پاک-چین کسٹمز انتظامیہ کا سرحد پر زرعی و متعلقہ مصنوعات کیلئے گرین چینل فعال کرنے کا معاہدہ
یہ اجازت صرف سوست کے ذریعے درآمد اشیا پر ہوگی—فوٹو: فائل
پاکستان اور چین کی کسٹمز انتظامیہ کے درمیان سوست-خنجراب سرحد پر زرعی اور متعلقہ مصنوعات کے لیے گرین چینل فعال کرنے کا معاہدہ طے پا گیا ہے، جس پر دونوں ممالک نے دستخط بھی کردیے ہیں۔
اسلام آباد میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) ہیڈکوارٹرز میں معاہدے پر دستخط کی آن لائن تقریب منعقد ہوئی، یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت کو سہل بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
پاکستانی وفد کی سربراہی ممبر کسٹمز آپریشنز سید شکیل شاہ نے کی، دیگر ارکان میں چیف کلکٹر کسٹمز پشاور، کلکٹر کسٹمز گلگت بلتستان، محکمہ تحفظ نباتات، نیفسا، پاکستان سنگل ونڈو اور وزارت تجارت کے نمائندگان، نیز چین میں پاکستانی سفارت خانے کے کمرشل قونصلر شامل تھے۔
چینی وفد کی سربراہی ارومچی کسٹمز کی ڈپٹی ہیڈ اور تاشقورغان کسٹمز کی ڈائریکٹر لی چنگوا نے کی، معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان باہمی طور پر متفقہ فہرست میں شامل زرعی مصنوعات کی تجارت کے لیے گرین چینل قائم کرنا ہے۔
اس انتظام کے تحت پاکستان اور چین کی کسٹمز انتظامیہ اہل کھیپوں کی ترجیحی بنیاد پر پراسیسنگ اور جانچ یقینی بنائے گی جبکہ کسٹمز نگرانی کو مؤثر بنانے کے لیے خطرات کی بنیاد پر کنٹرولز نافذ کیے جائیں گے۔
معاہدے میں دونوں ممالک کی کسٹمز انتظامیہ کے درمیان معلومات اور خطرات سے متعلق انتباہات کے تبادلے کو مزید مؤثر بنانے کی شق بھی شامل ہے تاکہ باہمی رابطہ کاری کو مضبوط اور سرحد پار تجارت کے انتظام کو بہتر بنایا جا سکے۔
مزید بتایا گیا کہ زرعی تجارت میں وقت کی اہمیت کے پیش نظر معاہدے کے تحت جلد خراب ہونے والی اشیا پر مشتمل کھیپوں کو ترجیحی بنیاد پر نمٹانے کا بھی انتظام کیا گیا ہے تاکہ تاخیر کم سے کم کرتے ہوئے ان کی سرحد پار بروقت نقل و حرکت یقینی بنائی جا سکے۔