سماجی ٹوٹ پھوٹ کی کتھا (حصہ اول)

یہ میرا نہیں مجھ ایسے بہت سارے درد دل رکھنے والوں کا المیہ ہے

سوچتا ہوں کہ اس غیر جمہوری،غیر انسانی رویوں سے بھرے پرے اور ادھڑے ہوئے سے زیادہ بیگانگی کے سماج کے لیے کیا لکھا جائے،وہ کونسے لفظ تلاش کیے جائیں جو اپنی حیثیت اور وقعت کی لاج رکھ سکیں،سماج کی کثیر تعداد کو الفاظ کا بلکنا،سسکنا اور احتجاج کرنا جب سمجھ ہی نہ آسکے یا لفظ کے احتجاج یا دکھ کی تکالیف اور احساس ان کے دل میں جگہ ہی نہ بنا سکے تو بھلا سماج کے ان بے حس افراد سے گفتگو کیسے کی جائے؟

یہ میرا نہیں مجھ ایسے بہت سارے درد دل رکھنے والوں کا المیہ ہے،ہم اور ہماری پرانی نسل کا اس سماج کی بے ترتیبی اور تہذیب و شائستگی کی نئی نسل میںکمی یا نا آشنائی ایک مشکل سوال کی صورت میں ہر وقت ہمارے سامنے لا کھڑا کر دیا جاتا ہے اور ہم اس پوری خرابی کا نشانہ نئی نسل کی جدید سوچ یا طرز زندگی کو سمجھ لیتے ہیں جو کہ کسی طور انصاف پسند رویہ نہیں ہے ،چلیے آج ایسا کرتے ہیں کہ جدید ترقی یافتہ دور میں پہلے اپنے سماج کی قدروں کا سرسری جائزہ لے لیتے ہیں۔

اگر ہم اپنے سماج کے تعلیمی شعور میں 50یا60 کی دہائی میں تعلیم حاصل کرنے کے جذبے کو دیکھیں تو اس میں ہم یہ بات نظرانداز نہیں کر سکتے کہ یہ پاکستان بننے کے وہ ابتدائی سال تھے جس میں پاکستان کے حصے میں آنے والی یا پہلے سے قیام پذیر ادھیڑ عمر کی نسل واجبی سی تعلیم یافتہ یا ہنر مند تھی جو کہ دفتری کاموں کے سلسلے میں ایک مدد گار کے طور پراپنے دفاتر کے کام کاج کرکے اپنی محدود آمدنی میں گھر بار چلایا کرتی تھی۔

جبکہ یہ نسل اپنی محدود آمدنی میں کثیر تعداد کے بچوں کے رہن سہن سے لے کر ان کے واجبی سے تعلیمی اخراجات بھی پورا کرنے کی کوشش کرتی تھی،اس دفتری یا ہنر کار نسل کو اپنی واجبی تعلیم کا احساس تھا، لہٰذا عمومی طور سے وہ اپنی کم تعلیم کے نقصانات کو جانتی تھی۔

لہٰذا اس بابو یا ہنر مند نسل نے پوری کوشش کی کہ ان کی نئی نسل تعلیم یافتہ ہو اور جہاں ضرورت پڑے وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ بھی بنے،اسی خیال یا تعلیمی اہمیت کے پیش نظر نئے ملک کی تعلیم کے شعبے میں ہر طبقے کے وہ اساتذہ آئے جو نسل کی تعلیم کو ایک مشن کے طور پر سمجھتے تھے اور ان کی کوشش ہوتی تھی کہ وہ اپنے استاد کے پیشے کے تقدس اور مرتبے کو سنبھال کر رکھیں اور استاد کے پیشے کو کسی بھی منفی سماجی عمل سے داغدار نہ کریں۔

یہ اساتذہ کے سماجی شعورکی وہ با اصول نسل تھی جس کے خمیر میں سماجی تعلق اور سماجی سر گرمی کو کسی طور استاد کے پیشے کے شایان شان نہیں سمجھا جاتا تھا ،محض اسی وجہ سے اس وقت کے استاد اور شاگرد میں تہذیب و ادب کا ایک رشتہ برقرار رہتا تھا جبکہ دوسری جانب اس وقت کے اساتذہ اسکول یا کالج کی تدریس کے بعد شہر کی سماجی تقریبات میں شرکت سے خود کو دور رکھا کرتے تھے کہ کہیں سماجی ربط کے باعث استاد کا احترام اور تقدس کا رشتہ کمزور نہ پڑ جائے ،مگر اسی کیساتھ وہ اساتذہ طلبہ کی سماجی اور سیاسی سرگرمیوں کو بھی اہمیت دیا کرتے تھے۔

کھیلوں کی صحت مند سرگرمی،آرٹ،تھیٹر اور نئی نسل کی ثقافتی سرگرمیوں کا بھی اتنا ہی خیال رکھتے تھے جتنا کہ تعلیمی یا نصابی سرگرمیوں کارکھا جاتا تھا،یہ رشتے اور احترام کا وہ دور تھا کہ محلے کا ہر بڑا چچا یا ماموں ہوا کرتا تھا اور ہر شادی شدہ بھابی خالہ یا پھوپھی کے نام سے جانی جاتی تھیں۔

ہر محلے کے بڑے کو مکمل اس بات کا اختیار ہوتا تھا کہ وہ کسی بھی محلے کے گھر کے بچے کو کسی غیر سماجی برائی میں ملوث دیکھے تو وہ اس بچے کو سزا دینے یا تنبیہ کرنے کا مکمل اختیار رکھتا تھا،محلے کے بڑے کی بات ماننا اور اس کی روک ٹوک خاندان نما محلے کی ذمے داری سمجھا جاتا تھا،حتیٰ کہ کسی محلے کے بڑے کی شکایت پر اس بات کا احتمال ہر چھوٹے کو ہوا کرتا تھا کہ والدین سے شکایت کرنے پر مزید کڑی سزا مل سکتی ہے۔

گویا اس نسل نے اپنی نئی نسل میں شکایت یا دروغ گوئی کے تصور کو ہی ذہنی طور سے نکال باہر کردیا تھا ،یہی وجہ تھی کہ جھوٹ اور مکروہ فریب کو سماج کی سب سے بڑی برائی مانا جاتا تھا اور کسی بھی جھوٹ بولنے والے سے سماجی تعلق کو بہتر عمل کے طور پر نہیں لیا جاتا تھا بلکہ سماجی تہذیب کے خلاف عمل کرنیوالے کو بہ لحاظ عمر ’’اوباش‘‘کہہ کراس سے اپنے سماجی تعلق سے جوڑنے کے عمل کو اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا۔

ہر رتبے کا خیال اس کے ذات پات یا نسل سے ہرگز نہیں جوڑا جاتا تھا،کوئی بھی بہشتی یعنی(ماشکی)پانی کی مشک اٹھانے والا، کسی بھی بچے کے غلط عمل کی شکایت کرنے میں آزاد تھا ،اسی طرح گھر کی آلائش اٹھانے والے سوئیپر کو تہذیبی لفظ’’مہتر‘‘ سے پکارا جاتا تھا اور اس کی شکایت پر کسی کی بھی باز پرس کی جا سکتی تھی۔

کیا موجودہ نسل کی جدید ترقی یافتہ دنیا انسان کے اس احترام اور رشتے کو سمجھنے میں دلچسپی رکھتی ہے،یہی وہ سوال یا المیہ ہے جس کا شکار آج ہمارا پورا سماج نظر آتا ہے۔ یہ پاکستان کے ابتدائی زمانے کا وہ سماج تھا کہ جہاںہر علاقے اور ایریا کے اسکولز میں وہاں کے کمشنر کا بچہ بھی تعلیم حاصل کرتا تھا اور ایک کوچوان اور مہتر کا بچہ بھی اسی اسکول کا طالبعلم ہو سکتا تھا۔

جو سزا عام اسکول کے طالبعلم کو تجویز کی جارہی ہوتی، اسی سزا کا حقدار کمشنر کا بچہ بھی ٹہرتا تھا،بلکہ کسی بھی کمشنر یا اعلیٰ افسر کو اس بات کی اجازت ہر گز نہیں دی جاتی تھی کہ وہ اسکول کے ہیڈ ماسٹر یا کالج کے پرنسپل کی اجازت کے بغیر اسکول یا کالج میں داخل ہو جائے۔

اس کے علاوہ یہ سماج کی وہ نسل تھی جس کی سماجی قدروں میں انصاف فراہم کرنے والے جج اور وکیل کسی بھی سماجی تقریب کا کم سے کم حصہ ہوا کرتے تھے، محض اس خیال سے کہ انصاف کی فراہمی میںتعلق داری حائل نہ ہو جائے۔

50اور ساٹھ کی دہائی کا یہ وہ سماج تھا جس میں سماجی سر گرمیوں کی اجازت سر شام سے پہلے تک ہوا کرتی تھی جبکہ مغرب کے بعد گھر سے باہر نکلنے کو اچھا تصور نہیں کیا جاتا،اس ماحول کے افراد قدرت کے فطری اصولوں پر زندگی گذارنے کو ہی ایک صحت مند عمل سے تشبیہ دیا کرتے تھے اور رات جلدی سونے اور صبح تڑکے اٹھنے کو صحت مند اور فطری زندگی کہا کرتے تھے۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ہمارے گاؤں ’’دادو‘‘ میں محلے کے ہر گھر سے ہر ایک فرد کے ہاتھ میں صبح تڑکے کھجور کی ٹوکری ہوا کرتی تھی اور ہر فرد ٹوکری تھامے سبزی مارکیٹ کی طرف جا رہا ہوتا تھا کہ کہیں سبزی یا گوشت ختم نہ ہوجائے،اس عمل میں اس بات کا خاص خیال رکھا جاتا تھا کہ صبح اسکول کے وقت سے پہلے اشیائے ضروریہ کا تمام سامان آجائے اور پھر بچے اپنی گھریلو ذمے داریوں کے بعد اسکول کے لیے وقت سے روانہ ہو جائیں۔              (جاری ہے۔)

Load Next Story