تین دیس‘ ایک دل
سماج‘ کتابوں کے ذریعے سانس لیتاہے۔ لکھاری معاشرے کے لیے‘ وہی کردار سرانجام دیتے ہیں جو انسانی جسم میں ’’دل ‘‘ کام کرتا ہے ۔ سوچنے والے لوگ ہی کسی معاشرے کو وہ بنیادی خدودخال دیتے ہیں جن سے ایک مخصوض ترتیب نمو ہوتی ہے۔ سوچیے۔ اگر والٹائر نہ ہوتا‘ جی ایس ملز پیدا نہ ہوتا‘ اس سطح کے قیمتی ترین لوگ قدرت ودیعت نہ کرتی‘ تو انسانی حقوق‘ جموریت کا نام لینے والا تک موجود نہ ہوتا۔ عرض کرنے کا مقصد بالکل سادہ سا ہے۔ لکھنے والے اور غور و خوض کرنے والے بیش قیمت لوگ کسی بھی قوم کا جھومر ہوتے ہیں۔ آزاد قومیں ان کی قدر و منزلت کرتی ہیں۔ ہماری جیسی نیم غلام قومیں‘ ڈر کی وجہ سے سوچنے والوں کا ساتھ دینا پسند نہیں فرماتی۔ بہرحال اب اس کتاب‘ تین دیس ‘ ایک دل کی طرف آتا ہوں۔ جو طارق محمود مرزا نے تحریر کی ہے۔ اس سفر نامہ میں ترکی ‘ ملائیشیا اور انڈونیشیا کا جامع ذکر کیا گیا ہے۔
طارق محمود بذات خود اپنے سفر نامہ کی بابت رقم طراز ہیں۔تین دیس ایک دل‘ ایسے ہی سفری مشاہدے کا قصہ ہے جو میںنے دل کی آنکھوں سے دیکھا اور دل کی روشنائی سے لکھا ہے۔ یہ صرف جسمانی نہیں بلکہ میرا وجدانی سفر بھی ہے۔ یوں یہ سفر در سفر ہے۔ یہ سفر میں نے ایک سیاح کے طور پر بھی اور ایک زائر بلکہ عاشق کے طور پر بھی کیا ہے۔ دوران تحریر بھی اس نے میرے قلب و روح کو گرمائے رکھا۔ جس میں شہر عشق قونیہ‘ اس کی روحانی فضا‘ امام جذب و عرفان مولانا رومی کے مزار پر انوار کی زیارت اور ان کے پیر حضرت شمس تبریزی کے جذب و سرور کا تذکرہ شامل ہو‘ وہ صرف سفر نامہ نہیں‘ داستان عشق و مستی بن جاتاہے۔
ٹیکسی کوالالمپور ایئرپورٹ سے باہر نکلی تو اس جزیرہ نما ملک پر شب کی سیاہی سایہ فگن ہو رہی تھی۔ شہر اچھا خاصا دور تھا۔ راہ میں کہیں ہموار شاہراہ‘ کہیں اشجار کے جھنڈ‘ کہیں درمیان سائز کی پہاڑیاں‘ کہیں کناروں پر نصب کھمبوں اور عمارتوں پر برقی قمقمے ایک دلکش اور پررونق شہر کی گواہی دے رہے تھے۔ میں نے ایک دو بار ٹیکسی ڈرائیور سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن معاملہ مسکراہٹ سے آگے نہیں بڑھا۔ زبان آڑے آ گئی۔ ٹیکسی میں ایئر کنڈیشنز کی خنکی تھی جبکہ باہر حبس تھا۔ اگلے تین دن ایسا ہی موسم رہا‘ بلکہ ملائیشیا میں سال کے بارہ ماہ تقریباً یہی موسم رہتا ہے۔ یہاں سردی نہیں پڑتی۔دنیا کے بلند ترین جڑواں ٹاور کی زیارت‘ خریداری اور مشہور زمانہ اسٹار بک کی کافی نوش کرنے کے بعد ہوٹل واپس جانے کا وقت ہو گیا۔ کیونکہ دوپہر دو بجے ایک دوست عاطر عثمانی ملنے اور کہیں لے جانے کے لیے تشریف لا رہے تھے۔عاطر عثمانی کا تعلق پاکستان کے تاریخی شہر ملتان سے ہے‘ تعلیم و تربیت زندہ دلوں کے شہر لاہور میں ہوئی جبکہ پچھلے تین عشروں سے ملائیشیا میں مقیم ہیں۔ بہت عمدہ شعر کہتے ہیں۔ بچپن سے شعر و ادب سے شغف تھا جو لاہور کی بلند پایہ ادبی محفلوں میں مزید پروان چڑھا۔ اگلے تین دن مجھے ان کی دلچسپ و رنگین صحبت سے مستفیض ہونے کا موقع ملا جو یاد گار ثابت ہوئے۔
ہوٹل پہنچا ہی تھا کہ عاطر عثمانی صاحب کا فون آ گیا۔ وہ باہر منتظر تھے۔ میں لفٹ سے باہر نکلا تو سامنے کھڑے تھے۔ اس تپاک سے ملے جیسے برسوں پرانی دوستی ہو۔ حالانکہ یہ ہماری پہلی ملاقات تھی۔ تاہم کئی برسوں سے ہمارا سوشل میڈیا پر رابطہ تھا اور ایک دوسرے کی ادبی کاوشوں سے واقف تھے۔ عاطر عثمانی صاحب کو جونہی علم ہوا کہ میں ملائیشیا آ رہا ہوں تو فوراً ملاقات کی دعوت دی۔ بلکہ میرے اعزاز میں شاندار ادبی تقریب کا اہتمام کر ڈالا۔ یہ ان کی محبت‘ مہمان نوازی اور ادب دوستی تھی۔
اس جناتی سائز کے کمپلیکس کا نام پویلین (Pavalian) ہے۔ لغت میں اس کا ترجمہ خیمہ ہے جو اس کے سائز کی مناسبت سے مذاق لگتا ہے۔ اس ترجمے کو ذہن میں رکھتے ہوئے ایک دوست دوسرے کو فون کرتا ہے۔ آج شام خیمے میں چلتے ہیں۔ کسی اچھے سے ریستوران میں کھانا کھائیں گے اور تھیٹر پر فلم دیکھیں گے۔ وقت ملا تو کسی بین الاقوامی برانڈ کے اسٹور سے شاپنگ بھی کریں گے‘‘۔
دوسرا دوست کہتا ہے ’’ہاں یار خیمے میں کوئی کھیل کھیلیں گے یا جمنازیم میں کسرت کریں گے۔ کم از کم پول میں تیرا کی ضرور کریں گے‘‘۔
’’ٹھیک ہے یار! وہاں فائیو ااسٹار ہوٹل ہے۔ رات وہاں قیام بھی کر سکتے ہیں‘‘۔
بہرحال میرے لیے یہ خیمہ ہی تھا کیونکہ میں مسافر تھا۔ میری ضروریات محدود تھیں۔ خریداری کا ابھی متحمل نہیں ہو سکتا تھا کہ لمبا سفر درپیش تھا اس لیے سامان مختصر رکھتا تھا۔ یہ اصول زندگی پر بھی صادق آتا ہے۔ ڈاکٹر نگہت افتخار کے اشعار ہیں:
چاہے نظریں ہوں آسمانوں پر
پاؤں لیکن زمین پر رکھیے
جانے کس وقت کوچ کرنا ہو
اپنا سامان مختصر رکھیے
یورپ اور ایشیا کا سنگم‘ استنبول :دیوارقسطنطنیہ کا شمار دنیا کی قدیم ترین عمارتوں میں ہوتا ہے۔ اس کی درست تاریخ تعمیر جاننا مشکل ہے ۔ کیونکہ اس میں تعمیر و توسیع کا عمل جاری رہا۔410ء میں جب شہنشاہ کو علم ہوا کہ روم پر ویزگوتھیوں نے قبضہ کر لیا ہے تو اس نے شہر کو محفوظ بنانے کے لیے پرانی دیواروں کے آگے یہ بلند و بالا دیوار کھڑی کر دی۔ اس دیوار میں 96برج تھے اور تقریباً 12کلومیٹر طویل تھی۔ صدیوں کے انحطاط سے گزرنے کے بعد اس دیوار کی لمبائی ساڑھے پانچ کلومیٹر رہ گئی ۔ اس کے چند دروازے اب بھی سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہیں۔ ان میں سے ایک میرے ہوٹل سے بالکل سامنے واقع تھا۔اس گزر گاہ سے گزرتے ہوئے میرے ذہن میں عجیب و غریب خیالات آتے۔ میں چشم تصور سے دیکھتا کہ دومتحارب افواج اس سروقد دیوار کے آر پار مورچہ زن ہیں۔ بیرونی فوج کیل کانٹے سے لیس ہو کر ان دیواروں کو پامال کرنے اور شہر پر قیامت بن کر نازل ہونے کے لیے کمربستہ ہے جبکہ اندرونی فوج اور عوام اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔مؤرخ ہمیشہ فاتحین اور مفتوحین کا ذکر کرتے ہیں مگر اس دور کے عوام الناس ‘ عورتوں ‘ بچوں‘ بوڑھوں‘ باپوں‘ ماؤں اور دیگر معصوم لوگوں پر جنگ کے اثرات کا ذکر کہیں نہیں ملتا۔ اس غارت گری سے جو نسلیں معدوم ہوتی ہیں جن کی ہڈیاں بے نام قبروں کی شکل میں رزق خاک بنتی ہیں۔ تاریخ ان، ان گنت لوگوں کے بارے میں مکمل خاموش ہے۔ تباہ کن جنگوں کے دوران لوگوں کی ذہنی اور نفسیاتی کیفیت کیا ہوتی ہے۔ طویل جنگوں میں موت و زیست کے درمیان معلق رہ کر پروان چڑھنے والی نسلیں کس کرب و اذیت سے گزرتی ہیں۔ اس غارت گری کا اثر آنے والی نسلوں پر کیا ہوتا ہے۔ ان کے لیے الگ تاریخ مرتب ہونی چاہیے۔ اس نسل پر مرتب ہونے والے نفسیاتی ‘ ذہنی اور سماجی اثرات کا تجزیہ ہونا چاہیے۔ اپنے اردگرد شب و روز موت کا بازار گرم دیکھ کر ان کے قلب و ذہن پر کیا بیتتی ہے اور یہ مناظر تاحیات ڈراؤنے خواب بن کر کیسے اذیت دیتے ہیں۔ تاریخ کے صفحات اس پر خاموش ہیں۔
میں اس ہال میں داخل ہوا تو دل ایسے دھڑک رہا تھا جیسے کلیجے سے نکلا جا رہا ہو۔ اس کوچہ محبوب میں کیسے گیا‘ کیا کیا دیکھا‘ کیا محسوس کیا‘ وہ بیان کرنا ناممکن ہے۔ حضورﷺ کا موئے مبارک دیکھ کر میرے قلب و ذہن پر کیا گزری ‘ ان کا نقش پا دیکھ کر میری آنکھوں نے کیسے سجدے کیے۔ حضور پاکﷺ کا جبہ‘ دانت اور داڑھی مبارک کے بال دیکھ کر روح بھی سرشار ہو گئی۔ نبی پاکﷺ کی شمشیر ‘ تیر کمان اور مہریں دیکھ کر ان کی خوشبو کا احساس ہوا۔ ان کے روضہ اطہر کی خاک‘ ان کے مخطوطات اور اس دور کے قرآنی نسخے‘ یہ سب میں نے زائر کی نہیں عاشق کی نظروں سے دیکھا‘دل کی آنکھوں سے دیکھا اور روح میں بسا کر وہاں سے نکلا۔
ہندوانہ تمدن کا حامل‘بالی: اس دوران میں مجھے بالی کی بودوباش‘ طرز تعمیر‘ ان کے باغات‘ گلیاں اور گھر دیکھنے کا بھرپور موقع ملا۔راستے میں بھی کئی چھوٹے بڑے مندر نظر آئے جو بناوٹ و سجاوٹ میں منفرد تھے۔ ان مندروں پر ان کی دیوی دیوتاؤں کے ساتھ بندروں کی مورتیاں ہر جگہ نظر آئیں جو ان کے عقیدے کا اہم جزو ہے۔
بندروں سے ان کی گہری عقیدت کا عملی اظہار ہم نے منکی ٹمپل پہنچ کر دیکھا۔یہ مندر گھنے جنگلوں میں ایک ندی کے کنارے واقع تھا۔ گاڑی پارکنگ میں چھوڑ کر میںنے ڈرائیور کو بتایا ’’میں یہیں آ کر ملوں گا‘‘۔
استقبالیہ عمارت میں ٹکٹ گھر‘ کیفے اور دیگر ضروریات موجود تھیں۔ قدیم و ضخیم درختوں کے بیچ بنی پگڈنڈیوں پر دن میں بھی رات کا سا سماں تھا۔ سیاحوں کی بے شمار ٹولیاں آ جا رہی تھیں۔ وہاں کئی مقامی کھڑے گائیڈ اور محافظ کی حیثیت سے اپنی خدمات پیش کر رہے تھے۔
آخر میں عطاء الحق قاسمی صاحب کے الفاظ استعمال کروں گا۔مصنف نے نہ سیاحتی گائیڈ بننے کی کوشش کی ہے‘ نہ تاریخ کا بوجھ قاری پر لادا ہے۔ وہ گلیوں میں چلتا ہے‘ لوگوں سے ملتا ہے‘ مساجد میں رکتا ہے‘ بازاروں میں چونکتا ہے اور کہیں کہیں خود پر بھی مسکراتا ہے۔ یہی خود آگاہی اس سفر نامے کو محض معلوماتی نہیں رہنے دیتی بلکہ ایک زندہ‘ متحرک اور پڑھنے میں لطف دینے والی تحریر بنا دیتی ہے۔