ہاکی فیصلہ کن مرحلوں میں ہمت ہار جانے کی روایت آخر کب تک

سینئر اور جونیئر ٹیموں کا انٹرنیشنل ایونٹس کے اہم میچ میں شکست کھا کر میڈل کی دوڑ سے باہر ہو جانا آئے روز کا معمول۔۔۔

سینئر اور جونیئر ٹیموں کا انٹرنیشنل ایونٹس کے اہم میچ میں شکست کھا کر میڈل کی دوڑ سے باہر ہو جانا آئے روز کا معمول بن چکا ہے۔ فوٹو : فائل

لاہور:
23 اگست کی شام شائقین ہاکی پر یہ خبر بجلی بن کر گری جب انھیں معلوم ہوا کہ چین میں جاری یوتھ اولمپک گیمز میں فتوحات کی ہیٹ ٹرک مکمل کرنے والی قومی جونیئر ٹیم کینیڈا جیسی کمزور ٹیم سے ہار کر سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر ہو گئی۔ گزشتہ 2 دہائیوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ سینئر اور جونیئر ٹیموں کا انٹرنیشنل ایونٹس کے اہم میچ میں شکست کھا کر میڈل کی دوڑ سے باہر ہو جانا آئے روز کا معمول بن چکا ہے۔

بیجنگ اولمپکس ہو یا لندن اولمپکس، ورلڈ کپ ہو یا ورلڈ ہاکی لیگ، سلطان اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ ہو یا کوئی اور اہم ایونٹ ہر اہم مقابلے میں پاکستانی ٹیم کا ہارنا مقدر بن چکا ہے۔ جب بھی قومی ٹیم کسی انٹرنیشنل مقابلے میں ہارتی ہے تو وطن واپسی پر ٹیم مینجمنٹ کی جانب سے پرہجوم پریس کانفرنس کا اہتمام کیا جاتا ہے جس میں عہدیدار بڑی ڈھٹائی کے ساتھ دعوی کرتے ہیں کہ مجموعی طور پر ٹیم کی کارکردگی اچھی رہی ہے لیکن صرف ایک میچ کی وجہ سے فیصلہ کن مرحلے تک رسائی حاصل نہ کر سکے۔

اس موقع پر یہ موقف بھی اختیار کیا جاتا ہے کہ ایونٹ کے مقابلوں کے دوران مجموعی طور پر 60 سے 70 فیصد تک پاکستان ٹیم کے بال پر کنٹرول رہا، گرین شرٹس کے خلاف جتنے گول کئے اس سے کہیں زیادہ گول ہمارے کھلاڑیوں نے حریف ٹیموں کے خلاف کئے، وغیرہ وغیرہ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صرف ایک میچ میں ناقص کارکردگی کی وجہ سے میگا ایونٹ میں میڈل کی دوڑ سے باہر ہونا پاکستانی ٹیم کی قسمت میں ہی کیوں ہے؟ کیا ہمارے کھلاڑی اہم میچ میں نفسیاتی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں یا ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی انھیں لے ڈوبتی ہے۔

اگر ایسا ہے تو پاکستانی ٹیم کے لیے مستقل بنیادوں پر ماہر نفسیات کی خدمات حاصل کیوں نہیں کی جاتیں۔ معذرت کے ساتھ ٹیم مینجمنٹ جتنی محنت اور پلاننگ انٹرنیشنل ایونٹ سے باہر ہونے کے بعد کرتی ہے ، اس سے بھی کم توجہ کھلاڑیوں کی ٹریننگ پر دے تو عوامی توقعات کے مطابق نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

اب چین میں شیڈول یوتھ اولمپکس گیمز کو ہی دیکھ لیں، میکسیکو، جرمنی، ذمبیا کے خلاف واضح مارجن سے کامیابی حاصل کرنے کے بعد قومی ٹیم نیوزی لینڈ کے خلاف بھی میچ برابر کھیل کر کوارٹر فائنل تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہی، ٹیم کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے امید ظاہر کی جا رہی تھی کہ کھلاڑیوں عمدہ پرفارمنس کا سلسلہ آئندہ میچز میں بھی جاری رکھیں گے اور میڈل حاصل کر کے دکھوں اور مصیبتوں کی ماری قوم کے چہروں پر خوشیاں بکھیریں گے لیکن سینئر کی طرح جونیئر کھلاڑی بھی ہمت ہار بیٹھے اور ٹیم کوارٹر فائنل میں کینیڈا جیسی ٹیم کے ہاتھوں شکست کھا کر سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر ہو گئی۔

جونیئرز نے تو شائقین کو خاصا مایوس کیا ہے، اب ان کی نظریں آئندہ ماہ کوریا میں شیڈول ایشین گیمز میں سینئر ٹیم پر ہیں جو گزشتہ ایڈیشن میں ملائشیا کو زیر کر کے میگا ایونٹ کا ٹائٹل اپنے نام کرنے میں کامیاب رہی تھی، ایونٹ میں ممکنہ نتائج پر بات کرنے سے پہلے ایشین گیمز میں قومی ٹیم کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔


ایشین گیمز کا آغاز 1951ء میں نیو دہلی بھارت سے ہوا جس میں مجموعی طور پر 11 ملکوں نے شرکت کی تاہم ہاکی کو پہلی بار 1958ء کی ٹوکیو گیمز میں شامل کیا گیا۔ پاکستان کو ابتدائی ایڈیشن سمیت مجموعی طور پر 13 میڈلز حاصل کرنیکا منفرد مقام بھی حاصل ہے جن میں 8 گولڈ، 2سلور اور 3 برونز میڈلز شامل ہیں۔

ٹوکیو گیمز میں پاکستان نے بھارت کو زیر کر کے سبز ہلالی پرچم بلند کیا۔ جکارتہ گیمز 1962ء میں گرین شرٹس نے ایک بار پھر بلیو شرٹس کو 2-0 سے ہرا کر مسلسل دوسری کامیابی اپنے نام کی تاہم بینکاک گیمز 1966ء میں قومی ٹیم فتوحات کی ہیٹ ٹرک مکمل نہ کرسکی اور سنسنی خیز مقابلے میں بھارت کے ہاتھوں 1-0 سے شکست کھا گئی۔ بینکاک گیمز 1970 میں پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں فائنل میں ایک بار پھر آمنے سامنے ہوئیں لیکن اس بار گرین شرٹس نے روایتی حریف کو 2-0 سے چت کرتے ہوئے 4 سالہ پرانی شکست کا بدلہ لے لیا۔ تہران گیمز 1974ء میں پاکستان نے ایک بار پھر بھارت کوصفر کے مقابلے میں 2 گول سے ہرایا۔

سقوط ڈھاکہ کے بعد عالمی سطح پر یہ پاکستان کی بھارت کے خلاف پہلی کامیابی تھی۔ اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو ٹیم کی کارکردگی سے اس قدر خوش ہوئے کہ انہوں نے کھلاڑیوں کے لئے ایوان وزیر اعظم میں پروقار تقریب کا اہتمام کیا اور انھیں پرکشش انعامات دینے کا اعلان کیا، یہ الگ بات ہے کہ بھٹو صاحب کا یہ وعدہ بھی دوسرے ملکی سیاستدانوں کی طرح وفا نہ ہو سکا۔ بینکاک گیمز 1978ء گیمز میں پاکستان نے بھارت کو اعصاب شکن مقابلے میں 1-0 سے زیر کر روایتی حریف کے خلاف فتوحات کی ہیٹ ٹرک مکمل کی۔

نیو دہلی گیمز 1982 میں پاکستانی ٹیم نے ماضی کے برعکس بھارت کو اسی کی سرزمین پر 7-1 کے بڑے مارجن سے شکست دے کر اس کا غرور خاک میں ملا دیا۔سیول گیمز 1986ء میں میزبان کوریا نے پاکستان کو فائنل مقابلے میں 2-1 سے ہرا کر ٹائٹل سے محروم کر دیا تاہم بیجنگ گیمز1990ء میں پاکستان نے ایک بار پھر ایشیائی ٹائٹل پر قبضہ جما لیا۔ بعد ازاں 20 برس تک فتح پاکستانی ٹیم سے روٹھی رہی تاہم گوانگژو گیمز2010ء میں پاکستان نے ملائشیا کو صفر کے مقابلے میں 2 گول سے ہرا کر اپنا کھویا ہوا ایشیائی ٹائٹل اپنے نام کر لیا۔

پاکستانی ٹیم کی ایشین گیمز کے لیے تیاریاں حتمی مراحل میں داخل ہو چکی ہیں۔ ویزا مسائل کی وجہ سے اسپین کے خلاف سیریزنہ ہو سکنے کی وجہ سے کھلاڑی اسلام آباد میں آرمی اور نیوی کے ساتھ میچز کھیل کر کوریا کا رخ کریں گے یہ بات قابل غور ہے کہ گرین شرٹس گزشتہ 10 ماہ سے کوئی بھی انٹرنیشنل میچ نہیں کھیل سکی ہے جس کے بعد ٹیم کی طرف سے ٹائٹل کا دفاع کرنا کسی بھی طرح جوئے شیر لانے سے کم نہ ہو گا۔ سابق سیکریٹری پی ایچ ایف محمد آصف باجوہ عندیہ دے چکے ہیں کہ موجودہ ٹیم منیجمنٹ کے ہوتے ہوئے ٹیم سے اچھی کارکردگی کی توقع نہیں کی جا سکتی تاہم چیف کوچ و منیجر شہناز شیخ فائنل تک رسائی حاصل کرنے کے لیے پرامید ہیں۔ ایونٹ میں شریک 10 ٹیموں کو 2 گروپس اے اور بی میں تقسیم کیا گیا ہے۔

پول اے میں کوریا، ملائشیا، جاپان، بنگلہ دیش اور سنگا پور شامل ہیں جبکہ پول بی میں پاکستان کے ساتھ بھارت، اومان، چین اور سری لنکا کو رکھا گیا ہے، خوشی کی بات یہ ہے کہ پاکستانی ٹیم کا گروپ دوسرے گروپ کے مقابلہ میں قدرے آسان ہے، ہمارے گروپ میں شامل 2 ٹیمیں چین بالخصوص روایتی حریف بھارت ایسی سائیڈز ہیں جو گرین شرٹس کو ٹف ٹائم دے سکتی ہیں۔اگر جوش کے ساتھ ہوش سے بھی کام لیا جائے تو ایشین گیمز میں ٹائٹل کا بھر پور انداز میں دفاع کیا جا سکتا ہے لیکن اندیشہ ہے کہ ماضی کی روش پر چلتے ہوئے قومی ٹیم کسی اہم میچ میں شکست کھا کر میڈل کی دوڑ سے باہر ہی نہ ہو جائے اور عہدیداروں کو اپنے عہدے بچانے کے لیے ایک اور پریس کانفرنس کا اہتمام نہ کرنا پڑ جائے۔

mian.asghar@express.com.pk
Load Next Story