خزینہ حیات اور پاکستانی جامعات

کتاب کا پیش لفظ سید عامر اشرف نے اور تعارف ڈاکٹر طاہر مسعود نے تحریر کیا ہے

گزشتہ کئی ہفتوں سے ڈاکٹر معین الدین عقیل کی تین کتابیں میرے زیر مطالعہ رہیں، بعنوانات ’’ پاکستانی جامعات‘‘، ’’مشرق تاباں‘‘ اور تیسری کتاب ہے ’’خزینہ حیات‘‘چونکہ تینوں کتابوں پر بیک وقت لکھنا ممکن نظر نہیں آرہا۔

لہذا میں نے اس کالم میں ’’خزینہ حیات‘‘کا انتخاب کیا ہے، اس کتاب کا سن اشاعت 25 جون 2026 ہے، تازہ ترین یہی کتاب ہے، ’’پاکستانی جامعات تعلیم اور تحقیق‘‘2023 ، یہ منصہ شہود پر جلوہ گر ہوئی، ’’مشرق تاباں۔‘‘ 2010 کو قارئین و ناقدین کے ہاتھوں میں آئی اور جاپان میں ہونیوالے قابل قدر کاموں کا احوال ڈاکٹر معین الدین عقیل کے قلم تاباں کے ذریعے سامنے آیا اور ان لوگوں کی حیرانی اور استعجاب کو بام عروج بخش دیا جو جاپان میں ہونیوالے علمی و ادبی کاموں سے واقفیت نہیں رکھتے تھے۔

مذکورہ کتاب پر خامہ فرسائی سے پہلے پاکستانی جامعات اور خزینہ حیات کا تعارف کراتے چلیں چونکہ تینوں کتابوں پر ہی لکھنے کی خواہش پایہ تکمیل تک پہنچ چکی ہے۔ تو پھر ’’پاکستانی جامعات تعلیم اور تحقیق‘‘ پر مختصر سی گفتگو ہو جائے چونکہ اگر تفصیل سے لکھنے کی کوشش کروں تو کتابوں میں موجود اہم اور نادر معلومات کے لیے صفحے کے صفحے چاہئیں تب کہیں بات بنے گی لیکن جگہ کی کمی کے باعث چند صفحات پر ہی اکتفا کرنا ہماری مجبوری ہے اور ’’مشرق تاباں‘‘ پر انشا اللہ آیندہ لکھنے کی کوشش کروں گی۔

کتاب کا پیش لفظ سید عامر اشرف نے اور تعارف ڈاکٹر طاہر مسعود نے تحریر کیا ہے۔ سید عامر اشرف ڈاکٹر طاہر مسعود کے شاگرد رشید ہیں، بقول ڈاکٹر طاہر مسعود کہ ’’ انھوں نے (سید عامر اشرف) نہایت دیانت داری اور جرأت سے سوالات کیے اور اس انٹرویو کو نہایت مفید اور کارآمد دستاویز بنا دیا۔‘‘ سید عامر اشرف نے پہلا باب جس کا عنوان ’’پاکستانی جامعات میں تحقیق کی صورتحال‘‘ ہے۔

عامر اشرف نے ڈاکٹر معین الدین عقیل سے سوالات کی صورت میں بہت سی اہم معلومات، ان کی رائے اور تجربات کی روشنی میں وہ معلومات حاصل کیں، جن کا جاننا ادب کے طالبعلم کے لیے نہایت ضروری ہے، بعض اساتذہ بھی علمی و تدریسی اداروں کی زبوں حالی سے ناواقف ہیں۔ عامر اشرف نے بہت سے وہ سوالات کیے ہیں جو تشنگان علم کی پیاس بجھانے کے لیے ہیں۔

عامر اشرف صاحب نے سوالات کے نمبر نہیں لکھے ہیں جس کی وجہ سے سوال و جواب گڈمڈ سے ہو جاتے ہیں۔ یہ حالات ان قارئین کے لیے پیدا نہیں ہوتے ہیں جو توجہ کے ساتھ مطالعہ کرتے ہیں۔ کتاب میں ڈاکٹر صاحب کی زندگی کے اہم اوراق قاری کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانے کا سبب ہیں۔

پیدائش 25 جون 1946 جنم بھومی ریاست حیدرآباد، بچپن، تعلیم، شادی، شریک حیات اور ڈاکٹر صاحب کی خوش نصیبی تھی کہ ان کی ہم خیال اور اعلیٰ تعلیم یافتہ جاپانی زبان کی استاد ،ڈاکٹر معین الدین عقیل نے بیرون ملک کی پانچ نامور یونیورسٹیوں اورینٹل یونیورسٹی، نیپلز (اٹلی) اس کے بعد ٹوکیو یونیورسٹی آف فارن اسٹڈیز تین اور یونیورسٹیوں، دائتو یونیورسٹی، بنکا یونیورسٹی اوساکایونیورسٹی اورکیوتو یونیورسٹی سے اعزازات حاصل کیے۔

انھوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جو مقالات کتابوں کی صورت میں شائع ہوتے رہے ہیں تو ان کے بارے میں میری رائے یہ ہے کہ میں پاکستان میں تحقیق کے معیار اور موضوعات کے تعلق سے سخت مایوس ہوں اور یہ مایوسی روز افزوں ہے، اگر تحقیق معیاری اور نتیجہ خیز نہ ہو، علوم کی ترقی اور تہذیب و معاشرت کو فایدہ نہ پہنچا سکے، یہ مزید تحقیقات اور علمی ترقیوں کے در وا نہ کرے تو ایسی تحقیق جامعاتی اور ملکی و قومی وسائل کے ضیاع کا سبب بنتی ہے اور ہمارے ملک میں ایسا ہی ہو رہا ہے۔‘‘

عامر اشرف نے سوال کیا کہ آپ نے جاپان جا کر تحقیق بھی کی اور تدریس بھی آپ کا تجربہ کیسا رہا اور پھر آپ نے اپنا کتب خانہ بھی جاپانیوں کو دے دیا اس کی وجہ؟ ڈاکٹر صاحب نے جو جواب دیا وہ بڑا فکر انگیز، آگہی کی روشنی سے منور تھا، دل تو چاہتا ہے کہ مکمل جواب صریر و خامہ کے سپرد کر دوں لیکن وہی تنگی داماں، یعنی ہمارے کالم میں اتنی جگہ نہیں۔ اگر لکھنے کی کوشش کرتی ہوں تو دوسری کتب رہ جائیں گی ان کا بھی انتخاب کر بیٹھی ہوں، بالکل اسی علمی حریص کی طرح جو کوزے میں دریا سمونا چاہتا ہے۔

میں بات کروں گی تو مزید بات بڑھے گی اور جواب لکھنا وہ بھی مختصر لیکن مجبوراً اسے مختصر ترین کرنا پڑے گا۔ ڈاکٹر صاحب کی فہم و فراست جو اس جواب میں پنہاں ہے ’’جاپانی قوم ایسی ہے جو ساری دنیا سے اچھائیاں قبول کر رہی ہے جب کہ خود اس میں بے پناہ اچھائیاں ہیں، اگر تہذیب اور تاریخ کو سمجھنا ہے تو اس قوم کو سمجھنا ہوگا اور قوم کو سمجھنے کے لیے اس کی زبان کو سیکھنا پڑتا ہے۔

اس لیے وہاں جامعات کے نصاب میں مطالعات بھی شامل ہیں۔ ٹوکیو یونیورسٹی دنیا کی چند بڑی یونیورسٹیوں میں شامل ہے۔ وہاں اسلامک اسٹڈیز کا شعبہ 50 سال سے قائم ہے۔ وہاں سے جو نسلیں جاپانیوں کی نکلی ہیں وہ خود اپنی جگہ علما ہیں عربی بول اور لکھ سکتے ہیں۔

قرآن کے تراجم بھی ہوئے ہیں، اسلامی تحریکات پر وہاں بہت کام ہو رہا ہے۔ مسلمان مفکرین پر بھی وہاں ریسرچ ہوئی ہے اسلامک اسٹڈیز کے کئی ریسرچ جنرل نکلتے ہیں بڑے پیمانے پر کیوتو یونیورسٹی میں کام ہو رہا ہے ایشیا، افریقہ، ایریا اسٹڈیز کا وہاں کلیہ ہے جس میں پورا افریقہ ایشیا آ گیا یعنی آدھی دنیا تو اس میں آ گئی۔

ایک نوجوان جاپان سے آیا ہوا ہے وہ مولانا مودودی کے اثرات پر کام کر رہا ہے۔ تحریک کیا ہے؟ جماعت اسلامی کیسے قائم ہوئی؟ اس لیے وہاں اردو سیکھنا ضروری ہے۔ ڈاکٹر عقیل نے بتایا کہ جاپان میں وہ چاروں یونیورسٹیوں سے منسلک رہے ہیں۔ ریسرچ کی معاونت و نگرانی بھی کی ہے اور ساتھ میں تعلیم بھی جاری رہی۔

سید عامر اشرف کے سوالات نہ کہ معیاری ہیں بلکہ انھوں نے ایسے سوال کیے ہیں جن کی رو سے بھرپور اور تفصیلی جواب سامنے آ جاتا ہے۔ پی ایچ ڈی مقالے میں سرقے کے انکشاف نے ڈاکٹر صاحب کو تفصیلی اور دیانت داری کیساتھ جواب دینے پر مجبور کیا کہ اس کی بنیادی وجہ نااہلی اور شہرت و خودنمائی کا شوق ہے اسی وجہ سے وہ سرقے اور چوری سے باز نہیں آتے۔

ہائر ایجوکیشن کے قیام کے بعد تحقیقی سرگرمیوں میں بلاشبہ خاص طور پر اس کے ایک صدر نشین ڈاکٹر عطا الرحمن کے دور میں مثبت فیصلے ہوئے اور جامعاتی تحقیقات کے معیار کو موثر بنانے کے لیے اقدامات کیے گئے لیکن اس کیساتھ ہی ایچ ای سی کی یہ بھی ذمے داری تھی کہ وہ تنقیح یا احتساب کی روایت قائم کرتی اور مقالات کو اپنے طور بھی جانچنے کا اہتمام کرتی لیکن اس نے اپنی یہ ذمے داری پوری نہیں کی۔

ڈاکٹر عقیل نے مزید کہا کہ جن افراد پر سرقہ ثابت ہو چکا ہے ان کی ذات پر کوئی آنچ تک نہ آئی وہ غلط ذرائع اختیار کرکے ترقی پاتے رہے اور صدر شعبہ ڈین اور وائس چانسلر تک بن گئے۔ جہاں ڈاکٹر معین الدین کی علمیت، قابلیت اور سچائی نے بلا جھجک تعلیمی اداروں کی ناقص کارکردگی کے حوالے سے جوابات دیے ہیں، وہیں سید عامر اشرف نے بھی ایسے سوالات مرتب کیے جن کی رو سے باعث توقیر اداروں کی بددیانتی اور غیر ذمے داران کا رویہ جوابات کی شکل میں سامنے آ گیا۔

’’خزینہ حیات‘‘ بہت اہم ترین کتاب بلکہ یوں کہنا چاہیے ڈاکٹر معین الدین عقیل صاحب کی زندگی بھر کی وہ کمائی ہے جو علمی کارناموں اور ان کی خدمات پر ملنے والے اعزازات، ایوارڈز کی شکل میں سامنے آئی ہیں انھوں نے مختلف یونیورسٹیوں سے تعلیم و تعلم اور درس و تدریس کی وہ شمع روشن کی جس کی روشنی سے حصول علم کے خواہش مندگان نے خوب استفادہ کیا اور ڈاکٹر صاحب نے دریا دلی کیساتھ طالبعلموں کی خالی جھولیوں کو خلوص اور نیک نیتی کیساتھ بھر دیا۔

آج وہی طلبا و طالبات ڈاکٹر صاحب سے حاصل کردہ علم و فن کی بدولت اعلیٰ مقام پر فائز ہیں۔ 434 صفحات ڈاکٹر صاحب کے علمی کارناموں سے آراستہ ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کی قدر و قیمت کا تعین کرنے کے لیے خزینہ حیات کا خصوصی مطالعہ اہمیت رکھتا ہے۔

طلبہ نے آپ کی نگرانی میں پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں اور ڈاکٹر معین الدین عقیل پر بھی پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی گئی۔جاپان میں اردو زبان و ادب کے فروغ و ترویج میں ڈاکٹر معین الدین عقیل کی خدمات، ڈاکٹر صاحب اعزازات کے مستحق تھے ستارہ امتیاز، منجانب صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان اگست 2022، شہنشاہ جاپان نے اپریل 2013 اعلیٰ ترین سول اعزاز سے نوازا گیا۔

"Order of the Rising Sun, Gold Rays with Nee Ribbon"

اور بھی بے شمار اسناد، اعزازات ڈاکٹر صاحب کو ان کی قابلیت، محنت، جہد مسلسل اور مختلف علوم سے عشق کی بدولت پیش کیے گئے۔

Load Next Story