تکنیک کی برتری
اپریل 1975 کی ایک خاموش اور برسات سے تر شام، ویتنام کے دارالحکومت ہنوئی کے ایک سرد سرکاری کمرے میں امریکی وفد کے نمائندے کرنل ہیری سمرز اپنے مخصوص انداز میں شمالی ویتنامی فوج کے کرنل ’’تو‘‘کے سامنے بیٹھے تھے۔ دونوں ملکوں کے درمیان جنگ ختم ہو چکی تھی اور آخری امریکی ہیلی کاپٹر سائیگون میں امریکی سفارت خانے کی چھت سے اڑان بھر چکا تھا۔ گفتگو کے دوران کرنل سمرز نے مسکراہٹ کے ساتھ کہا ’’آپ کو معلوم ہے؟ آپ نے پورے دس سالہ معرکے میں کسی ایک بھی جھڑپ میں ہمیں کبھی شکست نہیں دی۔‘‘
کرنل ’’تو‘‘نے بالکل دھیمے مگر تاریخ ساز انداز میں کہا ’’یہ سچ ہو سکتا ہے، لیکن یہ بات بالکل بے معنی اور غیر متعلقہ ہے۔‘‘
یہ جملہ محض ایک عسکری جواب نہیں تھا، بل کہ مغربی فکری و نفسیاتی ساخت پر ایک چوٹ تھی ۔ اس ایک فقرے نے یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں کر دی تھی کہ آتش و آہن کی تکنیکی برتری حاصل کر لینا کسی استعماری قوت کی حتمی، سیاسی اور اسٹرٹیجک فتح کی ضمانت ہرگز نہیں ہو سکتا۔
تقریباً نصف صدی بعد، امریکی نیوی کے سابق ایڈمرل اور اسپیشل آپریشنز کمانڈ کے سابق سربراہ ولیم ایچ مک گریون نے معروف امریکی جریدے فارن افیئرز کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والے اپنے مضمون ’’امریکی طاقت کی حدود اور قوت کا مغالطہ‘‘ میں اسی تاریخی واقعے سے اپنے تفصیلی تجزیے کا آغاز کیا ہے۔
مک گریون کی اس تحریر کا سب سے اہم اور تازہ ترین نقطہ فروری 2026سے ایران کے ساتھ شروع ہونے والی امریکی عسکری مہم جوئی کا تجزیہ ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے بغیر کسی واضح اسٹرٹیجک منطق اور متغیر اہداف کے ساتھ دھاوا بولا۔ کبھی ’’رجیم چینج‘‘(حکومت کی تبدیلی) بتایا گیا، کبھی ایران کی ایٹمی صلاحیتوں کا خاتمہ اور جب ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا،جو کہ جنگ شروع ہونے سے پہلے کھلی تھی ،تو نیا ہدف اس آبنائے کو دوبارہ کھلوانا بن گیا۔
مک گریون کے مطابق، امریکا کا بنیادی مسئلہ صرف ٹرمپ یا ان کے سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگسیتھ تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسا ساختی اور گہرا فکری مغالطہ ہے جو دوسری جنگ ِ عظیم کے بعد سے امریکی فیصلہ سازوں کے اعصاب پر سوار ہے۔ امریکا یہ سمجھتا ہے کہ اس کا بے پناہ دفاعی بجٹ،اسٹیلتھ بمبار، کروز میزائل، اور جدید ترین مصنوعی ذہانت کا جال اسے دنیا کے تاریخی و انسانی دھارے کو موڑنے کا حق فراہم کرتے ہیں۔
اگر ہم تنقیدی مطالعہ کریں، تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مک گریون کا یہ تجزیہ محض ایک ’’لبرل اصلاحی اعتراف‘‘ ہے۔ مک گریون امریکی ناکامیوں کا ذمے دار غلط پالیسیوں، غیر واضح اہداف یا ادارے جاتی بگاڑ کو قرار دیتے ہیں، لیکن ہمارا یہ ماننا ہے کہ امریکا کی یہ ناکامی کسی اتفاقی سیاسی غلطی یا انفرادی نااہلی کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ یہ جدیدیت اور سرمایہ دارانہ استعمار کا ایک لازمی اور ساختاتی منطقی انجام ہے۔
مغربی جدیدیت کا بنیادی فکری مغالطہ یہ ہے کہ وہ انسان، سماج اور تاریخ کو ایک ’’میکانکی ساخت‘‘ سمجھتی ہے۔ جدید لبرل عقل کا خیال ہے کہ سائنس، ٹیکنالوجی اور تکنیک کی مدد سے ا دنیا کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ مک گریون خود تسلیم کرتے ہیں کہ جدید آرٹیفیشل انٹیلی جنس، ڈرون ٹیکنالوجی اور سیٹلائٹ کمانڈ سسٹمز نے امریکی پالیسی سازوں کو ’’ ناقابلِ تسخیر ہونے ‘‘ کے زعم کا شکارکردیا ہے۔ ویتنام کے دلدل سے لے کر افغانستان اور ایران کے محاذ تک، تاریخ نے بارہا یہ ثابت کیا ہے کہ ’’ انسانی ارادہ، عقیدہ، جغرافیہ اور جذبہ‘‘ کسی بھی بائیونک الگورتھم یا لیزر گائیڈڈ بم سے کہیں زیادہ طاقتور ہوتے ہیں۔
مک گریون اپنی تحریر میں 1991ء کی جنگ ِ خلیج کو ایک ’’کامیاب ماڈل‘‘ کے طور پر پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ’’امریکی ریاست کو ہمیشہ اخلاقی برتری پر قائم رہنا چاہیے تاکہ اتحادیوں کو متحد کیا جا سکے ۔‘‘
جدید لبرل فکر میں ’’اخلاقیات‘‘ کوئی مستقل، مطلق حقیقت نہیں ہے، بلکہ یہ محض ایک اسٹرٹیجک ہتھیار ہے۔ مغرب اخلاق کو اس لیے استعمال نہیں کرتا کہ وہ بجائے خود کوئی واجب الاحترام قدر ہے، بلکہ اس لیے استعمال کرتا ہے تاکہ اس کے ذریعے کسی بھی مہم جوئی کی مشروعیت خریدی جا سکے اور عالمی رائے عامہ کو رام کیا جا سکے۔ جب اخلاق کو صرف مفاد کے تابع کر دیا جائے، تو کسی غلطی پر معافی مانگنا بھی ریاست کی قومی انا کے خلاف لگتا ہے اور ہزاروں فلسطینی بچوں کا لہو بھی نظر نہیں آتا۔ یہ اخلاقیات کی پاسداری نہیں، بل کہ اخلاق کی خریدو فروخت ہے۔
ذرا ان چند چشم کشا حقائق کا جائزہ لیجیے۔ امریکا کا سالانہ دفاعی بجٹ بجٹ 850 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے، جوہ دنیا کے 10 بڑے ممالک کے مجموعی دفاعی اخراجات سے بھی زیادہ ہے۔ براؤن یونیورسٹی کے مستند ادارے Costs of War Project کے مطابق، نائن الیون کے بعد سے امریکا نے افغانستان، عراق، شام اور ایران کے معرکوں میں 8 ٹریلین (8000 ارب) ڈالر سے زائد کی خطیر رقم خرچ کر دی ہے۔ 9 لاکھ سے زائد افراد لقمہ اجل بنے، جب کہ جنگ کے سائیڈ ایفیکٹس اور انفرا اسٹرکچر کی تباہی سے 35 لاکھ سے زائد انسان جان سے گئے۔ امریکا کا قومی قرضہ 35 ٹریلین ڈالر کی تاریخی ترین سطح کو چھو رہا ہے، جو اس کی کل جی ڈی پی کا 120 فیصد سے زائد ہے۔
کسی تہذیب کی کامیابی کا پیمانہ کیا ہے؟ کیا وہ دنیا کو زیادہ وسائل کے ذریعے اپنی مرضی کے تابع بنا سکتی ہے یا وہ اپنے وسائل کو ایسے مقاصد کے تابع رکھ سکتی ہے جن کا جواز محض قوت سے نہیں بلکہ ایک معقول تصور انسانی زندگی سے پیدا ہوتا ہے؟
تاریخ میں سب سے بڑی شکست ہمیشہ وہ نہیں ہوتی جس میں مقابل فریق میدان چھوڑ دے، کبھی سب سے بڑی شکست یہ ہوتی ہے کہ ایک طاقتور ریاست اپنی قوت کے نشے میں یہ سمجھنا چھوڑ دے کہ اسے لڑنا کس لیے تھا اور جیت کر حاصل کیا کرنا تھا۔