اینڈرائیڈ صارفین ’ایس ایم ایس آف ڈیتھ‘ سے ہوجائیں ہوشیار!

اس سیکیورٹی نقص کو CVE-2026-58882 کا نام دیا گیا ہے

اینڈرائیڈ اسمارٹ فونز میں ایک سنگین سیکیورٹی خامی سامنے آئی ہے، جس کے ذریعے حملہ آور صارف کی مداخلت کے بغیر فون کو ناکارہ بنا سکتے ہیں۔

سیکیورٹی محقق مارک بلاسزک کے مطابق ایک خصوصی طور پر تیار کردہ ٹیکسٹ میسج ’ایس ایم ایس آف ڈیتھ‘ اینڈرائیڈ سسٹم کو کریش کر سکتا ہے۔

یہ پیغام صارف کے ان باکس میں ظاہر نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کی کوئی اطلاع ملتی ہے. تاہم، یہ فون کالز کو کنٹرول کرنے والے سسٹم کو متاثر کرتا ہے۔اس کے نتیجے میں جاری کالز منقطع ہو سکتی ہیں حتیٰ کہ ایمرجنسی سروسز سے ہونے والی کال بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

محقق کے مطابق تقریباً 20 نقصان دہ پیغامات فون کو مسلسل کریش ہونے یا بوٹ لوپ میں پھنسنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ یہ خامی گوگل پکسل اور سام سنگ گلیکسی سمیت متاثرہ اینڈرائیڈ ڈیوائسز میں دیکھی گئی ہے جبکہ اس کا تعلق اینڈرائیڈ 12 سے موجود کوڈ سے ہے۔

اس سیکیورٹی نقص کو CVE-2026-58882 کا نام دیا گیا ہے اور اسے انتہائی سنگین قرار دیا گیا ہے۔

محقق نے 5 مئی کو گوگل کو اس مسئلے سے آگاہ کیا تھا لیکن ان کے مطابق کمپنی نے ابتدائی طور پر اسے سیکیورٹی کا مسئلہ تسلیم نہیں کیا۔بعد ازاں 29 اکتوبر کو انہوں نے اس خامی کی تفصیلات اور عملی مظاہرہ عوامی سطح پر جاری کر دیا۔

دوسری جانب اینڈرائیڈ کے کوڈ ریکارڈز کے مطابق گوگل نے 15 جون کو ہی اس مسئلے کا حل تیار کر لیا تھا جبکہ جولائی میں سیکیورٹی پری ویوز کے ذریعے یہ حل فراہم بھی کیا گیا۔

محقق کے مطابق گوگل نے اینڈرائیڈ 14 سے 17 تک کے لیے اکتوبر کی سیکیورٹی اپ ڈیٹس میں بھی اس کا حل شامل کیا ہے۔

ماہرین نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے فونز میں تازہ ترین دستیاب سیکیورٹی اپ ڈیٹس فوری انسٹال کریں کیونکہ پرانے اور غیر اپ ڈیٹ شدہ فونز اب بھی خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔

Load Next Story