حلال انڈسٹری میں نوجوانوں اور چھوٹے کاروباروں کے لیے وسیع مواقع دستیاب ہیں، وفاقی وزیر

پاکستان عالمی حلال مارکیٹ میں اہم مقام حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، خالد مگسی کا پاکستان کے پہلے حلال فورم سے خطاب

کراچی:

وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی خالد حسین مگسی نے کہا ہے کہ حلال معیشت کے فروغ کے لیے سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت ناگزیر ہے، پاکستان عالمی حلال مارکیٹ میں اہم مقام حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

 یہ بات انہوں نے ہفتے کو پاکستان کے پہلے حلال فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ حلال انڈسٹری عالمی معیشت کا ایک اہم شعبہ بن چکی ہے، پاکستان میں حلال مصنوعات کی برآمدات بڑھانے کے وسیع مواقع موجود ہیں، پاکستان حلال اتھارٹی ملک میں حلال مصنوعات کا قومی ریگولیٹری ادارہ ہے، حلال مصنوعات کے معیار اور سرٹیفکیشن کے نظام کو مزید مؤثر بنائیں گے۔

 انہوں نے کہا کہ عالمی معیار کی باہمی منظوری سے پاکستانی مصنوعات کی برآمدات بڑھائی جاسکتی ہیں، حلال انڈسٹری میں نوجوانوں اور چھوٹے کاروباروں کے لیے وسیع مواقع دستیاب ہیں، حلال مصنوعات کی عالمی منڈیوں تک رسائی کے لیے بین الاقوامی تعاون ضروری ہے۔

 انہوں نے کہا کہ پاکستان حلال اتھارٹی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے اور حلال شعبے میں عالمی اداروں کے ساتھ شراکت داری کو فروغ دیں گے۔

وفاقی وزیر نے میڈیا ٹاک کرتے ہوئے کہا کہ حلال معیشت کے فروغ کے لیے سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت ناگزیر ہیں، پاکستان عالمی حلال مارکیٹ میں اہم مقام حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، حلال مصنوعات کے معیار اور سرٹیفکیشن کے نظام کو مزید مؤثر بنائیں گے۔

قبل ازیں حلال فورم آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئرمین اسد سجاد نے کہا کہ دنیا کی دوسری بڑی مسلم آبادی کے باوجود پاکستان کا عالمی حلال معیشت میں صرف 1 فیصد حصہ ہے۔ ہمارا مقصد خام مال کی برآمدات سے ویلیو ایڈڈ سرٹیفائیڈ حلال برآمدات کی طرف جانا ہے، ویلیوایڈڈ حلال پراڈکٹس کی برآمدی مالیت 40 سے 50 ارب ڈالر ہوسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حلال فورم ایس ایم ایز کو خلیجی ممالک، ملائیشیا، انڈونیشیا اور دیگر ممالک کے خریداروں سے براہ راست جوڑے گا، حلال کی نئی نسل صرف خوراک تک محدود نہیں بلکہ اس میں فارما، کاسمیٹکس، لاجسٹکس، موڈیسٹ فیشن، حلال ٹورزم، اسلامک فن ٹیک، کیو آر کوڈ، بلاک چین ویریفیکیشن اور اے آئی آڈٹ جیسی جدید ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔

Load Next Story