شارٹ ٹرم،مڈٹرم اور لانگ ٹرم پالیسیاں
salmanabidpk@gmail.com
حکمرانی کے نظام کی بہتری کے لیے ایک عمومی دلیل اور تجزیہ یہ کہتا ہے کہ اگر آپ نے آگے کی طرف بڑھنا ہے تو آپ کے پاس مسائل کا درست تجزیہ سمیت آگے بڑھنے کا مکمل روڈ میپ ہونا چاہیے۔ روڈ میپ کی بنیاد جہاں حقایق اور درست ترجیحات پر مبنی ہوتی ہے وہیں اس میں شارٹ ٹرم،مڈٹرم اور لانگ ٹرم پالیسیوں پر مبنی حکمت عملی کی جھلک نمایاں طور پر نظر آنی چاہیے۔ کیونکہ ہماری پالیسی کا عمل ردعمل کی بنیاد پر ہوتا ہے تو اس میں ٹھوس منصوبہ بندی اور گہرائی کا فقدان ہوتا ہے۔ ہم فوری طور پر سب کچھ بدلنا چاہتے ہیں یا پھر ہماری ترجیحات میں کچھ نہ بدلنے اور اسٹیٹس کو کی بنیاد پر آگے بڑھنا ہوتا ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ ہم اپنی مجموعی ترقی کے ماڈل کو دیکھیں تو اس میں ہم بنیادی نوعیت کی غلطیاں دیکھتے ہیں۔
ان غلطیوں کا سب سے بڑا خمیازہ معاشرے کے محروم اور کمزور طبقات کو سیاسی،سماجی اور معاشی سطح کی بدحالی کی صورت میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ ہمارے ترقی کے اعداد وشمار ہماری ترقی کے ماڈل کی کئی سطح پر نشاندہی کرتے ہیں لیکن حکمران طبقات ان مسائل کو اپنی بڑی ترجیحات کا حصہ بنانے کے لیے تیارنہیں۔اسی بنیاد پر ہم منصفانہ اور شفاف ترقی کے ماڈل میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں اور کئی ہمارے جیسے ممالک ہم سے آگے کھڑے نظر آتے ہیں۔ ویسے تو ہمیں حکومتی سطح پر بتایا جاتا ہے کہ ہمارے ترقی کے پانچ برس کے سالانہ منصوبے کیا ہیں اور اس کے لیے سالانہ بنیادوں پر کتنے وسائل مختص کیے گئے ہیں۔لیکن اگر ہم وفاقی سطح پر یا صوبائی سطح پر دیکھیں تو نہ ان منصوبوں میں وفاق اور صوبائی سطح پر باہمی ربط اور موثر حکمت عملی دیکھنے کو ملتی ہے اور نہ ہی ہمیں صوبائی سطح سے مقامی ترقی کا موثر ماڈل اور منصوبہ بندی کا عملی خاکہ دیکھنے کو ملتا ہے۔
یہ ہی وجہ ہے کہ ہماری مجموعی ترقی کا ماڈل بڑے شہروں یا میگا سٹی تک محدود ہے اور جو پاکستان کے پس ماندہ علاقے ہیں وہ نہ تو ہماری ترقی کی ترجیحات کا حصہ ہیں اور نہ ہی وہاں وسائل کی تقسیم منصفانہ بنیادوں پر ہوتی ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ ان غریب علاقوں یا دیہی سطح پر محرومی کی سیاست غالب ہے اور اس کا ردعمل ہمیں منفی بنیادوں پر دیکھنے کو ملتا ہے۔اگر آپ کو موقع ملے مقامی ترقی کے نظام کو جانچنے کے لیے تو ذرا جائزہ لیں تو بنیادی نوعیت کے مسائل پر ضلع اور تحصیل یا یونین کونسل کی سطح پر ترقی کی منصوبہ بندی کا چارٹ دیکھنے کو نہیں ملے گا۔اسی طرح ہماری پالیسیوں میں مختلف مسائل پر عدم تسلسل کا نظام ہے وہ خود ترقی کے عملی ماڈل کو خراب کر رہی ہے۔
جیسے ہی حکومتیں بدلتی ہیں تو نئی حکومت پرانی حکومت کی سیاسی دشمنی میں سب کچھ بدل دیتی ہے اور معاملات کو نئے سرے سے شروع کرنے کی کوشش کرتی ہے جس سے ترقی کا ماڈل عملی طور پر متاثر ہوتا ہے۔ اصل میں جب ہم ترقی کے ماڈل میںان تین پہلووں کی بنیاد پر آگے بڑھتے ہیں جن میں شارٹ ٹرم،مڈٹرم اور لانگ ٹرم شامل ہیں تو اس کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ منصوبہ ساز یا پالیسی سازی میں ہمیں جہاں ہم آہنگی ملتی ہے وہیں حکمت عملی کی بنیاد پر ترقی موثر ہوسکتی ہے۔
ترقی کے تناظر میں وفاقی حکومت کا نظام اس کی مدد سے ہم سماجی،معاشی ،تعلیم وصحت،عورتوں اور بچوں یا غربت سمیت بہت سے معاملات میں عالمی دنیا کو جوابدہ ہوتے ہیں۔وفاقی حکومت ان اہداف یا اشاریہ کو صوبائی حکومت کی مدد سے حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے بلکہ اب تو 18ویں ترمیم کے بعد صوبائی حکومتوں کا ماڈل نہ صرف جوابدہ ہوتا ہے بلکہ یہ اس کی بنیادی سطح کی ذمے داری میں آتا ہے۔صوبائی حکومتیں ان اہداف کو اپنے اپنے صوبوں میں خود مختار مقامی حکومتوں کی تشکیل اور کی کارکردگی کی بنیاد پرہی ترقی کے ماڈل کو آگے بڑھاتی ہیں۔لیکن 18ویں ترمیم کے بعد سے لے کر نہ تو صوبائی حکومتیں اپنی فعالیت اور شفافیت پیدا کرسکی ہیں اور نہ ہی انھوں نے صوبوں میں خود مختار مقامی حکومتیں قائم کی ہیں۔یہ ہی وجہ ہے کہ آج اوپر سے لے کر نچلی سطح تک ملک میں گورننس کا بحران دیکھنے کو ملتا ہے۔
یہ ترجیحات ہمیں قومی سطح پر کن معاملات پر توجہ دینی ہے اس کا تعین کون کرے گا اورکیا ترجیحات کے تعین میں عوامی خواہش موجود ہوتی ہے یا ترجیحات ان پر مسلط کردی جاتی ہیں۔یہ طے کرنا بھی ہوگا کہ ہماری ترجیحات محض طاقت ور لوگ ہیں یا کمزور افرادکو بھی ہم اس کا حصہ بناتے ہیں۔ہر حکومت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان حکومتوں کی نگرانی میں چلنے والے منصوبوں پر اربوں روپے کی کرپشن ہوتی ہے لیکن جوابدہی کا کوئی موثر اور شفاف نظام نہ ہونے کی وجہ سے بہتر گورننس کے ماڈل خراب ہوتے ہیں۔ یہ جو گورننس کے ماڈل ہیں ان کو بہتر بنانے کے کھیل میں ہم بہت پیچھے ہیں۔ دنیا میں آج ترقی کے ماڈل پرکھنے کی بنیادی شرط پائیدار ترقی کے ماڈل ہوتے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ اس میں جدید تصورات سامنے آتے ہیں لیکن ہم ماضی کے کھیل اور تجربات سے کچھ بھی سیکھنے کے لیے تیار نہیں۔آپ کسی بھی محکمے میں چلے جائیں یا پلاننگ کمیشن ہو یا پلاننگ ڈولیپمنٹ کے محکمے ان سب کا تجزیہ کرلیں وہاں ہمیں شارٹ ٹرم، مڈٹرم اور لانگ ٹرم کی حکمت عملیوں اور اہداف میں نہ صرف خاصہ فرق نظر آتا ہے بلکہ یہ اہداف ایک دوسرے سے متضاد بھی ہیں ۔
ایک المیہ ترقی کے تناظر میں یہ ہے کہ ہم ترقی کے پیمانے کو انفراسٹکچریعنی سڑکوں، پلوں، بڑی بڑی عمارتوں اور انڈرپاس کی بنیاد پر دیکھتے ہیں جو کہ یقینا ترقی کے زمرے میں آتے ہیںلیکن انسانی ترقی جسے آج کل دنیا میں ہیومن ڈویلپمنٹ کہا جاتا ہے اس میں ہماری کارکردگی عملا کمزور ہے۔اول تو ہمارے پاس انسانی ترقی کے لیے وسائل کم ہوتے ہیں لیکن اگر ہم کچھ بجٹ میں انسانی ترقی پر پیسہ رکھ بھی دیں تو آگے جاکر اسی انسانی ترقی کے بجٹ میں پیسے کی کٹوتی کرکے ہم دیگر شعبوں میں لگا دیتے ہیں جس سے سماجی شعبے کی ترقی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ حکمرانی کا نظام عوام کی بنیاد پر اپنی ساکھ رکھتا ہے اور اگر کسی حکمرانی کے نظام میں عوام ترقی نہیں کریں گے تو ان میں اپنی حکومت کے بارے میں سوالات جنم لیتے ہیں اور وہ نظام کو چیلنج کرتے ہیں۔ اس لیے اب وقت آگیا ہے کہ ہم موجودہ اپنے ترقی کے ماڈل کا تجزیہ کریں اور اس تجزیہ کی بنیاد پر عوامی ترجیحات کی بنیاد پر نیا ماڈل ترتیب دیں۔جس ماڈل میں انسانی سرمایہ کاری کی بنیاد پر بڑی مالی سرمایہ کاری ہو اور اسی بڑی مالی سرمایہ کاری کی بنیاد پر ہم اپنے سماجی اشاریہ بہتر بناسکتے ہیں۔
ابھی تو ہم جی ڈی پی میں تعلیم اور صحت کے بجٹ میں بھی بہت پیچھے ہیں۔حالانکہ ہم نے2000-15کے اہداف میں عالمی دنیا سے یہ کمٹمنٹ کی تھی کہ ہم ان دونوں شعبوں میں جی ڈی پی کا ہدف چار فیصد رکھیں گے۔لیکن آج2026 میں بھی ہم اس اہداف سے بہت پیچھے کھڑے ہیں۔یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ تمام معاملات کی ناکامی جہاں حکمران طبقات پر عائد ہوتی ہے وہیں حزب اختلاف سمیت دیگر سیاسی جماعتیں ہوں یا سول سوسائٹی ان معاملات پر حکومت پر کوئی بڑا دباو نہیں ڈال سکے۔اسی طرح ہم سیاسی محاذ آرائی یا سیاسی تحریکوں کی مختلف شکلیں دیکھتے ہیں لیکن جو کچھ ترقی کے نام پر اس ملک میں ہورہا ہے اس پر کوئی بڑی سماجی تحریکیں جنم نہیں لے سکیں۔اسی طرح اگر ہم دیکھیں تو پارلیمنٹ اور میڈیا کے فورمز بھی غیر ضروری بحثوں میں الجھے ہوئے ہیں جس سے ترقی کے مباحث کم دیکھنے کو ملتے ہیں اور تعلیمی سطح پر کوئی گفتگو نہیں ہو رہی۔اس سارے عمل سے باہر نکلنے کے لیے ایک سنجیدہ سوچ کے ساتھ آگے بڑھنا اور لوگوںکو باور کروانا ہے کہ اگر ہم نے اپنا فعال کردار ادا نہ کیا تو مستقبل میں ہماری ترقی کی شکلوں میں اور زیادہ خرابیاں دیکھنے کو ملیں گی اور اس کی ایک ذمے داری بطور شہری ہم پر بھی عائد ہوگی ۔