جنگ کے لیے تیار رہنے کا انتباہ، برطانیہ نے تین جوہری آبدوزیں سمندر میں اتار دیں

تین آبدوزوں کی بیک وقت تعیناتی نے برطانیہ کی دفاعی تیاریوں کے بارے میں بحث کو جنم دیا ہے

لندن: برطانیہ نے گزشتہ پانچ سال میں پہلی مرتبہ اپنی چار جوہری ڈیٹرنٹ آبدوزوں میں سے تین کو بیک وقت سمندر میں تعینات کردیا ہے۔

برطانوی میڈیا کے مطابق ان میں سے کم از کم ایک آبدوز جوہری وارہیڈ لے جانے والے بیلسٹک میزائلوں سے لیس ہے۔

رپورٹس کے مطابق سمندر میں موجود آبدوزوں کے نام ایچ ایم ایس وینگارڈ، ایچ ایم ایس ویجیلینٹ اور ایچ ایم ایس وینجنس ہیں، جبکہ چوتھی آبدوز ایچ ایم ایس وکٹوریس مرمت کے عمل سے گزر رہی ہے۔

برطانیہ معمول کے مطابق اپنی جوہری صلاحیت کے مؤثر رہنے کو یقینی بنانے کے لیے کم از کم ایک بیلسٹک میزائل بردار آبدوز مسلسل سمندر میں تعینات رکھتا ہے۔ رائل نیوی پر نظر رکھنے والے آزاد ادارے ’نیوی لک آؤٹ‘ کے مطابق یہ پالیسی 1969 سے جاری ہے۔ تاہم تین آبدوزوں کی بیک وقت تعیناتی غیر معمولی پیش رفت قرار دی جارہی ہے۔

اس تعیناتی کے پس منظر میں برطانوی وزیر دفاع ویس اسٹریٹنگ کا حالیہ بیان بھی اہم سمجھا جارہا ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ برطانیہ کو آئندہ تقریباً ایک ہزار دنوں میں جنگ کے لیے تیار ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق مخالف قوتوں کی عسکری صلاحیت میں اضافہ ہورہا ہے اور 2030 تک ان کی فوجی طاقت اور جنگی معیشت حملے کی صلاحیت پیدا کرسکتی ہے۔

برطانوی وزارت دفاع کے ترجمان نے اسکائی نیوز سے گفتگو میں کہا کہ ملک کی جوہری ڈیٹرنٹ قومی سلامتی کی بنیاد ہے اور یہ ہر وقت برطانیہ اور اس کے نیٹو اتحادیوں کے تحفظ میں کردار ادا کرتا ہے۔ ترجمان کے مطابق برطانیہ نے اپنی جوہری ڈیٹرنٹ صلاحیت نیٹو کے دفاع کے لیے بھی مختص کر رکھی ہے۔

یہ پیش رفت برطانیہ اور فرانس کی حالیہ مشترکہ فضائی مشق کے بعد سامنے آئی ہے۔ فرانسیسی مسلح افواج کے مطابق اس مشق میں برطانوی آر اے ایف ٹائفون طیاروں نے فرانسیسی طیاروں کو حفاظتی حصار فراہم کیا اور فرضی جوہری حملے کی مشق کی گئی۔

دوسری جانب برطانوی حکومت نے عوام کے لیے ’بی ریڈی‘ مہم بھی شروع کی ہے، جس میں شہریوں کو ممکنہ سائبر حملوں یا شدید موسمی حالات کے باعث بنیادی سہولتیں متاثر ہونے کی صورت میں کم از کم تین دن کا کھانا، پانی، نقد رقم اور ریڈیو گھر میں رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

اگرچہ تین آبدوزوں کی بیک وقت تعیناتی نے برطانیہ کی دفاعی تیاریوں کے بارے میں بحث کو جنم دیا ہے، تاہم فراہم کردہ رپورٹ میں اس تعیناتی کی کوئی باضابطہ وجہ یا اسے کسی مخصوص فوری خطرے سے جوڑنے کا سرکاری اعلان شامل نہیں ہے۔

Load Next Story