چناب نگر میں 45 ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس، آئینی دفعات کے نفاذ اور مدارس کی خودمختاری کا مطالبہ

قررین نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے فلسطین میں اسرائیلی کارروائیوں پر بھی تنقید کی

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام 45 ویں سالانہ آل پاکستان دو روزہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی، مسلم کالونی چناب نگر میں منعقدہ کانفرنس کی ابتدائی نشستوں سے خطاب کرتے ہوئے مختلف مذہبی رہنماؤں نے عقیدہ ختم نبوت، پاکستان کے اسلامی تشخص اور حرمین شریفین کے تحفظ کو مسلمانوں کی اہم ذمہ داری قرار دیا۔

کانفرنس کا انعقاد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ مولانا پیر حافظ ناصرالدین خاکوانی کی سرپرستی میں کیا گیا۔ ابتدائی نشستوں کی صدارت صاحبزادہ خواجہ خلیل احمد اور صاحبزادہ عزیز احمد خانقاہ سراجیہ کندیاں نے کی۔

مقررین نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے فلسطین میں اسرائیلی کارروائیوں پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ناموس رسالت، عقیدہ ختم نبوت اور پاکستان کے نظریاتی و جغرافیائی تشخص کے تحفظ کے لیے آئینی اور قانونی جدوجہد جاری رہنی چاہیے۔ انہوں نے امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ء اور قانون توہین رسالت سمیت آئین کی اسلامی دفعات پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔

مقررین نے چناب نگر سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں امتناع قادیانیت آرڈیننس کی مبینہ خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا اور متعلقہ اداروں سے قانون کے مطابق کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت عدم تشدد اور پرامن جدوجہد کی پالیسی کے تحت اپنا کام جاری رکھے گی۔

کانفرنس سے خطاب میں دینی مدارس اور مساجد کی خودمختاری کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔ مقررین نے کہا کہ مدارس امت مسلمہ کے تعلیمی اور روحانی مراکز ہیں، اس لیے ان کی خودمختاری اور دینی تشخص کا احترام کیا جائے اور علماء و مدارس کے خلاف کردار کشی کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔

مولانا اللہ وسایا نے اپنے خطاب میں کہا کہ نوجوان نسل عقیدہ ختم نبوت اور ناموس رسالت کے تحفظ کے لیے اپنے اکابرین کی جدوجہد کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت برداشت اور عدم تشدد کی پالیسی کے تحت اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

صاحبزادہ عزیز احمد نے اپنے خطاب میں قادیانی جماعت کے حوالے سے حکومتی پالیسیوں پر تنقید کی، جبکہ مولانا عبد القیوم حقانی نے کہا کہ اس معاملے پر عالمی سطح پر پاکستان کے مؤقف کو بھی اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ دیگر مقررین نے پارلیمنٹ اور عدلیہ کے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے متعلقہ آئینی و قانونی دفعات پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔

مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے کہا کہ ختم نبوت کے دفاع کے لیے ماضی میں علماء نے عدالتی اور پارلیمانی سطح پر جدوجہد کی۔ مولانا قاضی احسان احمد، مولانا حافظ محمد انس، سائیں عبدالمجیب قریشی، مولانا عزیز الرحمن ثانی اور دیگر مقررین نے بھی عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت، مذہبی تعلیمات اور امت کے اتحاد پر گفتگو کی۔

مولانا عبدالحکیم نعمانی نے نوجوان نسل پر زور دیا کہ وہ سوشل میڈیا، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کو دینی اقدار اور عقیدہ ختم نبوت کے پیغام کے فروغ کے لیے استعمال کرے۔ مولانا خالد عابد اور دیگر مقررین نے مدارس کی خودمختاری اور ناموس رسالت سے متعلق قوانین کے تحفظ پر بھی زور دیا۔

کانفرنس کی ابتدائی نشستوں سے مفتی محمد حسن لاہور، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا قاضی احسان احمد، مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا عنایت اللہ کاکڑ، مولانا عبدالحکیم نعمانی، مولانا توصیف احمد، مولانا ضیاء الدین آزاد، مولانا عبدالباسط علوی، مولانا مفتی محمد راشد مدنی، مفتی محمد خالد میر، مولانا محمد طارق معاویہ اور دیگر دینی و مذہبی رہنماؤں نے خطاب کیا۔

Load Next Story