سارہ علی خان کے مندر جانے پر فتویٰ آگیا، معافی مانگنے کا مشورہ
بالی ووڈ اداکارہ سارہ علی خان کے بھارتی ریاست اتراکھنڈ میں واقع کیدارناتھ مندر کے دورے پر مذہبی تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ بریلی سے تعلق رکھنے والے عالمِ دین مفتی شہاب الدین رضوی بریلوی نے اداکارہ کے مندر جانے، عبادت اور مذہبی رسومات میں شرکت کو شریعت کے مطابق ناجائز اور حرام قرار دیتے ہوئے انہیں اللہ سے توبہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم جماعت کے قومی صدر مفتی شہاب الدین رضوی کا کہنا تھا کہ انہیں سارہ علی خان کے مندر جانے اور وہاں عبادت کرنے سے متعلق متعدد سوالات موصول ہوئے، جس پر انہوں نے اپنا شرعی مؤقف واضح کیا۔ ان کے مطابق کسی مسلمان مرد یا عورت کا دوسرے مذہب کی عبادات اور مذہبی رسومات میں شریک ہونا شرعی طور پر جائز نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر سارہ نے اپنی مرضی سے یہ عمل کیا ہے تو انہیں اللہ سے معافی مانگنی چاہیے۔
سارہ علی خان کا کیدارناتھ مندر سے تعلق ان کی 2018 میں ریلیز ہونے والی پہلی فلم ’کیدارناتھ‘ کے بعد سے نمایاں رہا ہے، جس میں انہوں نے آنجہانی اداکار سشانت سنگھ راجپوت کے ساتھ کام کیا تھا۔ گزشتہ چار برس کے دوران بھی وہ اس ہمالیائی مقام کے دوروں کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرتی رہی ہیں اور اسے اپنے لیے روحانی سکون کا ذریعہ قرار دیتی رہی ہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ ان کے مندر جانے پر بحث ہوئی ہو۔ 2018 میں فلم ’کیدارناتھ‘ کی کہانی پر دائیں بازو کی تنظیموں نے احتجاج کیا تھا، جبکہ ان کے مختلف مذاہب سے متعلق ذاتی طرزِ عمل پر بعض قدامت پسند مذہبی حلقے سوشل میڈیا پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ حالیہ دورے کے دوران میڈیا رپورٹس کے مطابق سارہ نے مرکزی مندر کے علاوہ قریب واقع بھوکنٹ بھیرَو مندر میں بھی پوجا اور آرتی کی رسومات میں شرکت کی۔
فلمی مصروفیات کی بات کی جائے تو سارہ علی خان حال ہی میں آیوشمان کھرانہ کے ساتھ فلم ’اڑتا تیر‘ میں نظر آئی ہیں۔ آکاش اے کوشک کی ہدایت کاری میں بننے والی یہ اسپائی کامیڈی ان کی بطور ہدایت کار پہلی فلم ہے۔ تجارتی تجزیہ کار ترن آدرش کے مطابق فلم نے ریلیز کے پہلے روز چار کروڑ روپے سے زائد کا بزنس کیا۔ فلم میں راہول بوس، رام کپور، سہیل نیر، گلشن گروور، مکل دیو، رگھوبیر یادو، برجندر کالا، سندیپ آنند، سپریا پلگاؤںکر اور اسمیتا تامبے بھی شامل ہیں۔