عرب ووٹ، اسرائیلی سیاست اور امن کا امتحان
اسرائیلی انتخابات میں دہرے لفافوں کے ذریعے ڈالے گئے ووٹوں کی تصدیق اور گنتی عام ووٹوں کے بعد کی جاتی ہے
اسرائیل کے ایوانِ اقتدار میں اس مرتبہ ووٹوں کی گنتی نے ایک ایسا سوال کھڑا کردیا ہے جس کا جواب محض انتخابی ریاضی سے نہیں مل سکتا۔ کیا کسی ریاست کی سیاسی قیادت اپنے معاشرے کے ان طبقات کو نظرانداز کرکے مستحکم حکومت قائم کرسکتی ہے جن کی حمایت کے بغیر اقتدار کی منزل تک پہنچنا دشوار ہو؟ اسرائیل کے حالیہ عام انتخابات نے اس سوال کو غیرمعمولی اہمیت دے دی ہے۔ ایک طرف بنیامین نیتن یاہو کا حکمراں اتحاد مطلوبہ اکثریت سے محروم ہے، دوسری طرف سابق فوجی سربراہ گادی آئزن کوٹ کی قیادت میں قائم حزبِ اختلاف بھی تنہا حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں۔
اس سیاسی شطرنج پر سب سے اہم چال عرب جماعتوں نے چلی ہے، جنھوں نے 120 رکنی پارلیمان میں 19 نشستیں حاصل کرکے اقتدار کے توازن کو ایک نئی صورت دے دی ہے۔ ابتدائی نتائج کے مطابق نیتن یاہو کے اتحاد کو 53 اور آئزن کوٹ کے اتحاد کو 48 نشستیں ملی ہیں، جب کہ حکومت سازی کے لیے کم از کم 61 ارکان کی حمایت درکار ہے۔ یوں انتخابی معرکے کا فیصلہ اب صرف دو بڑے سیاسی دھڑوں کی قوت سے نہیں بلکہ ان جماعتوں کے کردار سے بھی وابستہ ہوگیا ہے جنھیں طویل عرصے تک اقتدار کے مرکزی دھارے سے دور رکھنے کی کوشش کی جاتی رہی۔
یہ انتخابات سات اکتوبر 2023 کے بعد پہلے عام انتخابات ہیں، اس لیے ان کی اہمیت محض حکومت کی تبدیلی یا تسلسل تک محدود نہیں۔ غزہ کی جنگ، یرغمالیوں کی رہائی، سلامتی کی پالیسی، مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی توسیع اور ایران کے ساتھ تصادم کے امکانات نے اسرائیلی معاشرے کو گہرے اختلافات میں تقسیم کردیا ہے۔ انتخابی نتائج اسی داخلی کشمکش کا مظہر ہیں۔ نیتن یاہو کا اتحاد اگرچہ سب سے آگے ہے، لیکن اکثریت سے محرومی اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہے کہ انتخابی برتری اور حکمرانی کے لیے درکار سیاسی قبولیت دو الگ معاملات ہیں۔ دوسری جانب آئزن کوٹ کو بھی یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ عرب جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے اپنی انتخابی مہم کے دوران اختیار کیے گئے مؤقف میں کتنی گنجائش پیدا کرسکتے ہیں۔ اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے نئے انتخابات سے بچنے کے لیے سیاسی جماعتوں کو کھلے ذہن سے مذاکرات کرنے کی تلقین کی ہے۔ یہ اپیل اس خدشے کی عکاسی کرتی ہے کہ اگر جماعتیں اپنے نظریاتی اختلافات میں کوئی قابلِ عمل راستہ نہ نکال سکیں تو ملک ایک مرتبہ پھر انتخابی عمل کی طرف لوٹ سکتا ہے۔
اس پورے منظرنامے میں عرب اسرائیلی جماعتوں کی کامیابی ایک اہم سیاسی حقیقت ہے۔ اسرائیل کی آبادی کا تقریباً پانچواں حصہ عرب شہریوں پر مشتمل ہے، جن میں بڑی تعداد ان فلسطینیوں کی نسل سے تعلق رکھتی ہے جو 1948 میں اسرائیل کے قیام کے دوران اپنے علاقوں میں رہ گئے تھے۔ ان شہریوں نے اس مرتبہ نسبتاً زیادہ تعداد میں ووٹ ڈال کر پارلیمان میں اپنی نمائندگی بڑھائی ہے۔ مشترکہ عرب فہرست اور راعم کی مجموعی 19 نشستیں انھیں حکومت سازی میں فیصلہ کن اہمیت عطا کرتی ہیں۔ تاہم اس قوت کو براہِ راست حکومتی شمولیت کے مترادف سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ عرب جماعتوں کے سربراہ یوسف جبارین نے نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے حزبِ اختلاف کے ساتھ تعاون پر آمادگی ظاہر کی ہے، لیکن غزہ میں جنگ اور مغربی کنارے میں بستیوں کی توسیع کے تناظر میں کابینہ کا حصہ بننے سے انکار کیا ہے۔ ان کا موقف واضح کرتا ہے کہ پارلیمانی تعاون اور سیاسی اتحاد کے درمیان ایک بنیادی فرق موجود ہے۔
یہاں اسرائیلی سیاست کا ایک تضاد بھی نمایاں ہوتا ہے۔ عرب جماعتوں کی حمایت حکومت سازی کے لیے ناگزیر ہوسکتی ہے، لیکن متعدد یہودی حزبِ اختلاف جماعتیں انتخابی مہم میں ان کے ساتھ اتحاد سے گریز کا اعلان کرچکی ہیں۔ چنانچہ ایک طرف پارلیمانی اکثریت کی ضرورت ہے اور دوسری طرف نظریاتی حدود کی پابندی۔ یہ کشمکش جمہوری سیاست کے اس بنیادی سوال کو سامنے لاتی ہے کہ کیا کسی گروہ کے ووٹ کو انتخابی نتائج کے لیے اہم سمجھا جائے گا، مگر اسی گروہ کی سیاسی نمائندگی کو حکومت کے اندر قبول کرنے سے انکار کردیا جائے گا؟ عرب جماعتوں کے لیے بھی یہ مرحلہ محض نشستوں میں اضافے کا جشن منانے کا نہیں بلکہ اپنے ووٹروں کی روزمرہ زندگی میں بہتری لانے کا امتحان ہے۔ انھیں شہری سلامتی، مساوی حقوق، روزگار، بنیادی سہولتوں اور امتیازی سلوک سے متعلق شکایات کو سیاسی مذاکرات کے مرکز میں لانا ہوگا۔ محض بادشاہ گر بن جانا کافی نہیں۔ اصل کامیابی تب ہوگی جب پارلیمانی وزن کو قابلِ پیمائش عوامی نتائج میں تبدیل کیا جاسکے۔
نیتن یاہو کی سیاسی حکمت عملی کا ایک اہم پہلو ایران کا معاملہ بھی ہے۔ انتخابی نتائج کے بعد انھوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مل کر ایران کو ختم کرنے کے امکان کو نمایاں کیا ہے۔ ٹرمپ نے بھی انتخابی مقابلے میں نیتن یاہو کی پوزیشن بہتر بنانے میں اپنی حمایت کو اہم قرار دیا ہے۔ تاہم ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا سوال صرف انتخابی سیاست کا معاملہ نہیں،اس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ، عالمی توانائی منڈیوں اور بین الاقوامی سلامتی پر مرتب ہوسکتے ہیں۔ امریکی ذرائع ابلاغ میں مڈٹرم انتخابات کے بعد ممکنہ کارروائی اور فوجی تیاریوں سے متعلق اطلاعات سامنے آئی ہیں، لیکن ان اطلاعات کو حتمی فیصلے کا ثبوت نہیں سمجھنا چاہیے۔ کسی فوجی منصوبہ بندی اور حملے کے قطعی فیصلے میں فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔
ایران کی جانب سے ممکنہ حملوں کے جواب میں کارروائی کی تنبیہ، خلیجی خطے میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی اہمیت اس معاملے کو مزید حساس بناتی ہے۔ یہ گزرگاہ عالمی تیل کی ترسیل کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے؛ یہاں کسی بڑے تصادم سے جہاز رانی، توانائی کی قیمتوں، بیمہ اخراجات اور عالمی تجارت پر شدید دباؤ پڑسکتا ہے۔ اس کے اثرات ان ممالک تک بھی پہنچیں گے جو براہِ راست تنازع کا حصہ نہیں۔ پاکستان جیسے درآمدی توانائی پر انحصار کرنے والے ملک کے لیے تیل کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی، نقل و حمل، بجلی کی پیداواری لاگت اور عام شہری کے گھریلو بجٹ کو متاثر کرسکتا ہے۔ اس لیے علاقائی کشیدگی کو محض دور افتادہ ممالک کی جنگ سمجھنا حقیقت سے صرفِ نظر ہوگا۔ جنگ کا دھواں سرحدوں کو عبور کرنے کے لیے ویزا نہیں مانگتا، اس کی قیمت بازاروں، کارخانوں اور گھروں تک پہنچتی ہے۔
غزہ میں انسانی صورتِ حال اس پورے بحران کا سب سے سنگین پہلو ہے۔ اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں پانچ افراد کی شہادت اور متعدد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ایک بار پھر اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتی ہیں کہ سیاسی مذاکرات، انتخابی اتحاد اور فوجی حکمتِ عملی کے مباحث کے درمیان عام شہری مسلسل قیمت ادا کررہے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے اسرائیل کی نئی حکومت سے پالیسیوں میں بڑی تبدیلی اور بین الاقوامی قانون کے احترام کی امید ظاہر کی ہے۔ اس مطالبے کو محض سفارتی بیان سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ شہریوں کا تحفظ، امدادی رسائی، اجتماعی سزا سے اجتناب اور جنگی قوانین کی پابندی کسی حکومت کی پسند یا ناپسند کا معاملہ نہیں بلکہ بین الاقوامی ذمے داریوں کا حصہ ہیں۔ اسی اصول کا اطلاق اسرائیل سمیت تمام فریقوں پر ہونا چاہیے۔
ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی محض دو ریاستوں کا باہمی تنازع نہیں، بلکہ اس کے مضمرات عالمی توانائی کی رسد، خلیجی ممالک کی سلامتی، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت سے گہرے طور پر وابستہ ہیں۔ ایران کی جوہری تنصیبات یا بنیادی ڈھانچے پر حملے کی صورت میں جوابی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کا خدشہ موجود ہے، جس سے پہلے ہی غیر یقینی حالات سے دوچار خطے میں مزید عدم استحکام پیدا ہوسکتا ہے۔ ایسے حالات میں واشنگٹن اور تہران کو سفارتی راستے بھی کھلے رکھنے چاہییں۔ طاقت کا مظاہرہ وقتی دباؤ تو پیدا کرسکتا ہے، لیکن دیرپا امن کے لیے مذاکرات، قابلِ تصدیق ضمانتوں اور تنازعات کے پُرامن حل کی ضرورت ناگزیر ہے۔ پاکستان سمیت خطے کے ممالک کو بھی کشیدگی میں کمی اور مکالمے کے فروغ کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت کرنی چاہیے، کیونکہ جنگ کا خمیازہ بالآخر عام شہریوں، معیشتوں اور آنے والی نسلوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔