دہشت گرد پھر سے سرگرم

ان انسانیت سوز اور درد انگیز واقعات کی ایک وجہ موجودہ سیاسی صورتحال سے ان عناصر کا بلاواسطہ فائدہ اٹھانا بھی ...

بلوچستان میں بد امنی، دہشت گردی اور فرقہ وارانہ ہلاکتوں کے واقعات نے پھر سے شدت اختیار کر لی ہے جب کہ دیگر صوبوں میں بھی دہشت گردی کی وارداتوں کے تسلسل سے غیر یقینی صورتحال کی سنگینی کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

ان انسانیت سوز اور درد انگیز واقعات کی ایک وجہ موجودہ سیاسی صورتحال سے ان عناصر کا بلاواسطہ فائدہ اٹھانا بھی بعید از قیاس نہیں، کیونکہ بکھری ہوئی ان اندوہ ناک ہلاکتوں کا خاص ہدف بہر طور عوام میں خوف و ہراس پیدا کر کے اپنے عسکریت پسند ایجنڈے کو آگے بڑھانا ہے جسے روکنے کے لیے بلوچستان سمیت دیگر صوبائی حکومتوں کو بھی انسداد جرائم کے لیے بین الصوبائی منظم اور موثر انٹیلی جنس شیئرنگ کی طرف توجہ دینی چاہیے۔ دہشت گردی سے نمٹنا جز وقتی کام نہیں بلکہ اس میں مکمل یکسوئی اور انتہائی مستعد اور الرٹ رہنے کی ضرورت ہے، مسلح وارداتوں سے امن و امان کی ساری کوششیں بیکار چلی جاتی ہیں اور دہشت گرد نیٹ ورک میں اپنی ان کامیاب وارداتوں کے نتائج پر تفاخرانہ اور رعونت آمیز احساس پیدا ہوتا ہے، جب کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ان کے اہلکاروں کا مورال بلند رکھنے کے لیے دہشت گردی کے عفریت کا تدارک پورے جوش و جذبہ اور جملہ وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے کرنا چاہیے۔

ابھی حال ہی میں کوئٹہ کے ایئر بیسز پر دہشت گردی کی واردات کو پیشگی تدبیر کے تحت ناکام بنانے کی قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے جو شاندار کارکردگی دکھائی اسی مستعدی، چابکدستی، اور احساس فرض کی قوم ان سے اب بھی توقع رکھتی ہے۔ انتہا پسندوں کے ٹارگٹ میں صحافی شامل ہو رہے ہیں جب کہ سنجیدہ صحافتی حلقے بھی یہ کہنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ دہشت گرد بلوچستان کو صحافیوں کا قبرستان بنانا چاہتے ہیں، بلاشبہ بلوچستان میں صحافیوں کو نہ صرف اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی میں مشکلات کا سامنا ہے بلکہ وہ موت سے چومکھی لڑ رہے ہیں۔ جمعہ کو کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ پر واقع گوشت کی دکان پر نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کر کے تین افراد کو قتل کر دیا۔

کراچی ''کلنگ فیلڈ'' بن چکا ہے جس میں مزید 9 افراد جاں بحق اور3 افراد زخمی ہو گئے، آواران میں فائرنگ سے 6 افراد جاں بحق ہوئے جو ایک اقلیتی فرقے کی عبادت گاہ میں موجود تھے، کوئٹہ رئیسانی روڈ پر جمعہ کی دوپہر بلوچستان کانسٹیبلری کے اہلکاروں پر نامعلوم افراد نے دستی بم سے حملہ کیا جس سے دو اہلکار اشفاق احمد اور امجد خان زخمی ہو گئے، ہنگو میں تھانہ صدر کی حدود میں علاقہ محمد خواجہ سے ایلیٹ فورس کے اہلکار تسنیم کی لاش ملی جسے تشدد سے قتل کیا گیا جب کہ علاقہ قاضی پمپ کے مقام سے ایک شخص افسر حسین کی لاش ملی جسے فائرنگ کر کے قتل کیا گیا۔ گلگت بلتستان ہیومن رائٹس کے صدر نے طلباء وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کوٹلی یونیورسٹی میں گلگت بلتستان کے طالبعلموں پر حملے کی شدید مذمت کی ہے۔


انھوں نے حکومت آزاد کشمیر سے مطالبہ کیا ہے کہ گلگت بلتستان کے کشمیر میں زیر تعلیم طالب علموں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ ادھر جمعرات کو کوئٹہ ہی میں ایک نیوز ایجنسی کے بیورو آفس پر ہونے والے دہشت گرد حملے میں شہید ہونے والے سینئر صحافی ارشاد مستوئی رپورٹر عبدالرسول اور اکاؤنٹینٹ محمد یونس کی نماز جنازہ بالترتیب جیکب آباد سبی اور کوئٹہ میں جمعہ کو ادا کی گئی جس کے بعد انھیں ان کے آبائی قبرستانوں میں سپرد خاک کر دیا گیا، دریں اثنا بلوچ عسکریت پسند تنظیم جیش النصر کے سربراہ عبدالرؤف ریگی کو کوئٹہ میں قتل کر دیا گیا۔ خیال رہے کہ ایران مخالف بلوچ تنظیم جنداللہ کے سربراہ عبدالمالک ریگی کو ایران میں پھانسی دیے جانے کے بعد عبدالرؤف ریگی اہم ترین نوجوان کمانڈر کے طور پر ابھرے تھے۔

گزشتہ مئی میں انھوں نے ''النصر آرمی'' کے نام سے ایک نئی تنظیم قائم کی تھی۔ ان واقعات کے وسیع تر مضمرات پر ارباب اختیار اور بلوچستان حکومت کو غور کرنا چاہیے، پاک ایران سرحد کی حساسیت میں اضافہ ملکی سالمیت اور دو طرفہ برادرانہ تعلقات میں سرد مہری خطے کے مفاد میں نہیں، بلوچستان کو بعض عالمی قوتیں اپنی جنگی اور تزویراتی ریشہ دوانیوں کا اکھاڑہ بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں، ایک گرینڈ پلان پاکستان کو حصار میں لینے کے لیے مرتب کیا جا رہا ہے جس کی طرف اشارہ بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کے رہنماؤں نے بھی کیا ہے جن کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں بعض عناصر فرقہ وارانہ مذہبی تشدد کو ہوا دے کر مذہبی شدت پسندوں کی مدد سے خونی کھیل کھیل رہے ہیں۔

وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبد الملک اور ان کی کابینہ کو ان گروہوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کے لیے کسی تساہل کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے، بلوچستان میں کثیر جہتی دہشت گرد کارروائیوں سے نمٹنے کے لیے جہاں وفاقی حکومت کی ضرورت پڑے بلا تاخیر اس سمت میں پیش رفت ہونی چاہیے، صوبہ اور ملک کی تمام جمہوری اور سیاسی قوتوں کو بلوچستان میں دہشت گردی کے سدباب اور صحافیوں کی ٹارگٹ کلنگ روکنے اور ان وارداتوں میں ملوث ملزمان کی فوری گرفتاری کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہو گا۔

کوئٹہ میں نیوز ایجنسی کے دفتر پر حملے میں صحافیوں کے قتل کے خلاف حیدرآباد سمیت ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے جب کہ دس روزہ سوگ کے پہلے دن کوئٹہ سمیت صوبے بھر میں صحافی تنظیموں نے احتجاجی مظاہرے کیے، پریس کلبز پر سیاہ جھنڈے لگائے اور بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر احتجاج کیا، سیاسی مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں، صوبائی وزراء اور اراکین اسمبلی نے کوئٹہ میں صحافیوں کی ٹارگٹ کلنگ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ صحافیوں پر حملہ جمہوریت اور صحافت پر حملہ ہے۔ بلوچستان سماجی، سیاسی اور معاشی آسودگی چاہتا ہے، اسے بدامنی سے نجات ملنی چاہیے، اس کے عوام کو غربت، خوف، بیماریوں اور استحصال و دہشتگردی کے جبر سے آزاد ہونا چاہیے، حقیقی آزادی تو یہی ہے۔
Load Next Story