ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے جنگ کے دوران معاشی استحکام اور قومی اتحاد کو اہم قرار دے دیا
ایران کے سپریم لیڈر سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے دوران معاشی استحکام، عوامی فلاح، قومی اتحاد، پائیدار سکیورٹی اور ملکی مفادات کے تحفظ کو اہم ترجیحات قرار دیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق یہ ترجیحات صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی اژه ای اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل محسن رضائی سے الگ الگ ملاقاتوں کے دوران سامنے آئیں۔
صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات میں سپریم لیڈر نے عوام کی بنیادی ضروریات، جنگ کے اثرات، فوجی صورت حال، روزگار، رہائش، بیرونی اقتصادی تعلقات اور ملکی کرنسی و زرمبادلہ کے انتظام سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات میں توانائی کے وسائل کے بہتر انتظام پر بھی گفتگو ہوئی۔
صدر پزشکیان نے توانائی کے استعمال میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سردیوں میں گیس اور بجلی کی بندش سے بچنے کے لیے اقدامات ضروری ہیں۔
جنگ کے دوران ایران کی قیادت کی جانب سے معاشی استحکام اور عوامی فلاح پر زور ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کو فوجی صورت حال کے ساتھ معاشی اور توانائی سے متعلق چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔
ایرانی قیادت نے قومی اتحاد اور پائیدار سکیورٹی کو بھی ملکی مفادات کے تحفظ کے لیے اہم قرار دیا ہے۔