعداد بڑھنے کا امکان ہے۔
مختلف اسرائیلی ذرائع نے ان کی تعداد کے مختلف اندازے دیے ہیں جبکہ بعض رپورٹس کے مطابق یہ ووٹ تقریباً 15 پارلیمانی نشستوں کے برابر ہوسکتے ہیں۔
تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ 15 نشستیں کسی ایک جماعت کو مل جائیں گی۔ ووٹوں کی حتمی گنتی سے جماعتوں کی نشستوں میں تبدیلی آسکتی ہے۔
خصوصاً ان جماعتوں کے لیے جو انتخابی حد کے قریب ہیں۔ اس لیے یہ ووٹ حکومت بنانے کے لیے درکار اکثریت کے حساب کتاب پر بھی اثر ڈال سکتے ہیں۔