کارکن… پتر ہٹاں وچ لبھدے نہیں

ارے ہاں یہ تو ہم بتانا بھول گئے کہ کارکن کا تخلص ’’مگس‘ ہوتا ہے یہ مگس یا کارکن لوگ بڑے خطرناک ہوتے ہیں...

barq@email.com

پتہ نہیں دوسرے کالم نگاروں کے ساتھ ایسا ہوتا ہے یا نہیں لیکن ہمارے ساتھ تو ہوتا ہے، برابر ہوتا رہتا ہے ڈنکے کی چوٹ پر ہوتا رہتا ہے اور روزانہ ہوتا رہتا ہے کہ کوئی نہ کوئی ستم ظریف قاری کوئی ایسا سوال دے مارتا ہے جس کا جواب سقراط، بقراط تو کیا کنڈولیز رائس، انجلینا جولی، بپاشا باسو، ملکہ شراوت اور راکھی ساونت کے پاس بھی نہ ہو، اگر یہ سوال کچھ علمی اور دانشورانہ قسم کے ہوتے تو ہم کسی کتاب یا انٹر نیٹ وغیرہ کی مدد سے اپنی گلو خلاصی بلکہ ''گلو بٹی'' کر لیتے لیکن ان میں سے زیادہ تر سوالات نصاب حساب کتاب وغیرہ سب کچھ سے باہر ہوتے ہیں۔

ویسے بھی موبائل فون کے موجد کو خدا کروٹ کروٹ وہی مقام عطاء کرے جس کا اس نے خود کو ''مستحق'' کروایا ہوا ہے اور ساتھ ہی تمام ان ''مبلغین'' کو جزائے خیر دے جو اپنے سارے کام چھوڑ چھاڑ کر صرف ہمیں راہ راست پر لانے میں اور ہماری معلومات میں اضافہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں جب موبائل فون پر ''ثواب دارین'' قسم کے ایس ایم ایس بھیجنے کا سلسلہ شروع نہیں ہوا تھا تو ہمیں یہ بھی معلوم نہ تھا کہ آسمان کتنے ہیں اور ان کے نام کیا کیا ہیں لیکن آج یہ ساری معلومات ہمارے پاس ہیں کہ آسمانوں کے نام کیا ہیں اور ہر آسمان کس چیز کا بنا ہوا ہے اسی طرح آٹھویں جنتوں کے بارے میں بھی ہمارے پاس معلومات کا ایک بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے ۔

حتیٰ کہ ہمیں یہ بھی علم نہیں تھا کہ ہم خدا کے فضل، حکومتوں کی مہربانیوں اور آئی ایم ایف کی ذرہ نوازی سے کتنے مقروص ہیں لیکن اب ہمیں یہ بھی پتہ ہے کہ ہر مہینے ہمارا قرضہ کتنا بڑھ رہا ہے اور اس پر سود کتنا چڑھ رہا ہے، لیکن جو سوال ہمارے یہ ستم ظریف قاری پوچھ لیتے ہیں ان کا جواب کہیں بھی نہیں ملتا حالانکہ بظاہر بڑے آسان سوال لگتے ہیں جیسے تمہارا نام کیا ہے بسنتی، یا سبز چائے سبز اور کالی چائے کالی کیوں نہیں ہوتی ہے اور کالی بھینس سفید دودھ کیوں دیتی ہے اور اگر انسان بچھڑا نہیں ہے تو خالص دودھ کیوں مانگتا ہے یا یہ کہ پاکستان کے دس لاکھ دس ہزار دس سو دس ''خادم لوگ'' کس کی خدمت کرتے ہیں اور کیوں کرتے ہیں

سبزہ و گل کہاں سے آتے ہیں
ابر کیا چیز ہے ہوا کیا ہے

اب کے جو ہمارے کسی ''اسٹوپڈ قاری'' نے ''اسٹوپڈ'' سوال پوچھا ہے وہ یہ ہے کہ ''کارکن'' کیا ہوتے ہیں کیسے ہوتے ہیں کہاں ہوتے ہیں کس بازار میں ملتے ہیں اور کس بھاؤ بکتے ہیں یعنی یہ پتر ہٹاں وچ لبھدے نیں یا نہیں... آپ خود انصاف کیجیے یہ سوال ہم سے کیوں پوچھا جا رہا ہے اور ان سے کیوں نہیں پوچھا جاتا جن کے ''کھیسے'' میں ہزاروں لاکھوں کارکن ہر وقت اڑے رہتے ہیں بلکہ بعض اوقات تو ہزاروں کارکن ان کے ''نیفے'' میں بھی قیام پذیر ہوتے ہیں ہمارے پاس کوئی کارکن تو کیا کسی کارکن کی کوئی شکستہ سی قبر بھی نہیں ہے ہم چاہیں تو اس کا وہ جواب تو دے ہی سکتے ہیں جو ایک استاد نے شاگرد سے پوچھا، استاد جی ذرا ''کریما'' کی تشریح تو کر دیجیے اور یہ بتایئے کہ اس کا مطلب کیا ہے؟

کریما بہ بخشائے بر حال ما
کہ ہستم اسیر کمند ہوا

استاد نے طیش میں آ کر کہا تم اتنا بھی نہیں جانتے کہ ''کریما'' جو ہوتا ہے وہ ''بہ بخشائے بر حال ما ہوتا ہے اور ''ہستم'' جو ہے وہ اسیر کمند ہوا ہوتا ہے، تو ہم بھی جواب میں کہہ سکتے ہیں کہ کارکن جو ہوتے ہیں وہ کارکن ہوتے ہیں اور کارکن کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتے کیونکہ یہ ''کار'' بھی ہوتے ہیں اور ''کن'' بھی، یعنی ٹو ان ون ہوتے ہیں اور جو ٹو ان ون ہوتے ہیں وہ ون ان ٹو بھی ہوتے ہیں


لیکن آپ تو جانتے ہیں کہ قاری کتنا ہی اسٹوپڈ کیوں نہ ہو ہوتا تو قاری ہی ہے اور پھر ہماری اس چھوٹی سی دکان کے گاہک ویسے بھی کم ہوتے جا رہے ہیں اتنے بڑے بڑے ڈیپارٹمنٹ اسٹور ٹائپ کالموں میں ہمارا کالم ایسا ہے جیسے یوٹیلیٹی اسٹور کے باہر لیموں ادرک بیجا جائے چنانچہ ہم مجبور ہیں کہ ''کارکن'' کے بارے میں معلومات فراہم کریں، بہت سوچ بچار اور یہاں وہاں پوچھ تاچھ اور سن گن لینے کے بعد ہمارے ہاتھ جو کچھ لگا ہے وہ ''چھتے'' کی کہانی ہے جسے عرف عام میں ''شہد کا چھتا'' کہتے ہیں اور اس چھتے میں کارکن پائے جاتے ہیں جن کا ذکر تاریخی کتب میں یوں آیا ہے کہ

مگس کو باغ میں جانے نہ دینا
کہ ناحق خون پروانے کا ہو گا

ارے ہاں یہ تو ہم بتانا بھول گئے کہ کارکن کا تخلص ''مگس' ہوتا ہے یہ مگس یا کارکن لوگ بڑے خطرناک ہوتے ہیں ذرا سی بات پر ڈنک مارتے ہیں اور بے وقوف بھی اتنے ہوتے ہیں کہ ڈنک مارنے کے بعد یہ خود بھی ختم ہو جاتے ہیں، لیکن مرتے مرتے بھی ''چھتے'' کی عاقبت سنوار لیتے ہیں اور ان کا جمع کیا ہوا شہد کام آتا رہتا ہے اس لیے اگر یہ مگس یا کارکن لوگ چاہیں تو یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ

جو ہم پہ گزری سو گزری مگر نکھٹو صاب
ہماری موت تری عاقبت سنوار چلی

ایک مشہور و معروف مگس بان نے ہمیں بتایا کہ چھتے کا نظام ہو بہو سیاسی پارٹی جیسا ہوتا ہے جس میں ایک تو ملکہ ہوتی ہے اور اس کے اردگرد تیس چالیس نکھٹو ہوتے ہیں یہ نکھٹو یا ممتاز رہنما لوگ چھتے کے اندر آرام سے بیٹھے رہتے ہیں جیسے آپ کنٹینر سمجھ سکتے ہیں اور کارکن لوگ دربدر پھر کر اور جگہ جگہ خرچ ہو کر خوراک لاتے ہیں ملکہ اور نکھٹوؤں کو کھلاتے ہیں اور پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ نکھٹو اور ملکہ مل کر ''پیداوار'' میں لگ جاتے ہیں، ان کارکنوں کے بارے میں جو سب سے بڑی بات معلوم ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ یہ نہ تین میں ہوتے ہیں نہ تیرہ میں، یعنی نہ (HE) ہوتے ہیں نہ (SHE) صرف ایکس وائی ''زی'' ہوتے ہیں، صبح سویرے نکلتے ہیں دربدر پھرتے ہیں قدم قدم پر موت سے لڑتے ہیں اور ملکہ اور نکھٹووں کو پالتے ہیں۔

قدم قدم پر موت ان کے سامنے کھڑی ہوتی ہے کوئی نہیں جانتا حتیٰ کہ یہ کارکن خود بھی نہیں ''جانتے'' کہ نہ جانے کس ''گلی'' میں یا ''پھول اور کلی'' میں زندگی کی شام ہو جائے کیوں کہ آندھی طوفان چرند پرند انسان حیوان سب کے سب ان کی موت کے ہرکارے ہوتے ہیں ان کا نصیبہ ہی یہ ہوتا ہے کہ آنکھ کھولتے ہی کارکن بن جاتے ہیں اور مرتے دم تک ایک انتہائی بے قرار زندگی اور دی اینڈ میں بے نام و نشان موت کچھ پتہ نہیں کہ کہاں کس طرح اور کس کے ہاتھوں مرتے ہیں اور کس جانور کے پیٹ میں دفن ہوتے ہیں گویا

نہ مدعی نہ شہادت حساب پاک ہوا
کہ خون خاک نشیناں تھا رزق خاک ہوا

لیکن ملکہ اور نکھٹو کو پتہ بھی نہیں چلتا کہ آج کتنے کارکن نکلے تھے اور کتنے واپس لوٹ کر آ سکے ہیں کیونکہ ان کو تو اپنی خوراک برابر ملتی رہتی ہے ایک مرتا ہے تو دو اور پیدا ہو جاتے ہیں ہم تو ان ''کارکنوں'' کو جانتے ہیں اگر آپ کو کسی اور قسم کے کارکنوں کا پتہ ہو تو وہ بھی ہو سکتے ہیں مثلاً کچھ لوگ ''کارکنوں'' کو پستول کے پہلو میں لگا کر لوگوں کو دھمکاتے بھی ہیں کہ سیدھے ہوتے ہو یا تم پر کارکن چھوڑ دوں۔
Load Next Story