پینٹاگون نے فوجی اڈوں کے فریزر خراب ہونے کے واقعے کو مشتبہ سائبر حملہ قرار دے دیا

یہ محض تکنیکی خرابی نہیں بلکہ سائبر حملے کے ذریعے کولنگ سسٹمز کو نشانہ بنانے کی کوشش ہوسکتی ہے

پینٹاگون فوجی اڈوں کے فریزر خراب ہونے کے واقعات کو مشتبہ سائبر حملہ قرار دے کر تحقیقات کر رہا ہے.

امریکی حکام کے مطابق پینٹاگون نے ملک کے مختلف فوجی اڈوں پر موجود اشیائے خورونوش کے اسٹورز کے فریزرز میں پراسرار خرابی کے واقعات کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ حکام کو شبہ ہے کہ یہ محض تکنیکی خرابی نہیں بلکہ سائبر حملے کے ذریعے کولنگ سسٹمز کو نشانہ بنانے کی کوشش ہوسکتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق اگست کے آخر میں کم از کم 6 امریکی فوجی اڈوں کے کمسری اسٹورز میں فریزرز اور ریفریجریشن سسٹمز نے غیر معمولی طور پر کام کرنا شروع کیا۔ بعض مقامات پر درجہ حرارت اچانک بڑھ گیا اور فریزرز Defrost Mode میں چلے گئے، جس کے نتیجے میں بڑی مقدار میں گوشت، منجمد خوراک اور دیگر اشیائے خورونوش خراب ہوگئیں۔

ایریزونا کے فورٹ ہوچوکا میں بھی فریزرز کے گرم ہونے سے خوراک ضائع ہونے کی اطلاع دی گئی۔

امریکی فوج کے سائبر کمانڈ اور فوج کے کریمنل انویسٹی گیشن حکام تحقیقات میں شامل ہیں۔ امریکی حکام نے اس معاملے میں فرانسیسی قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بھی رابطہ کیا ہے، کیونکہ فرانس میں بھی رواں ماہ 350 سے زائد سپر مارکیٹس اور دیگر تجارتی مقامات کے ریفریجریشن سسٹمز کو مبینہ سائبر حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔ وہاں بھی درجہ حرارت بڑھنے سے منجمد خوراک ضائع ہوئی اور بعض مقامات پر آلات میں آگ لگنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔

سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق جدید فریزر اور صنعتی کولنگ سسٹمز میں ایسے کنٹرولرز استعمال ہوتے ہیں جو انٹرنیٹ یا نیٹ ورک سے منسلک ہوسکتے ہیں۔ اگر ان میں پرانا یا غیر محفوظ سافٹ ویئر موجود ہو تو ہیکرز درجہ حرارت اور دیگر سیٹنگز کو دور بیٹھ کر تبدیل کرسکتے ہیں۔

تاہم امریکی فوجی اڈوں کے واقعات میں ابھی تک یہ ثابت نہیں ہوا کہ واقعی ہیکرز ہی ذمہ دار تھے یا کس ملک یا گروہ نے ایسا کیا۔

Load Next Story