عشرے بعد سڑکوں و گلیوں میں تعمیرات
m_saeedarain@hotmail.com
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ لیاری کی مصروف شاہراہ آدم خان روڈ جو چار کلو میٹر طویل ہے پر پیور بلاکس کی تعمیر کا 70 فی صد کام مکمل ہو گیا ہے اور پیور بلاکس لگانے کا کام ایک ماہ میں مکمل کر لیا جائے گا اور شہریوں کو بہتر سفری سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ شہر میں جاری ترقیاتی کاموں کی بروقت تکمیل اور تعمیری کاموں کے معیار کی میں خود نگرانی کر رہا ہوں۔ پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے میئر کراچی بھی آیندہ سال اپنی مدت پوری کر رہے ہیں اور جماعت اسلامی اور بلدیہ عظمیٰ کراچی میں نمائندگی نہ رکھنے والی ایم کیو ایم آئے دن میئر کی کارکردگی پر تنقید کرتے آ رہے ہیں ۔
سیاستدانوں کے ایک دوسرے پر الزامات کہاں تک درست ہیں اس کا فیصلہ کراچی والے آیندہ بلدیاتی انتخابات میں کریں گے مگر یہ الزام بھی لگایا جا رہا ہے کہ پہلی بار ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پیپلز پارٹی کے نمائندوں سے وہ توقعات پوری نہیں ہوئیں کیونکہ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے اپنے میئر کو وہ اختیارات اور فنڈز نہیں دیے جو جنرل پرویز کی ضلعی حکومتوں کے نظام میں الخدمت کے ناظم نعمت اللہ خان اور ایم کیو ایم کے سٹی ناظم مصطفیٰ کمال کو حاصل تھے اور ان دونوں کے دور میں کراچی میں جو سڑکیں بنیں، فراہمی و نکاسی آب، باغات، اسٹریٹ لائٹس کی بہتری جیسے جو منصوبے مکمل ہوئے تھے وہ دونوں سٹی ناظمین کی دن رات کی محنت کے ساتھ انھیں حاصل مالی و انتظامی اختیارات کے ساتھ کراچی سے تعلق رکھنے والے صدر جنرل پرویز مشرف کی ذاتی دلچسپی بھی تھی کراچی سٹی حکومت میں 18 ٹاؤنز اور 178 یوسیز شامل تھیں۔
2008 تک سٹی حکومت کے بعد کراچی میں کوئی کام نہیں ہوا ۔ ویسے تو دو بار ملک کی وزیر اعظم رہنے والی بے نظیر بھٹو اور ان کے تینوں بچوں کا تعلق کراچی سے ہے اور یہ چاروں کراچی میں پیدا ہوئے تھے مگر پیپلز پارٹی کی حکومت نے کراچی کا وہ حق ادا نہیں کیا جو اسے کرنا چاہیے تھا۔ سندھ میں 18 سال سے پیپلز پارٹی کی حکومت ہے جس کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ہیں۔ آصف زرداری دوسری بار صدر مملکت اور ان کی صاحبزادی ملک کی خاتون اول ہیں۔ صدر زرداری کی شادی کراچی میں ہوئی ان کے وسیع تعلقات کراچی میں ہیں مگر کراچی کو وہ اہمیت نہیں دی جا رہی جو اس کا اصل حق ہے ۔
بلاول بھٹو نے 2024 کے الیکشن میں کراچی میں مخصوص علاقے میں ریلی بھی نکالی تھی اور پی پی کے مخصوص علاقوں کے دورے بھی کیے تھے ۔ پی پی کا گڑھ لیاری منتظر ہے کہ اس پر بھی توجہ دی جائے اور پیپلز پارٹی کے رہنما لیاری کا دورہ کرکے عوام کے مسائل حل کریں۔ کراچی میں اپنا میئر لانے کی پیپلز پارٹی کی خواہش ضرور پوری ہوئی مگر سندھ حکومت نے برائے نام ہی اپنا سمجھا نہ کراچی کو اضافی فنڈز دیے صرف شاہراہ بھٹو کی تعمیر کو پی پی حکومت اپنا بڑا کارنامہ سمجھتی ہے۔ مصطفیٰ کمال دور میں کراچی کے دنیا کے 13 بڑے شہروں میں شمار اور ترقی کے لیے مشہور کراچی پیپلز پارٹی کے دور میں رہائش کے لیے بدترین شہروں میں قرار پایا ہے اور حکمران کراچی کو کوئی عالمی ایوارڈ نہ دلا پائے جس کے ذمے دار وہ خود ہیں۔
سندھ حکومت نے کراچی کو اس کا حق کبھی نہیں دیا۔ 2015 کے بلدیاتی انتخابات کے وقت سندھ حکومت نے ٹاؤن ختم کر دیے تھے اور ڈی ایم سیز بنا دی تھیں اور ایم کیو ایم کے میئر کراچی منتخب ہوئے تھے جو خود کو بے اختیار کہتے تھے جن کی کارکردگی نہ ہونے کے برابر تھی ۔اس بار شہر کے 9 ٹاؤنز کے چیئرمین جماعت اسلامی باقی پی پی اور تحریک انصاف کے پاس ہیں اور تین سال بعد شہر میں کچھ کام نظر آ رہے ہیں۔
شہر کی دن رات کی مصروف سڑک لیاقت آباد ڈاکخانہ سے گرومندر کی شاہراہ بلدیہ عظمیٰ نے پہلی بار پیور بلاکس سے بنوائی ہے جب کہ لیاری سمیت دیگر علاقوں کی بڑی سڑکیں بلدیہ عظمیٰ اور چھوٹی سڑکیں اور شہر کی اندرونی گلیاں اور مارکیٹیں بھی پیور بلاکس کے ذریعے بنائی جا رہی ہیں اور سیمنٹ کی یہ اینٹیں اب ہر جگہ استعمال ہو رہی ہیں جب کہ لاہور میں گلیاں ڈامر اور پیور بلاکس سے بنائی گئی ہیں مگر وہاں رنگین اینٹیں استعمال ہو رہی ہیں جو خوبصورت بھی لگتی ہیں اور گول گول دائروں میں بنائی جا رہی ہیں مگر کراچی میں سادہ پیور بلاکس لگائے جا رہے ہیں جہاں سے لوگ آسانی سے اینٹیں نکال لیتے ہیں کیونکہ پہلے زمین ہموار کرکے اس پر اینٹیں لگائی جا رہی ہیں اور اوپر سے ان پر باریک بجری پھیلا دی جاتی ہے جو بارش یا گٹروں کے پانی سے خراب نہیں ہوں گی۔
کراچی کا زیر زمین سیوریج سسٹم تقریباً تباہ نکاسی آب کی لائنیں زمیں بوس ہو چکی ہیں اور شہر کی سڑکوں اور گلیوں میں گٹر ابلنا معمول، سڑکیں گندے پانی سے زیر آب رہنے سے ڈامر سے بنی سڑکیں جلد تباہ ہو جاتی ہیں اس لیے اب پیور بلاکس استعمال ہو رہے ہیں۔
سٹی ناظم نعمت اللہ اور مصطفیٰ کمال کے دور میں پہلے بڑی سڑکوں سے سیوریج لائنیں درمیان سے سائیڈوں میں منتقل کرکے بعد میں سڑکیں بنائی گئیں جو بارش سے بھی متاثر نہیں ہوتی تھیں مگر سندھ حکومت نے ماضی میں جو سڑکیں بنوائیں ان میں اکثر ناقص کاموں کی وجہ سے ٹوٹ پھوٹ کر تباہ ہو چکیں اور معیار پر توجہ نہیں دی گئی۔ اب میئر کراچی کا دعویٰ ہے کہ وہ کاموں کی خود نگرانی کر رہے ہیں جب کہ الخدمت کے ٹاؤنز میں وہاں کے چیئرمینوں کے علاوہ جماعت اسلامی کے رہنما اور خود امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن خود توجہ دے رہے ہیں مگر سندھ حکومت اور پی پی رہنماؤں کو اس کی بھی فرصت نہیں ہے۔