مسلسل کھانسی میں آرام کے لیے شہد اور ادرک سمیت چند گھریلو تدابیر
موسم کی تبدیلی کے ساتھ نزلہ، زکام اور کھانسی کی شکایات عام ہوجاتی ہیں۔ بعض اوقات انفیکشن ختم ہونے کے بعد بھی کھانسی کئی دن تک برقرار رہتی ہے، جس سے نیند اور روزمرہ سرگرمیاں متاثر ہوسکتی ہیں۔
دھواں، گردوغبار، الرجی اور سانس کی نالیوں میں بلغم کی موجودگی بھی کھانسی کو بڑھا سکتی ہے۔ چند گھریلو تدابیر گلے کی خراش اور کھانسی میں عارضی آرام دے سکتی ہیں، تاہم مسلسل کھانسی کی اصل وجہ جاننا ضروری ہے۔
شہد سے گلے کو سکون
شہد گلے میں خراش اور کھانسی کی شدت کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے، خصوصاً رات کے وقت ہونے والی کھانسی میں۔ ایک کپ نیم گرم پانی میں ایک سے دو چائے کے چمچ شہد ملا کر پیا جاسکتا ہے۔ اسے کھانسی کا یقینی علاج نہیں سمجھنا چاہیے، لیکن بعض افراد کو اس سے وقتی راحت ملتی ہے۔ ایک سال سے کم عمر بچوں کو شہد ہرگز نہ دیں۔
ادرک کی چائے
ادرک میں ایسے مرکبات پائے جاتے ہیں جن کی سوزش کم کرنے والی خصوصیات پر تحقیق کی گئی ہے۔ ادرک کے چند ٹکڑے گرم پانی میں ڈال کر کچھ دیر پکائیں اور پھر چائے کی طرح پی لیں۔ یہ گرم مشروب گلے کو سکون دے سکتا ہے، تاہم اس بات کے مضبوط شواہد موجود نہیں کہ ادرک ہر قسم کی کھانسی ختم کردیتی ہے۔
دارچینی اور لونگ کا مشروب
دارچینی اور لونگ اپنے ذائقے اور خوشبو کے باعث گرم مشروبات میں استعمال کیے جاتے ہیں۔ پانی میں ادرک کے چند ٹکڑے، دارچینی کا چھوٹا سا ٹکڑا اور ایک دو لونگ ڈال کر ابالا جاسکتا ہے۔ یہ مشروب گلے کو وقتی آرام دے سکتا ہے، لیکن دارچینی یا لونگ کے ذریعے کھانسی یا انفیکشن کا علاج ہونے کے دعوے ثابت شدہ نہیں۔
دھوئیں اور گردوغبار سے بچاؤ
اگر کھانسی دھوئیں، گردوغبار یا کسی مخصوص بو سے بڑھتی ہو تو ان محرکات سے دور رہنا مفید ہوسکتا ہے۔ کمرے میں مناسب نمی برقرار رکھنا اور پانی مناسب مقدار میں پینا بھی گلے کی خشکی کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ بہت گرم بھاپ لینے سے گریز کریں، کیونکہ اس سے جلنے کا خطرہ ہوتا ہے۔
اگر کھانسی تین ہفتے سے زیادہ جاری رہے، سانس لینے میں دشواری ہو، سینے میں درد ہو، خون آئے یا تیز بخار برقرار رہے تو طبی معائنہ کروانا چاہیے۔ کھانسی کی وجہ معلوم کیے بغیر صرف گھریلو ٹوٹکوں پر انحصار کرنا مناسب نہیں۔