امریکی دباؤ کے بعد یوکرین نے روسی آئل ریفائنریوں پر حملے عارضی طور پر روک دیے
یوکرین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دباؤ کے بعد روس کی آئل ریفائنریوں کو نشانہ بنانے والی اپنی طویل فاصلے کی ڈرون کارروائیوں کو عارضی طور پر روک دیا ہے۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق یوکرینی فوج کی متعلقہ یونٹس کو اکتوبر کے وسط میں ہدایت دی گئی تھی کہ جاری مشنز مکمل ہونے کے بعد روسی ریفائنریوں کے خلاف مہم مؤثر طور پر معطل کردی جائے۔
رپورٹ کے مطابق یہ غیر اعلانیہ وقفہ امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد اور ممکنہ طور پر نومبر تک جاری رہ سکتا ہے۔ تاہم یوکرین کی حکومت نے باضابطہ طور پر یہ اعلان نہیں کیا کہ روسی آئل ریفائنریوں پر حملے مکمل طور پر روک دیے گئے ہیں۔
صدر ولودیمیر زیلنسکی نے بھی کہا ہے کہ یوکرینی فوج کو ضرورت پڑنے پر دوبارہ کارروائی کرنے کی آزادی حاصل ہے.
یہ معاملہ اس وقت شدت اختیار کرگیا جب ٹرمپ نے روسی آئل تنصیبات پر یوکرینی حملوں کو امریکی ایندھن، خصوصاً ڈیزل، کی قیمتوں میں اضافے سے جوڑا اور کیف پر حملے روکنے کے لیے دباؤ بڑھایا۔
واشنگٹن نے اس سے قبل یوکرین کو امریکی انٹیلی جنس اور ہتھیاروں کی فراہمی سے متعلق تعاون محدود کرنے کی دھمکی بھی دی تھی۔