فریاد کس سے کریں

لیکن ہمارا مسلہ یہ ہے کہ ہم لکڑی بھی نہیں بن سکتے کہ ہمیں ترکھان نے نہیں بنایا ہے

barq@email.com

ان دنوں ہم سراپا فریاد ہی فریاد ہیں لیکن اس سے بھی زیادہ دکھت بات یہ ہے کہ فریاد کریں بھی تو کس سے کریں کہ جو فریاد کے مقامات ہیں، وہاں بھی وہ لوگ ہیں جن کے ہاتھوں ہم فریادی ہیں ۔وہ ایک بڑی مشہور کہانی ہے کہ چار مسافر، ایک ترکھان، ایک درزی ،ایک سنار اور ایک بزرگ ہم سفر تھے۔

ترکھان نے لکڑی سے ایک لڑکی کامجسمہ بنایا ، درزی نے اسے لباس پہنایا، سنار نے زیور پہنا کر سنگار کیا اور بزرگ نے منتر پڑھ کر اس میں جان ڈال دی۔ پھر اس خوب صورت لڑکی کودیکھ کر چاروں کوتوال کے پاس گئے، کوتوال نے لڑکی کو دیکھ کر کہا کم بختو یہ تو میری کنیز ہے جو تمہارے ہاتھ لگی ہے، جاؤ بھاگو یہاں سے ورنہ… چاروں اس ’’ورنہ‘‘ کو لے کر قاضی کے ہاں گئے، قاضی نے کوتوال اور لڑکی کو طلب کیا۔

لڑکی کو دیکھ کر قاضی کی بھی رال ٹپکی۔ اس نے ان سب کاشکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں تم سب کا ممنوں ہوں جو میری گمشدہ کنیز کو تم میرے پاس لائے، یہ میری کنیز ہے، مجھے مل گئی، جاؤ بہت شکریہ۔

اب یہ چاروں بادشاہ کے پاس گئے اور اپنا مقدمہ پیش کیا، بادشاہ نے قاضی اورکوتوال کو بلایا اور لڑکی کو دیکھ کر غصے میں آگیا، بولا کم بختو تم نے میری کنیز کو بھگانے کی جرأت کیسے کی، ان سب کو زاندان میں ڈالنے کاحکم دیا اورلڑکی کو شاہی حرم میں داخل کرانے کی ہدایت کی، اس موقع پر لڑکی جو اب تک کچھ بھی بولی نہیں تھی، کھلھلا کر ہنس پڑی اور لکڑی کی بن گئی۔

لیکن ہمارا مسلہ یہ ہے کہ ہم لکڑی بھی نہیں بن سکتے کہ ہمیں ترکھان نے نہیں بنایا ہے۔ ارے۔ ہمیں کسی ترکھان نے نہیں بنایا ہے تو جس کسی نے بنایا ہے، اس سے تو فریاد کر سکتے ہیں اوراسی سے فریاد کر رہے ہیں، دیکھتے ہیں،کب شنوائی ہوتی ہے ، جہاں تک ’’انصاف‘‘ کا تعلق ہے تو وہ صرف صرف تحریک انصاف میں پایا جاتا ہے اورکہیں نہیں… وہ بھی صرف لفظ کی حد تک۔

باقی ہم اسے ایک چھوٹی سی کہانی کے ذریعے واضح کرتے ہیں کہ انصاف نام کی چیز کہیں بھی نہیں پائی جاتی۔ ہوا یوں کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد جب صوبوں کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا، تو بیچنے کے لیے نوکریوں کی اور دکانیں کھل گئیں، ایسی ہی ایک دکان کا نام ایک سرکاری محکمہ کی بھی کھل گئی۔

اس میں کچھ لوگوں نے نوکریاں خرید تو لیں لیکن وہ کچی نوکریاں تھیں، کئی سال تک وہ لوگ ’’پکا‘‘ ہونے کی آس میں لٹکے رہے اورآخر انھیں ’’پکا‘‘ کرنے کے بجائے نکال دیا گیا، ان بیچاروں نے عدالت سے رجوع کیا، دوسال ایک عدالت میں مقدمہ چلتا رہا، تاریخ پہ تاریخ، تاریخ پہ تاریخ، وکیل نے یقین دلایا کہ جیت ہماری ہوگی چنانچہ قرض ادھار لے کر شجر سے پیوستہ رہے، آخر جس دن فیصلے کی امید تھی، اس کیس کو بالاعدالت تک ریفر کیا گیا۔

ماتحت عدالت میں دوسال لگے تھے اوربالا عدالت میں یقیناً پانچ سال لگیں گے، اس کے بعد یقیناکیس اس سے بھی بالاعدالت میں چلاجائے گا، تاریخ پہ تاریخ کا سلسلہ چلے گا، تب تک یقینا فریادی، اوپر بہت اوپر، سب سے اوپر کی عدالت میں پہنچ گئے ہوں گے، اس اوپر کی عدالت میں جس کے ہم سب فریادی ہیں… ایک شعرسنئے:

فریادی ولاڑے دے ژاڑی، جہانگیر پہ خوب اودہ دے

زنجیر اوشلیدو د عدل چپ غگونہ د جرس شول

ترجمہ… فریادی کھڑا رو رہا ہے، جہانگیر سویا ہوا ہے، عدل کی زنجیر ٹوٹ چکی ہے اور جرس کی آوازیں خاموش ہوچکی ہیں۔

برا مت مانیے، جب حالات سازگار نہ ہوں تو بات ’’بانسری‘‘ میں کرنا پڑتی ہے یا حکایتوں اورکہانیوں میں، تو ایک اورحکایت سنیے، اس چھوٹی سی حکایت میں بہت کچھ بیان کیا گیا ہے۔

کہتے ہیں ایک بادشاہ لاولد تھا، اسے بڑی تشویش تھی کہ کسی طرح اسے تخت وتاج کا وارث مل جائے، بہت علاج معالجے کیے، تعویذگنڈے، جنتر منتر آزمائے، مزارات کی یاتراکی، ملکی اور غیرملکی حکیموں، طبیبوں سے رجوع کیا لیکن گوہر مراد نہیں ملا، پھر اس نے اعلان عام کیا کہ جس کسی عامل کامل نے اس کی مراد پوری کی، اسے بہت خطیر رقم اور آدھی سلطنت دی جائے گی۔

تب ایک فقیر نے آکر وعدہ کیا کہ وہ اس کا مسئلہ حل کر سکتا ہے لیکن اس کے لیے شرط ہے جو بہت کڑی ہے۔ بادشاہ نے کہا میں کڑی سے کڑی شرط پورا کرنے کے لیے تیار ہوں۔ تب فقیر نے کہا کہ ایک پندرہ سال کالڑکا تلاش کرو جس میں یہ نشانیاں، گورا رنگ، نیلی آنکھیں، سرخ بال ہوں۔ ایسی ہی اوربھی نشانیاں بتائیں۔

پھرکیا تھا شاہی ہرکارے ملک بھر میں پھیلادئیے، آخر ایساہی لڑکا مل گیا، فقیر نے ایک شرط یہ بھی رکھی تھی کہ لڑکے کو زبردستی حاصل نہیں کیا جائے گا بلکہ اس کے والدین کی رضامندی سے حاصل کیاجائے۔

خوش قسمتی سے اس لڑکے کے والدین کثیرالااولاد تھے اور نہایت غریب بھی چنانچہ انھوں نے لڑکا بادشاہ کو بیج دیا کہ ملنے والی رقم سے دوسرے بچے کا پالن کریں گے۔ لڑکا حاصل ہونے کے بعد فقیر نے بادشاہ سے کہا کہ اب اس لڑکے کو ذبح کرکے اس کا گرم گرم خون پیوگے، تو مراد بھر آئے گی۔ لڑکے کو ذبح کرنے کی تیاریاں ہونے لگیں، چاقو تیز کیے جانے لگے، برتن جمع کیے گئے کہ ان میں خون جمع کر کے بادشاہ نوش جاں کریں گے۔

تب بادشاہ کی نظریں اس لڑکے پر مرکوز ہو گئیں جو آرام سے بیٹھا تھا جیسے تماشا دیکھ رہا ہو حالانکہ پندرہ سال کا سمجھ دار لڑکا تھا، اسے چیخنا چاہیے تھا، رونا چاہیے تھا، جان چھڑانے کی کوشش کرنا چاہیے تھی لیکن وہ سکون سے بیٹھا تھا، بادشاہ اٹھ کر اس کے پاس گیا اور پوچھا کچھ سمجھ رہے ہو کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔

لڑکے نے کہا، ہاں مجھے ذبح کرنے کی تیاری ہو رہی ہے۔ بادشاہ نے کہا، پھر تم روتے کیوں نہیں، چیختے چلاتے کیوں نہیں۔ لڑکے نے کہا، بادشاہ سلامت! انسان کی پہلی جائے فریاد اس کے والدین ہوتے ہیں اوریہاں میرے والدین نے خود مجھے بیچا ہے، یہ جانتے ہوئے کہ مجھے ذبح کیا جائے گا، دوسری جائے فریاد حاکم وقت کی ہوتی ہے اور یہاں حاکم وقت مجھے ذبح کر رہا ہے، تیسری جائے فریاد اوپر والے کے پاس ہوتی ہے، سو اس سے کہنے سننے کی ضرورت ہی نہیں، وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے۔

اس پر بادشاہ کا دل بھر آیا، لڑکے کو گلے لگاتے ہوئے کہا، بند کردو یہ سب کچھ… مجھے تاج وتخت کا وارث مل گیا ہے، وہ فقیر بھی پاس کھڑا مسکرا رہا تھا، بولا ،میرا مقصد بھی یہی تھا۔

Load Next Story