شام میں بدترین انسانی المیہ
شام موجودہ وقت کی سب سے بڑی انسانی ایمرجنسی بن گیا ہے ...
شام موجودہ وقت کی سب سے بڑی انسانی ایمرجنسی بن گیا ہے . فوٹو: فائل
GUJRANWALA:
اقوام متحدہ نے شام کی خانہ جنگی میں بے گھر ہونے والوں کے اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ہولناک ابتلاء کا شکار ہونے والوں کی تعداد تیس لاکھ نفوس سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔ جنیوا میں قائم اقوام متحدہ کے مہاجرین کے ادارے کے سربراہ انطونیو گتری نے کہا ہے کہ شام موجودہ وقت کی سب سے بڑی انسانی ایمرجنسی بن گیا ہے جس میں صرف گزشتہ ایک سال میں مزید دس لاکھ افراد کا اضافہ ہو چکا ہے۔ وہ اس جنگ زدہ ملک سے جان بچا کر نکلے ہیں جہاں مغربی میڈیا کے مطابق ''اسلامک اسٹیٹ'' (آئی ایس) نے قیامت برپا کر رکھی ہے جنھیں کہ قبل ازیں اسلامک اسٹیٹ آف عراق اینڈ الشام کہا جاتا تھا، جنھوں نے وہاں قتل عام اور جلاؤ گھیراؤ کا غدر برپا کر رکھا ہے۔
ان کی زد میں آنے والوں میں لاتعداد شامی فوجیوں کے علاوہ ایک امریکی صحافی بھی شامل ہے۔ مغربی میڈیا کے مطابق عالمی سطح پر اس بحران کو اس وقت نہایت شدت سے محسوس کیا گیا جب القاعدہ کی پالیسی پر عمل کرنے والے آئی ایس کے ارکان نے جولان کی پہاڑیوں پر اقوام متحدہ کے امن دستے میں فجی کے 43 فوجیوں کو اغوا کر لیا جب کہ فلپائن کے 75 امن فوجیوں کا محاصرہ کر لیا گیا۔ امریکی صدر باراک اوباما نے شام پر فضائی بمباری کرنے کے امکان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایس نے شام اور عراق کے علاوہ ان دونوں ملکوں کے پڑوسیوں کے لیے بہت بڑا خطرہ پیدا کر دیا ہے۔ اوباما کا کہنا تھا کہ ''ابھی ہم نے اپنی حکمت عملی تیار نہیں کی۔''
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ہم مشرق وسطیٰ میں آئی ایس کے خلاف محاذ مضبوط کرنے کی خاطر وزیر خارجہ جان کیری کو اہم دورے پر روانہ کر رہے ہیں تا کہ ان کے خلاف علاقائی حمایت حاصل کی جا سکے۔ آئی ایس (داعش) کے قیام نے مغربی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔عراق اور شام کی خراب صورتحال کے ذمے دار امریکا اور مغربی ممالک ہی ہیں،اس صورتحال کو درست کرنے کے لیے مسلم ممالک کو اپنے اختلافات بالائے طاق رکھتے ہوئے موثر کردار ادا کرنا ہوگا۔
اقوام متحدہ نے شام کی خانہ جنگی میں بے گھر ہونے والوں کے اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ہولناک ابتلاء کا شکار ہونے والوں کی تعداد تیس لاکھ نفوس سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔ جنیوا میں قائم اقوام متحدہ کے مہاجرین کے ادارے کے سربراہ انطونیو گتری نے کہا ہے کہ شام موجودہ وقت کی سب سے بڑی انسانی ایمرجنسی بن گیا ہے جس میں صرف گزشتہ ایک سال میں مزید دس لاکھ افراد کا اضافہ ہو چکا ہے۔ وہ اس جنگ زدہ ملک سے جان بچا کر نکلے ہیں جہاں مغربی میڈیا کے مطابق ''اسلامک اسٹیٹ'' (آئی ایس) نے قیامت برپا کر رکھی ہے جنھیں کہ قبل ازیں اسلامک اسٹیٹ آف عراق اینڈ الشام کہا جاتا تھا، جنھوں نے وہاں قتل عام اور جلاؤ گھیراؤ کا غدر برپا کر رکھا ہے۔
ان کی زد میں آنے والوں میں لاتعداد شامی فوجیوں کے علاوہ ایک امریکی صحافی بھی شامل ہے۔ مغربی میڈیا کے مطابق عالمی سطح پر اس بحران کو اس وقت نہایت شدت سے محسوس کیا گیا جب القاعدہ کی پالیسی پر عمل کرنے والے آئی ایس کے ارکان نے جولان کی پہاڑیوں پر اقوام متحدہ کے امن دستے میں فجی کے 43 فوجیوں کو اغوا کر لیا جب کہ فلپائن کے 75 امن فوجیوں کا محاصرہ کر لیا گیا۔ امریکی صدر باراک اوباما نے شام پر فضائی بمباری کرنے کے امکان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایس نے شام اور عراق کے علاوہ ان دونوں ملکوں کے پڑوسیوں کے لیے بہت بڑا خطرہ پیدا کر دیا ہے۔ اوباما کا کہنا تھا کہ ''ابھی ہم نے اپنی حکمت عملی تیار نہیں کی۔''
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ہم مشرق وسطیٰ میں آئی ایس کے خلاف محاذ مضبوط کرنے کی خاطر وزیر خارجہ جان کیری کو اہم دورے پر روانہ کر رہے ہیں تا کہ ان کے خلاف علاقائی حمایت حاصل کی جا سکے۔ آئی ایس (داعش) کے قیام نے مغربی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔عراق اور شام کی خراب صورتحال کے ذمے دار امریکا اور مغربی ممالک ہی ہیں،اس صورتحال کو درست کرنے کے لیے مسلم ممالک کو اپنے اختلافات بالائے طاق رکھتے ہوئے موثر کردار ادا کرنا ہوگا۔