سندھ ہائیکورٹ: بھارتی خفیہ ایجنسی را کے مبینہ ایجنٹ کی عمر قید کی سزا کالعدم قرار
(فوٹو: فائل)
سندھ ہائیکورٹ نے بھارتی خفیہ ایجنسی را کے مبینہ ایجنٹ کی عمر قید کی سزا کیخلاف اپیل جزوی طور پر منظور کرلی۔
ہائیکورٹ نے بھارتی خفیہ ایجنسی را کے مبینہ ایجنٹ کی عمر قید کی سزا کیخلاف اپیل کا فیصلہ سنادیا۔ عدالت نے ریاست کیخلاف سازش اور مسلح جارحیت کے الزامات کے تحت عمر قید کی سزا کالعدم قرار دیدی۔ عدالت نے ملزم سلیم کی انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت سزا کالعدم قرار دیدی۔
عدالت نے دھماکہ خیز مواد کے تحت عمر قید کی سزا کو 10 برس قید میں تبدیل کردیا۔ عدالت نے ملزم کیخلاف غیر قانونی اسلحے کے الزامات میں 10 برس قید اور جرمانے کی سزا برقرار رکھنے کا حکم دیدیا۔ عدالت نے کہا کہ بھارتی ایجنسی را سے تعلق اور ملک کیخلاف سازش کے الزامات کے لیے قابل اعتماد شواہد پیش نہیں کیئے گئے۔
ملزم کے بھارت کے دوروں کی سفری تاریخ بذات خود را سے تعلق یا ریاست کیخلاف سازش ثابت نہیں کرتی۔ استغاثہ کسی مبینہ ساتھی کے ساتھ سازش، رابطے یا ریاست کے خلاف جنگ کی تیاری کے شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا۔ دھماکا خیز مواد اور اسلحے کی برآمدگی سے خود بخود دہشتگردی کا جرم ثابت نہیں ہوتا، دہشت پھیلانے کے مخصوص ارادے اور مقصد کو ثابت کرنا ضروری ہے۔
سرکاری وکیل نے موقف دیا تھا کہ 7 اکتوبر 2024 کو ایس آئی یو نے منوڑا کے علاقے میں راء ایجنٹ کی اطلاع پر کارروائی کی۔ ملزم کے قبضے سے پستول، دھماکہ خیز مواد اوان بم اور راکٹ لانچر برآمد ہوئے۔ ملزم کے قبضے سے 2 پاسپورٹس بھی برآمد ہوئے۔
سرکاری وکیل کے مطابق محمد سلیم نے پاکستانی شہریت غیر قانونی طریقوں سے حاصل کی۔ انسداد دہشتگردی عدالت نے ملزم کو 3 بار عمر قید جبکہ دیگر الزامات کے تحت مجموعی طور پر 34 برس قید کی سزا سنائی تھی۔ وکیل صفائی نے موقف دیا تھا کہ ملزم پر تمام الزامات بے بنیاد ہیں جن کا کوئی ثبوت نہیں۔