مغرب میں فلسطین دوست کتابیں لکھنا آسان نہیں ہے

بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح ؒارضِ فلسطین ،اہلِ فلسطین اور فلسطینیوں کی تحریکِ آزادی کے زبردست حامی اور صہیونی اسرائیل کے مخالف تھے۔

tanveer.qaisar@express.com.pk

بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح ؒارضِ فلسطین ،اہلِ فلسطین اور فلسطینیوں کی تحریکِ آزادی کے زبردست حامی اور صہیونی اسرائیل کے مخالف تھے۔ اِس ضمن میں قائد اعظم کے کئی تاریخی ارشاداتِ گرامی پیش کیے جا سکتے ہیں ۔ پاکستان اور تحریکِ آزادیِ فلسطین ہم عمر ہیں۔

صہیونی اسرائیل کو بجا طور پر عالمِ اسلام کے قلب میں گڑھا خنجر کہا جاتا ہے۔ صہیونی اسرائیل کے ناجائز اور توسیع پسندانہ اقدامات کی بنیاد پر اب تک مشرقِ وسطیٰ میں کئی خونریز جنگیں ہو چکی ہیں۔ اِن جنگوں میں اُردن ، مصر اور شام نے مرکزی کردار ادا کیا۔ تاسف انگیز بات مگر یہ ہے کہ تینوں مذکورہ اسلامی ممالک ، مل کر بھی ، صہیونی اسرائیل کو شکست نہ دے سکے ۔ارضِ فلسطین اور فلسطینی ہنوز اسرائیلی دباؤ اور قبضے میں ہیں۔

حال ہی میں صہیونی اسرائیل اور فلسطینی جنگجو تنظیم ، حماس، میں جو دو سالہ خونریز جنگ ہُوئی ہے ، اِس میں اسرائیل کے تو تین ہزار سے بھی کم فوجی اور سویلین مارے گئے ، مگر فلسطین ( غزہ) کے تقریباً ایک لاکھ بیگناہ شہری شہید کر ڈالے گئے ۔ غزہ کے جو لاکھوں افراد زخمی ہو کر عمر بھر کے لیے اپاہج ہو گئے ، وہ کسی قطار شمار ہی سے باہر ہیں ۔

تمام ترمسائل کے باوجود پاکستان آزادیِ فلسطین کا پرچم اُٹھانے والے جری اور غیور فلسطیینیوں کے ساتھ استقامت سے کھڑا ہے ۔ پاکستان اور کئی پاکستانی تنظیمیں اہلِ فلسطین کو مسلسل اخلاقی اور انسانی اعانتیں بھی فراہم کررہی ہیں ۔ 17اکتوبر2026 کو کاکول میں پاکستان ملٹری کیڈٹس کی گریجویٹ تقریب سے خطاب کرتے ہُوئے جنرل سید عامر رضا نے جو شاندار اور دلوں کو گرما دینے والا خطاب کیا، اِس میں بھی فلسطینی کاز کے ساتھ پاکستان کی مرکزی پالیسی کی بازگشت سنائی دی گئی۔ یہ بازگشت درحقیقت بانیِ پاکستان کے وضع کردہ اصولوں ہی کی تصویر ہے ۔ افسوس کی بات ہے کہ عالمِ اسلام صہیونی اسرائیل کی مرکزی و معروف پشتیبان امریکی ومغربی قوتوں کی اجتماعی طاقت کے سامنے بے بس ہے ۔ اِسی لیے ، تمام تر قربانیوں کے باوصف ، زیر قبضہ فلسطین ابھی تک صہیونی اسرائیل کی گرفت سے نجات نہیں پا سکا ۔

مگر ساتھ ہی یہ بھی حقیقت ہے کہ مغربی دُنیا کے عوام نے ، حالیہ ایام میں، فلسطینیوں کی جدوجہدِ آزادی کا کھل کر ساتھ دیا ہے ۔ مغربی دُنیا میں کئی معروف اور مقبول مصنفین فلسطینیوں کے حق میں کتابیں لکھ رہے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ مغربی اور امریکی حکام اِن فلسطین دوست کتابوں کے معاند بن رہے ہیں۔ پرو فلسطینی کاز بارے لکھی گئی تصنیفات پر پابندیاں بھی عائد کی جا رہی ہیں۔برطانیہ میں اکتوبر 2026 کے پہلے ہفتے کی ایک نمایاں مثال معروف و مقبول آئرش ناول نگار سیلی رونی(Sally Rooney) کی کتابوں کی فروخت کا معاملہ سامنے آیا ہے۔

رونی نے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنی کتابوں سے حاصل ہونے والی رائلٹی’’ فلسطین ایکشن ‘‘نامی تنظیم کی امداد کے لیے استعمال کریں گی۔ برطانوی حکومت نے جولائی 2025 میں اس تنظیم کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔ بعد ازاں ان کے برطانوی ناشر نے قانونی خطرات کے باعث برطانیہ میں ان کی کتابوں کی نئی فراہمی روکنے کا فیصلہ کیا، جس پر مصنفہ نے بھی رضامندی ظاہر کی۔ کہا گیا ہے کہ رونی کی پرو فلسطین کتابیں اپنے متن کی وجہ سے ممنوع قرار نہیں دی گئیں بلکہ ان کی برطانیہ میں فروخت اور اشاعت کا مسئلہ مصنفہ کی مالی معاونت اور انسدادِ دہشت گردی کے قانون سے متعلق ہے۔ اس کے باوجود یہ واقعہ اس سوال کو ضرور نمایاں کرتا ہے کہ سیاسی موقف کے باعث کسی مصنف کی کتابیں قارئین تک پہنچنے سے محروم ہوں تو آزادیِ اظہار کی حدود کہاں متعین کی جائیں؟

اِسی ضمن میں ایک اور مثال، اکتوبر 2026 ہی میں، فلسطینی امریکی مصنفین( جنان متاری اور علانا حدید) نے اپنے بچوں کے لیے لکھی گئی کتاب Displacement and the Palestinian American Story کو اپنے پبلشر سے واپس لینے کا اعلان کیا۔ ان کا اعتراض تھا کہ ناشر کی جانب سے مجوزہ ترامیم فلسطینی تاریخ اور فلسطینی مزاحمت کی ان کی پیش کردہ تعبیر کو تبدیل کر رہی تھیں۔ مصنفین نے کتاب کو ایک دوسرے معروف ناشر کے ذریعے شائع کرنے کا راستہ اختیار کیا۔ یہ دراصل امریکا میں صہیونی لابی کے دباؤ کا نتیجہ تھا جسے معروف اور ملفوف معنوں میں ’’ادارتی اختلاف اور مصنفین کے اپنے متن پر اختیار کی کشمکش‘‘ کا عنوان دے دیا گیا۔ مطلب و معنی یہ ہے کہ مغربی ممالک اور امریکا میں ( عوام کے پرو فلسطین ہونے کے باوجود) پرو فلسطین کتابیں لکھنا اتنا آسان اور سہل نہیں ہے ۔اِس کے لیے مشکلات کے کئی دریا عبور کرنا پڑتے ہیں ۔

ماضی قریب میں، اِن کتابوں کے علاوہ بھی ، کئی دیگر فلسطین نواز کتابوں پر پابندیاں عائد کی گئیں ۔ مثال کو طور پرHundred Years War On Palestine ۔ اِس کے مصنف رشید خالدی ہیں۔اس کتاب میں فلسطین پر صہیونی تحریک، برطانوی اقتدار اور اسرائیلی ریاست کے قیام کے تاریخی اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ یہ فلسطینی تاریخ کے بارے میں ایک مؤثر علمی مؤقف پیش کرتی ہے۔ دوسری کتابThe Question of Palestine  ہے ۔ اِس کے مصنف عالمی شہرت یافتہ فلسطینی مسیحی ،ایڈورڈ سعید، ہیں ۔فلسطینی شناخت، بے وطنی اور حقِ خودارادیت پر یہ ایک بنیادی فکری کتاب ہے۔ تصنیف میں ایڈورڈ سعید نے مغربی علمی اور سیاسی بیانیے میں فلسطینیوں کی نمائندگی پر سوال اٹھایا ہے۔ تیسری معروف کتاب Minor Detail ہے ۔ اِس کی مصنفہ عدنیہ شبلی ہیں۔

یہ کتاب دراصل فلسطین نواز فکشن بکس میں شامل کی جاتی ہے۔یہ ناول 1949کے ایک واقعے اور کئی دہائیوں بعد اس کی تحقیق کے ذریعے فلسطینی تاریخ، تشدد اور اجتماعی یادداشت کو موضوع بناتا ہے۔ 2023ء میں فرینکفرٹ کتاب میلے میں اس کتاب کے لیے مقررہ ادبی تقریب منسوخ ہونے کے بعد آزادیِ اظہار پر زبردست عالمی بحث چھڑ گئی تھی۔ چوتھی کتاب Mornings in Jenin کے زیر عنوان معروف ہے۔ اِس کی لکھنی والی سوزن ابوالہویٰ ہیں ۔یہ بھی پرو فلسطین کاز ناول ہے ۔اِس میں ایک فلسطینی خاندان کی کئی نسلوں کی داستان کے ذریعے 1948کی نکبہ، جلاوطنی اور شناخت کے تجربات سامنے لاتا ہے۔ پانچویں کتاب کا نام ہے Tasting The Sky ہے۔ اِس کے مصنف ابتسام برکات ہیں۔ خودنوشت اسلوب میں لکھی گئی یہ کتاب ایک فلسطینی بچی کے تجربات، جنگ، خوف اور بچپن کی تشکیل کے ذریعے قاری کو مجبور و مظلوم فلسطینی زندگی کے کئی المناک انسانی پہلو دکھاتی ہے۔

مذکورہ فلسطین دوست کتابوں پر اگرچہ مغربی ممالک نے پابندیاں عائد تو کیں ، مگر قارئین تک اِن کا پیغام پہنچنے سے روکا نہیں جا سکا کہ حرفِ مطبوعہ کا اپنا ایک سحر اور اپنی مخصوص رسائی ہوتی ہے ۔جس طرح ہواؤں کے بہاؤ اور پرندوں کی پرواز پر کوئی طاقت پابندی عائد نہیں کر سکتی ، اِسی طرح آزاد فکر کی حامل کتابوں، شاعری اور گیتوں پر کوئی پابندی کارگر ثابت نہیں ہوتی ۔ ہم نے حال ہی میں یہ حیرت انگیز مناظر بھی دیکھے ہیں کہ بھارت میں Gen Zنے حکومت و مودی مخالف جو زبردست جلوس نکالے ہیں ، اِن میں پاکستان کے عالمی شہرت یافتہ شاعر، جناب فیض احمد فیض، کی انقلابی شاعری کی بازگشت سنائی دیتی رہی ۔ اِسے ہی شائد آفاقی شاعری کہا جاتا ہے ، جس پر کسی قوم اور ملک کی ملکیت نہیں ہوتی ۔ انقلابِ ایران میں ہمارے قومی شاعر ، علامہ محمد اقبال ، کی فکر انگیز شاعری نغمے بن کر گونجتی رہی۔ اب تک منقلب ایرانی عوام و قیادت اقبالِ لاہوری کو یاد کرکے اپنے دلوں کو گرماتے ہیں ۔

بعینہ فلسطین نواز کتابیں دُنیا بھر کے حق پرست اور آزاد منش ذہنوں پر گہرے اثرات مرتسم کررہی ہیں ۔ یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ فلسطین محض زمین کے ایک ٹکڑے، سرحدوں کے تنازع یا مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ایسی المناک اور اندوہناک انسانی داستان ہے جس میں بے دخلی، جلاوطنی، قبضے، شناخت، مزاحمت اور حقِ خودارادیت کے مسلسل سلگتے سوالات نسل در نسل منتقل ہوتے رہے ہیں۔ اس داستان کو محفوظ رکھنے میں فلسطینی اور غیر فلسطینی مصنفین، تاریخ دانوں، ناول نگاروں، صحافیوں اور دانش وروں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ امریکا اور یورپ میں فلسطین کے حق میں لکھی گئی کتابوں پر ہونے والی پابندیوں اور ان کی مخالفت نے ایک بنیادی سوال کو جنم دیا ہے: کیا کسی قوم کے تاریخی تجربے کو بیان کرنا بھی سیاسی جرم بن سکتا ہے؟

Load Next Story