اقوام متحدہ: وعدے اور حقیقتیں
ہر سال 24 اکتوبر کو دنیا بھر میں اقوام متحدہ کا یومِ تاسیس منایا جاتا ہے۔ یہ وہ دن ہے جب 1945 میں اقوام متحدہ کا منشور نافذ العمل ہوا اور دنیا نے دوسری جنگِ عظیم کی تباہ کاریوں کے بعد یہ عہد کیا کہ آئندہ نسلوں کو جنگ کی ہولناکیوں سے محفوظ رکھنے، عالمی امن قائم کرنے اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے مشترکہ کوششیں کی جائیں گی۔
بظاہر یہ ایک ایسے عالمی نظام کی بنیاد تھی جس میں کسی ملک کی طاقت، اس کے رقبے، دولت یا فوجی قوت کے بجائے بین الاقوامی قانون اور انصاف کو اہمیت حاصل ہونا تھی۔ لیکن آج، قیام کے تقریباً اکیاسی برس بعد، جب ہم دنیا کے حالات پر نظر ڈالتے ہیں تو ایک سوال بار بار ذہن میں آتا ہے کہ کیا اقوام متحدہ اپنے قیام کے بنیادی مقاصد پورے کرنے میں کامیاب ہو سکی ہے؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ اقوام متحدہ کا منشور تمام رکن ممالک کی خودمختاری اور مساوی حیثیت کو تسلیم کرتا ہے۔ اصولی طور پر دنیا کا کوئی ملک محض اس لیے دوسرے ملک کے حقوق پامال نہیں کر سکتا کہ وہ اس سے زیادہ طاقتور ہے۔ لیکن عملی دنیا میں صورتِ حال اکثر اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ یہاں انصاف کے اصول تو سب کے لیے یکساں بیان کیے جاتے ہیں، مگر ان پر عمل درآمد کا معاملہ آتا ہے تو طاقتور اور کمزور ممالک کے درمیان واضح فرق محسوس ہونے لگتا ہے۔
اقوام متحدہ کے نظام میں اس تضاد کی سب سے نمایاں مثال سلامتی کونسل ہے۔ دنیا کے تمام ممالک کی نمائندگی کرنے والی جنرل اسمبلی اپنی جگہ اہمیت رکھتی ہے، لیکن عالمی امن و سلامتی کے حوالے سے فیصلہ کن اختیارات سلامتی کونسل کے پاس ہیں۔ اس کونسل کے پانچ مستقل ارکان، یعنی امریکہ، روس، چین، برطانیہ اور فرانس، کو ویٹو کا اختیار حاصل ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ان میں سے کوئی ایک ملک بھی بعض اہم قراردادوں کی منظوری روک سکتا ہے، خواہ باقی ارکان ان کے حق میں ہوں۔ کیا یہ حقیقت اقوام متحدہ کے اس بنیادی تصور سے مطابقت رکھتی ہے جس کے تحت تمام ممالک کی خودمختاری اور مساوی حیثیت کو تسلیم کیا گیا تھا؟ بلاشبہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد بڑی طاقتوں کو ایک نظام میں شریک رکھنے کے لیے ایسے انتظامات کی تاریخی وجوہات تھیں، لیکن کیا آٹھ دہائیوں بعد بھی دنیا اسی نظام کی پابند رہنے پر مجبور ہے؟
اس سوال کو سمجھنے کے لیے غزہ کی مثال ہی کافی ہے۔ 4 جون 2025 کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غزہ میں فوری اور مستقل جنگ بندی، یرغمالیوں کی رہائی اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی سے متعلق ایک قرارداد پیش کی گئی۔ اس قرارداد کے حق میں سلامتی کونسل کے 14 ارکان نے ووٹ دیا، لیکن امریکہ کے ایک مخالف ووٹ نے اسے منظور نہ ہونے دیا۔ امریکہ کا مؤقف تھا کہ قرارداد حماس کی مذمت اور اسے غیر مسلح کرنے جیسے مطالبات کو مناسب طور پر شامل نہیں کرتی۔ تاہم اس ووٹنگ کا نتیجہ یہی تھا کہ سلامتی کونسل کے باقی تمام ارکان کی حمایت کے باوجود قرارداد منظور نہ ہوسکی۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر دنیا کے 14 ممالک ایک قرارداد کی حمایت کریں اور صرف ایک ملک کے ویٹو سے وہ قرارداد منظور نہ ہو سکے تو اس نظام میں عالمی اکثریت کی رائے کی عملی حیثیت کیا رہ جاتی ہے؟ کیا ایک مستقل رکن کی پالیسی ترجیحات کو باقی تمام ارکان کی اجتماعی رائے پر فوقیت حاصل ہونی چاہیے؟ یہی وہ مقام ہے جہاں اقوام متحدہ کی ساخت اور عالمی انصاف کے تصور کے درمیان تضاد نمایاں ہو جاتا ہے جو اس کے منشور کے وعدوں کو حقیقت میں نہیں بدلنے دیتا۔
یہاں سوال صرف فلسطین کا نہیں، بلکہ اس اصول کا ہے کہ اگر کسی کمزور قوم کے حقوق پامال ہوں تو عالمی ادارے اسے تحفظ فراہم کرنے کے لیے کس حد تک مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں؟ قراردادیں منظور کرنا، تشویش کا اظہار کرنا اور مذاکرات پر زور دینا اپنی جگہ اہم ہے، لیکن اگر ان اقدامات کے باوجود زمینی صورتِ حال تبدیل نہ ہو تو عام انسان کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ آخر عالمی اداروں کی اخلاقی اپیلوں کی عملی حیثیت کیا ہے؟ اور اگر کسی طاقتور ملک کے مفادات کسی قرارداد یا اقدام کی راہ میں رکاوٹ بن جائیں تو انصاف کے حصول کے لیے کمزور فریق کہاں جائے؟
یہ صورتِ حال صرف فلسطین تک محدود نہیں۔ دنیا کے مختلف خطوں میں جنگوں، مسلح تنازعات اور انسانی بحرانوں نے یہ واضح کیا ہے کہ بین الاقوامی اداروں کے لیے امن قائم رکھنا کتنا مشکل ہو جاتا ہے، بالخصوص جب بڑی طاقتیں خود کسی تنازع کا حصہ ہوں یا ان کے سیاسی اور تزویراتی مفادات اس سے وابستہ ہوں۔ بعض معاملات میں عالمی قوانین کی خلاف ورزی پر سخت ردعمل سامنے آتا ہے، جبکہ دوسرے معاملات میں وہی عالمی برادری محتاط بیانات اور سفارتی مصلحتوں تک محدود دکھائی دیتی ہے۔ یہی فرق دوہرے معیار کے تاثر کو جنم دیتا ہے۔
اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اقوام متحدہ نے دنیا کے لیے کچھ نہیں کیا۔ صحت، تعلیم، بچوں کے حقوق، پناہ گزینوں کی مدد، خوراک کی فراہمی، بیماریوں کے خلاف جدوجہد اور قدرتی آفات کے دوران امدادی سرگرمیوں میں اقوام متحدہ اور اس کے مختلف اداروں کی خدمات سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم انسانی خدمت کے میدان میں اس کی کامیابیوں کو عالمی انصاف کے بنیادی سوال سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔ ایک ادارہ لاکھوں انسانوں کی مدد کرنے کے باوجود عالمی طاقتوں کو جواب دہ بنانے کے معاملے میں محدود ہو سکتا ہے، اور یہی وہ بنیادی کمزوری ہے جس پر سنجیدہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ سلامتی کونسل میں اصلاحات کی جائیں، عالمی نمائندگی کو زیادہ منصفانہ بنایا جائے اور ویٹو کے اختیار کے استعمال کو محدود کرنے کے لیے مؤثر راستے تلاش کیے جائیں، خصوصاً ایسے معاملات میں جہاں بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کا ضیاع ہو رہا ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ عالمی قوانین کی خلاف ورزیوں پر یکساں اصولوں کے تحت ردعمل، انسانی حقوق کا حقیقی تحفظ اور کمزور ممالک کی مؤثر نمائندگی بھی یقینی بنانا ہوگی۔ ورنہ یہ ادارہ دنیا کے مسائل پر گفتگو کرنے کا ایک اہم فورم تو رہے گا، لیکن ان مسائل کے منصفانہ حل کی ضمانت نہیں بن سکے گا۔
دنیا کو آج اقوام متحدہ کی ضرورت سے انکار نہیں، بلکہ ایک ایسی مؤثر، منصفانہ اور جواب دہ اقوام متحدہ کی ضرورت ہے جو کسی ملک کی طاقت یا کمزوری دیکھ کر اپنے اصول تبدیل نہ کرے۔ کیونکہ عالمی امن صرف طاقتور ممالک کے درمیان جنگ نہ ہونے کا نام نہیں، بلکہ اس یقین کا نام بھی ہے کہ کسی کمزور ملک، قوم یا انسان کے ساتھ ہونے والی ناانصافی پر دنیا خاموش تماشائی نہیں بنی رہے گی۔
اگر اقوام متحدہ طاقتور ممالک کو قانون کا پابند بنانے میں ناکام رہے اور کمزور ممالک کے حقوق کا تحفظ نہ کر سکے تو پھر سوال یہ نہیں ہوگا کہ دنیا کو اقوام متحدہ کی ضرورت ہے یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہوگا کہ اقوام متحدہ کو اپنے قیام کے اصل مقصد کے مطابق مؤثر بنانے کے لیے مزید کتنی نسلوں کو انتظار کرنا پڑے گا؟
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔