الزائمر کے علاج میں اہم پیشرفت، خطرناک جین کا خطرہ کم کرنے کا تجربہ کامیاب
برطانیہ کی یونیورسٹی آف برسٹل کے سائنس دانوں نے الزائمر کے خلاف جین تھراپی کے شعبے میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے خطرناک جین کو کم خطرے والے جین میں تبدیل کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔
محققین نے انسانی خلیوں میں خصوصی ٹیکنالوجی کی مدد سے الزائمر کے خطرے سے منسلک جین APOE4 کو نسبتاً محفوظ جین APOE3 میں تبدیل کیا۔
سائنس دانوں کے مطابق مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کو صرف ایک مرتبہ انجیکشن کے ذریعے جسم میں پہنچانا ممکن ہو سکتا ہے جس سے بیماری کی روک تھام اور علاج میں مدد مل سکتی ہے۔
الزائمر ڈیمنشیا کی سب سے عام قسم ہے اور برطانیہ میں ڈیمنشیا کے تقریباً 10 لاکھ مریضوں میں سے 60 فیصد اس بیماری کا شکار ہیں۔
تحقیق کے مطابق APOE4 جین الزائمر کا سب سے بڑا جینیاتی خطرہ سمجھا جاتا ہے جبکہ APOE3 جین نسبتاً کم خطرے سے وابستہ ہے۔
تقریباً ہر چار میں سے ایک شخص میں APOE4 جین کی کم از کم ایک نقل موجود ہوتی ہے جبکہ ہر 50 میں سے ایک شخص میں اس کی دونوں نقول پائی جاتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق APOE4 جین کی موجودگی کا مطلب یہ نہیں کہ انسان لازمی طور پر الزائمر کا شکار ہوگا لیکن اس سے بیماری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ جسمانی سرگرمیوں میں حصہ لینا اور سماجی روابط برقرار رکھنا بھی الزائمر کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
محققین کی یہ پیش رفت مستقبل میں الزائمر سے بچاؤ اور علاج کے لیے نئی جین تھراپی کی راہ ہموار کر سکتی ہے، تاہم اس ٹیکنالوجی کے انسانی علاج میں استعمال کے لیے مزید تحقیق اور آزمائشیں ضروری ہوں گی۔