اسرائیل کی پھیلتی غیر قانونی بستیاں
آپ اگر سمجھنا اور دیکھا چاہتے ہیں کہ اسرائیل کا حکمران طبقہ مستقبل کی آزاد ریاست فلسطین کو جو ابھی وجود میں ہی نہیں آئی، کس طرح نیست نابود کرنا چاہتا ہے تو یہودی بستی ’’ائش کوڈیش‘‘ (Kodesh Esh ) کا ارتقا ملاحظہ فرمائیے۔ یہ مقبوضہ مغربی کنارے میں قریب واقع فلسطینی دیہات کے خلاف سالہا سال سے جاری تشدد کی مہم کا اہم مرکز رہی ہے۔
یہودی آبادکاروں نے اِسے سب سے پہلے 2000ء میں ایک پیشگی چوکی (آوٹ پوسٹ ) کے طور پر قائم کیا جو اسرائیلی اور بین الاقوامی ،دونوں قوانین کے تحت غیر قانونی تھی۔ یہ عارضی مکانات اور موبائل ہومز کے مجموعے سے شروع ہو کر ایک وسیع و عریض بستی بن گئی۔جیسے جیسے یہ بڑھتی گئی، نہتے اور بے بس فلسطینی مسلمانوں پر مسلح یہودی آبادکاروں کا تشدد بھی بدتر ہوتا گیا۔
برسوں تک اسرائیلی حکومت خاموشی سے اُس کی توسیع کی حمایت کرتی رہی، یہاں تک کہ دسمبر 2025ء میں اُسے ماضی کی تاریخ سے باضابطہ قانونی حیثیت دے دی گئی۔ شدت پسند اسرائیلی وزیرِ مالیات، بیزلیل سموٹرچ (Smotrich Bezalel ) نے جو مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضے اور الحاق کا حامی ہے، بستی کے رہائشیوں کے ساتھ مل کر اِس فتح کا جشن منایا۔
تب سے قصیریٰ (Qusra) اور جالود (Jalud) کے پڑوسی فلسطینی دیہات پر یہودی آبادکاروں کے پُرتشدد حملوں میں مزید اضافہ ہوا ہے اور بعض اوقات اِن حملوں کو اسرائیلی فوج کی اعلانیہ حمایت بھی حاصل رہی ہے۔ائش کوڈیش کو قانونی حیثیت ملنے کے بعد آبادکاروں نے قریب ہی کئی نئی غیر قانونی پیشگی چوکیاں قائم کر لیں۔گویا مذید یہودی بستیاں بنانے کا سلسلہ پوری شدت سے جاری و ساری ہے۔
بے خوفی اور آزادی کے ساتھ توسیع
خاص طور پر انتہا پسند اسرائیلی وزیراعظم،نتن یاہو کے تحت اسرائیل نے مغربی کنارے کی صورتحال کو کیسے بدلا ہے؟ماہرین کا کہنا ہے،کسی بھی اسرائیلی حکومت نے اِتنے جارحانہ انداز میں یہودی بستیوں کی توسیع آگے نہیں بڑھائی جتنا اسرائیل کی سابقہ حکومت کے دور میں دیکھنے کو ملا۔وجہ یہ ہے کہ اِس حکومت میں یہودی انتہا پسند جماعتوں کے راہنما بھی بطور وزیر شامل تھے۔
یہ نتن یاہو حکومت مقبوضہ مغربی کنارے میں نام نہاد ’’آبادکار انقلاب‘‘ لانے اور مستقبل کی فلسطینی ریاست کا تصّور ہمیشہ کے لیے دفن کرنے کی خاطر مسلسل ریاستی طاقت کا استعمال کرتی رہی۔ یہ سطور قلم بند ہونے تک اسرائیل میں پارلیمانی انتخابات ہو چکے۔ حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہوا۔ ہو سکتا ہے کہ نتن یاہو پھر حکومت نہ بنا سکے لیکن نتائج کچھ بھی ہوں، مغربی کنارے میں کی گئی بڑی تبدیلیوں کو واپس موڑنا انتہائی مشکل ہوگا۔
ائش کوڈیش 100 سے زائد اُن نئی بستیوں میں سے صرف ایک ہے جنہیں نتن یاہو حکومت نے 2022ء کے آخر میں اقتدار سنبھالنے کے بعد قائم رہنے کی اجازت دی۔اُن میں سے کئی پہلے غیر قانونی چوکیاں کے طور پر قائم کی گئی تھیں۔7 اکتوبر 2023ء کے حملے ہوئے تو انھیں قانونی حیثیت دینے کی کوششوں میں نمایاں تیزی آگئی۔اس کے بعد اسرائیل نے علاقے پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے منصوبے کے تحت پورے مغربی کنارے میں بستیوں کی توسیع کا آغاز کر دیا۔نیز پورے مغربی کنارے میں غیر قانونی آبادکاروں کی طرف سے پیشگی چوکیاں بنانے کے عمل میں بھی زبردست اضافہ دیکھا گیا۔ پچھلے تین سال میں پورے علاقے میں ریکارڈ تعداد میں نئی چوکیاں قائم ہوئیں۔نتن یاہو نے حالیہ اگست میں ایک اجلاس کے دوران اپنی حکومت کے منصوبے کی تعریف کی اور کہا تھا:
’’ہم سمجھتے ہیں،یہ (مقبوضہ مغربی کنارہ) ہماری زمین ہے، اور یہ ہماری ہی رہے گی۔ہم مسلسل بستیاں تعمیر کر کے پورا علاقہ اپنی دسترس میں لے آئیں گے۔‘‘
تشدد میں اضافہ
1967ء اور 2022ء کے درمیان اسرائیلی حکومتوں کی زیر نگرانی مسلسل اور منظم طریقے سے مغربی کنارے میں 320 سے زائد یہودی بستیاں اور غیر منظور شدہ چوکیاں قائم کی گئی ہیں۔اوسطاً یہ سالانہ 6 نئی چوکیاں یا بستیاں بنتی ہے۔جبکہ دسمبر 2022ء میں اگلی نتن یاہو حکومت بننے کے بعد سے مزید 267 نئی چوکیاں یا بستیاں قائم کی گئیں اور 104کو حکومت نے قانونی حیثیت دے دی ۔
بستیوں کی توسیع کی رفتار میں دس گنا اضافہ ہوا تو اس بڑھوتری کے ساتھ ہی اہل فلسطین پر تشدد میں بھی شدید اضافہ ہوگیا۔امریکی تنظیم،آرمڈ کنفلکٹ لوکیشن اینڈ ایونٹ ڈیٹا پروجیکٹ (ACLED) کی تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ آبادکاروں کا تشدد مغربی کنارے کے اُن علاقوں میں بھی پھیل رہا جہاں پہلے اس کا عنصر بہت کم یا بالکل نہیں تھا۔
2026ء میں اب تک آبادکاروں کے پُرتشدد واقعات میں سے 49 فیصد اُن زرعی چوکیوں کے تین کلومیٹر کے دائرے میں پیش آئے جو اسی سال قائم کی گئی تھیں۔ 2023ء اور 2026ء کے درمیان نئی زرعی چوکیوں کے تین کلومیٹر کے اندر پیش ائے واقعات میں چار گنا سے بھی زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ یہ تشدد کئی صورتوں میں سامنے آ رہا ہے جن میں فلسطینی کسانوں اور چرواہوں پر حملے، زیتون کے درختوں کی تباہی اور فصلوں و مویشیوں کی لوٹ مار شامل ہے۔
اسرائیلی فوج کی دہشت گردی
27 ستمبر کو زیتون کی کٹائی اور چنائی کے موسم کے آغاز سے لے کر اب تک اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیم ،ییش دین (Yesh Din) نے یہودی آبادکاروں اور اسرائیلی فوجیوں کے تشدد کے 530 سے زائد واقعات کو دستاویز کیا۔تنظیم کے مطابق’’یہ حقیقت کہ آبادکاروں کے تشدد کا کم از کم ہر چوتھا واقعہ (تمام واقعات کا 27 فیصد) فوجیوں کی موجودگی اور ان کی سرپرستی میں پیش آتا ہے، اس میں کوئی شک نہیں چھوڑتی کہ اسرائیلی فوج جس کی ذمے داری فلسطینیوں کا تحفظ کرنا اور انہیں امن و سکون کے ساتھ زیتون چننے کی اجازت دینا ہے ، عملی طور پر تشدد میں اور فصل کی کٹائی روکنے میں بطور سرگرم حصے دار کام کر رہی ہے۔‘‘
نتن یاہو نے یہودی آبادکاروں کے اقدامات کو ایک بگڑے اور انتہا پسند اقلیتی گروہ کا کارنامہ قرار دینے کی کوشش کی ہے۔لیکن اسی تشدد نے اکثر بستیوں کی زبردست توسیع کی راہ ہموار کی ہے۔ جبکہ آبادکاروں کے حملے اکثر ان ہی غیر قانونی چوکیوں سے جنم لیتے ہیں جنہیں اسرائیلی حکومت نے قانونی حیثیت دینے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔سابق اسرائیلی فوجی کمانڈر، مصنف اور اس تنازع کے ماہر، شاؤل اریلی (Arieli Shaul ) کا کہنا ہے: ’’آبادکار فلسطینیوں کو دھمکاتا ہے، فوج اہل فلسطین پر پابندیاں عائد کرتی ہے اور ریاست آبادکار کو ہٹانے سے انکار کر دیتی ہے۔ اس طرح ذاتی نوعیت کا تشدد عوامی و سرکاری سرپرستی کے تحت الحاق کی پالیسی بن جاتا ہے۔‘‘
جب نتن یاہو نے ریکارڈ چھٹی بار وزیراعظم کے طور پر حلف اٹھایا، تو اُس نے انتہائی قوم پرست اور شدت پسند شخصیات کے ساتھ اتحاد کر کے اپنی جیت یقینی بنائی جو طویل عرصے سے فلسطینیوں کو مغربی کنارے سے نکالنے اور ان کی زمین پر قبضہ کرنے پر زور دے رہی ہیں۔ان میں نمایاں نام بیزلیل سموٹرچ (Bezalel Smotrich) اور اتامار بن گویر (Itamar Ben-Gvir) کا ہے۔ ایک دہائی قبل غیر معروف اور حاشیے پر رہنے والی یہ شخصیات بالترتیب وزیرِ مالیات اور وزیرِ قومی سلامتی بن گئیں۔ انہوں نے سخت گیر وزیرِ دفاع، اسرائیل کاٹز (Katz Israel ) کے ساتھ مل کر کام کرتے ہوئے مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعمیر کو اپنی بنیادی پالیسی بنا لیا ۔
تقریباً چار سال بعداس حکومت کا وقت ختم ہو ا۔ اسرائیل میں 27 اکتوبر کو قومی انتخابات ہوئے جسے 7 اکتوبر کے حملوں کے بعد سے نتن یاہو کی قیادت پر ایک عوامی ریفرنڈم کے طور پر دیکھا گیا۔ 1988ء کے بعد یہ پہلا موقع تھا جب کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمنٹ) نے اپنی مکمل مدت پوری کی … ایک ایسی حکومت جس نے اپنے تمام تر اندرونی اختلافات کے باوجود مغربی کنارے کی صورتحال بدلنے کے لیے خود کو کافی عرصے تک قائم رکھا۔
عیّاری کی حکمت عملی
نتن یاہو طویل عرصے سے آزاد فلسطینی ریاست کے تصّور کا مخالف ہے۔امریکی شدید دباؤ کے بعد 2009ء میں اس نے ایک تقریر کے دوران پہلی بار علانیہ طور پر اس تصّور کی حمایت کی تھی۔اس نے کہا تھا کہ وہ مشروط طور پر اِس اقدام کی حمایت کرتا ہے۔ لیکن 2012ء میں اس کی پارٹی نے ان تبصروں کو ’’حکمتِ عملی‘‘ (tactical) قرار دیا۔ 2015ء میں اُس نے سرکاری طور پر اپنی اِس تقریر سے دستبرداری کا اظہار کر دیا۔مغربی کنارے میں اس کی حالیہ پیش قدمی کو بڑی حد تک اُن انتہائی دائیں بازو کے اتحادیوں نے آگے بڑھایا جنہوں نے نتن یاہو حکومت کو سہارا دیئے رکھا۔یہودی بستیوں کی توسیع ان کی انتخابی مہم کا ایک نمایاں حصہ رہی ۔
دریں اثنا 7 اکتوبر 2023ء کے بعد اسرائیلیوں کے درمیان دو ریاستی حل کی حمایت مکمل طور پر ختم ہو گئی۔ جولائی 2024ء کے ایک سروے سے معلوم ہوا کہ 42 فیصد یہودی اسرائیلیوں نے فلسطینیوں کو برابر کے حقوق دیے بغیر مغربی کنارے کے الحاق کی حمایت کی۔ صرف 21 فیصد نے دو ریاستی حل کی حمایت کی جو پچھلے تیس سال سے زائد عرصے میں سب سے کم شرح ہے۔ آنے والے انتخابات میں مغربی کنارے کو ایک اہم مسئلے کے طور پر بمشکل ہی دیکھا گیا۔
بڑھتی بین الاقوامی تنہائی
لیکن دنیا اُس پر باریک بینی سے نظر رکھے ہوئے ہے۔ مغربی کنارے میں اسرائیل کی پالیسی اب اُس کی بڑھتی بین الاقوامی تنہائی کی بڑی وجہ بن چکی ہے۔ برطانیہ، فرانس اور کینیڈا سمیت اُس کے کئی روایتی اتحادیوں نے مغربی کنارے میں یہودی بستیوں پر پابندیاں عائد کرنے کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔ برطانیہ کے وزیرِ خارجہ نے کہا ’’یہودی آبادکار دہشت گردوں نے وہاں رہنے والے فلسطینیوں کے خلاف ’’نسلی صفائی‘‘ کی ہے۔‘‘ انہوں نے ان اقدامات کو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی ایک نئی شروعات قرار دیا۔
اسرائیل کے سب سے بڑے حامی (امریکہ) کے ساتھ بھی نتن یاہو کے تعلقات خاص طور پر ایران اور غزہ کے ساتھ جنگ کے معاملے پر مسلسل کشیدہ رہے ہیں۔ تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بالآخر انتخابات سے محض ایک ہفتہ سے کچھ زائد وقت قبل نتن یاہو کو وہ توثیق دے ہی دی جس کا وہ خواہاں تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل کہا تھا کہ اسرائیل مغربی کنارے کا الحاق نہیں کرے گا۔اسی طرح کچھ عرصہ قبل امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے نقاب پوش آبادکاروں کی جانب سے صورتحال کی عکاسی کرنے والے ایک امریکی فوٹو جرنلسٹ پر تشدد کے بعد آبادکاروں کے حملوں کے خلاف ’’سخت کارروائی‘‘ کا مطالبہ کیا۔ لیکن عملی طور پر اسرائیلی پالیسیوں نے اِس علاقے پر اسرائیل کا کنٹرول مزید مضبوط و مستحکم کر دیا ہے۔
مغربی کنارے کا اسرائیل کے ساتھ الحاق کا جو عمل کبھی آہستہ آہستہ اور خاموشی سے ہو رہا تھا، اب کھل کر سامنے آ چکا ۔ نتن یاہو حکومت نے جن یہودی بستیوں کی منظوری دی اور جن پالیسیوں کو فروغ دیا ، اُن کے اثرات اُس کی مدتِ اقتدار کے ختم ہونے کے بعد بھی طویل عرصے تک قائم رہیں گے۔یہ حکومت بستیوں کو اتنی تیزی سے پھیلانے میں اس لیے کامیاب رہی کہ مغربی کنارے میں سکیورٹی کرنے اور شہری امور چلانے کا طریقہ کار بدل دیا اور تمام تر اختیارات بستی کاری کی مہم آگے بڑھانے والوں کے ہاتھوں میں دے دیے۔
بنیامین نتن یاہو نے مغربی کنارے سے متعلق اپنی حکومتی حکمتِ عملی کے مختلف پہلوؤں کی قیادت کے لیے تین اہم افراد … بیزلیل سموٹرچ، اتامار بن گویر، اور اسرائیل کاٹز کو منتخب کیا۔
بیزلیل سموٹرچ
جب 2022ء میں نئی حکومت قائم ہوئی، تو سموٹرچ نہ صرف وزیرِ مالیات بنا بلکہ اسے وزارتِ دفاع کے اندر بھی ایک وزارتی عہدہ دیا گیا۔ اس عہدے کا استعمال سموٹرچ نے مغربی کنارے کے نظامِ حکومت میں ایک بنیادی تبدیلی لانے کے لیے کیا۔آبادکاری کی تحریک کا نظریاتی رہنما، سموٹرچ ’’ریلیجس زیونسٹ پارٹی‘‘ (Religious Zionist Party) نامی پارٹی کا قائد ہے۔ وہ خود بھی ایک بستی میں رہتا اور اپنی پالیسی کو ’’آبادکاری کا انقلاب‘‘ (revolution settlement ) قرار دیتا ہے۔ایکس (X) پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو ، جس میں سموٹرچ ایک بستی کے اندر گھوڑے پر سواری کر رہا ہے،وہ کہتا ہے: ’’یہ علاقہ ہمارا ہے! آؤ اور آبادکاری کے انقلاب کو اپنی آنکھوں سے انجام پاتا دیکھو۔ یہ بہت دلچسپ ہوگا۔‘‘
سموٹرچ نے مغربی کنارے کے 82 فیصد حصے کو اسرائیل میں ضم (الحاق) اور فلسطینی اتھارٹی کو جو اس علاقے کے کچھ حصوں پر حکومت کرتی ہے ،ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔یاد رہے، اوسلو معاہدے،1993ء کے تحت مغربی کنارے کو ’’ایریا اے، ایریا بی اورایریا سی‘‘ میں تقسیم کیا گیا تھا۔ یہ تقسیم ایک مستقل فلسطینی ریاست کے قیام کی سمت میں ایک قدم تھا۔نتن یاہو حکومت کے دیگر انتہائی دائیں بازو کے اراکان کی طرح سموٹرچ بھی یہ تاریخی معاہدہ منسوخ کرنا چاہتا ہے۔ عملی طور پر وہ تمام اشارے جو پہلے اسرائیلی شہریوں کو خبردار کرتے تھے کہ آگے کا راستہ ’’ایریا اے‘‘ کی طرف جاتا ہے، اب صرف ’’فلسطینی دیہات‘‘ کی نشاندہی کرتے ہیں۔
وزارتِ دفاع میں سموٹرچ کو ’’سول ایڈمنسٹریشن‘‘نامی ادارے کا اختیار دیا گیا جو مغربی کنارے میں تعمیراتی قوانین کا نفاذ کرتا ہے۔ اس نے ایک نئے قائم شدہ’’ سیٹلمنٹس ایڈمنسٹریشن‘‘ (یہودی بستیوں کے انتظامی ادارے) کا چارج بھی سنبھال لیا۔اہم انتظامی اور قانونی اختیارات، جو کبھی فوجی کمانڈروں کے پاس ہوتے تھے، ا س کی براہِ راست نگرانی میں بستی کاری کے حامی شہری اہلکاروں کو منتقل کر دیے گئے۔
نتیجے میں آبادکاروں کی غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائیوں میں ڈرامائی کمی آگئی۔ دوسری طرف فلسطینیوں کے مکانات کو مسمار کرنے اور ان کے فارموں کو خالی کرانے کے عمل میں زبردست اضافہ ہوا ۔ یہ دونوں اقدامات کسی علاقے پر یہودی آبادکاروں کا کنٹرول قائم کرنے اور فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کے ہتھیار کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔
اسرائیل اِن بستیوں کے قریب ہر فلسطینی تعمیر کو غیر قانونی قرار دیتا ہے۔ بستیوں کے اسرائیلی ماہر، اریلی (Arieli) کا کہنا ہے کہ یہ ایک ایسا چکر ہے جسے خود اسرائیل مسلسل برقرار رکھتا ہے۔ ’’اسرائیل نے مغربی کنارے میں منصوبہ بندی اور تعمیرات کا پورا اختیار اپنے پاس رکھا ہے۔اپنی آبادی کی ضروریات پورا کرنے کے لیے فلسطینیوں کی ترقیاتی منظوری دینے سے انکاراور ان گھروں کے خلاف مسماری کے احکامات جاری کرتا ہے جو بغیر اجازت تعمیر پر مجبوراً تعمیر کیے جاتے ہیں۔‘‘
وزیرِ مالیات کے طور پر سموٹرچ اربوں شیکل (اسرائیلی کرنسی) کے اس بہاؤ کو بھی کنٹرول کرتا ہے جو چوکیوں اور بستیوں تک پہنچتے ہیں۔اس رقم کے ذریعے آبادکاروں کو اے ٹی وی (ATVs - آل ٹیرین وہیکلز)، ڈرونز اور نائٹ ویڑن گیئر کی فراہمی ہوتی ہے۔ماہ مارچ میں اسرائیلی تنظیم،پیس ناو (Now Peace ) نے حساب لگایا کہ نتن یاہو حکومت نے بستیوں کے لیے 19.3 ارب شیکل (تقریباً 6.3 ارب ڈالر) مختص کیے ۔ فنڈز کی یہ فراہمی مسلسل جاری ہے۔ جون میں حکومت نے نئی قانونی حیثیت پانے والی چوکیوں اور بستیوں کے بنیادی ڈھانچے (بشمول انہیں آپس میں جوڑنے والی سڑکوں) کے لیے مزید 1.4 ارب شیکل (تقریباً 450 ملین ڈالر) فراہم کیے۔
یہ سڑکیں باقاعدگی سے فلسطینی زمینوں پر قبضہ کرنے کے بعد بنائی جاتی ہیں۔ جولائی میں اسرائیلی فوج نے مگدالیم (Migdalim) کی بستیوں اور نئی قانونی حیثیت پانے والی "ائش کوڈیش" کو جوڑنے والی سڑک بنانے کے لیے فلسطینی گاؤں قصریٰ میں 3 ہزار ایکڑ سے زائد زمین ضبط کرنے کا حکم جاری کیا۔
اتامار بن گویر
اسرائیل کا وزیرِ قومی سلامتی، اتامار بن گویر پولس کا نظام کنٹرول کرتا ہے۔ اس نے مغربی کنارے پر مزید سکیورٹی کنٹرول حاصل کرنے کے لیے حکومت پر دباؤ ڈالا۔2007ء میں اُسے عربوں کے خلاف نسلی تعصب اپنانے اور نعرے بازی کرنے پر مجرم قرار دیا گیا تھا۔ اس نے امریکہ میں پیدا ہونے والے ایک انتہا پسند ربّی (Rabbi) سے منسلک انتہا پسند گروہوں کی بھی حمایت کی جنہیں کسی زمانے میں امریکہ نے دہشت گرد تنظیمیں قرار دیا تھا۔ یہ گروہ اسرائیلی قانون کے تحت اب بھی ممنوع ہیں۔
کابینہ میں شامل ہونے سے پہلے بن گویر نے ایک وکیل کے طور پر کام کیا اور انتہائی دائیں بازو کی متعدد یہودی شخصیات اور گروہوں کی نمائندگی کی جن میں ’’ہل ٹاپ یوتھ‘‘ (Hilltop Youth) بھی شامل ہے جس کے اراکان پر نفرت انگیز جرائم اور دہشت گردی کرنے کے الزامات رہے ہیں۔
بن گویر کی پارٹی ،عوتسما یہودیت (otzma yehudit - جیوش پاور پارٹی) کے ارکان آبادکاروں کے تشدد کی حمایت کرنے سے بالکل نہیں ہچکچاتے۔ اسرائیل کی اٹارنی جنرل نے ماہ اکتوبر کے اوائل میں پیش آئے ایک واقعے کی تحقیقات شروع کیں جس میں عوتسما یہودیت کے دو سینئر لیڈروں پر الزام ہے کہ انہوں نے پولیس اہلکاروں پر حملہ کیا اور فلسطینیوں کے خلاف تشدد کے ملزم ایک یہودی مشتبہ شخص کو حراست سے بھاگنے میں مدد فراہم کی۔ پارٹی ارکان نے اسے سیاسی انتقام یا سیاسی تذلیل قرار دیا ہے۔
بن گویر کے تحت قوم پرستانہ جرائم کے لیے ذمے دار سرکاری شعبے نے اپنی سرگرمیاں محدود کر دیں۔اسرائیلی سیکورٹی ایجنسی، شین بیت (shin bet) کے جیوش ڈویژن کے ساتھ اس کا تعاون خراب ہو چکا جو یہودی قوم پرستانہ جرائم میں گرفتاریوں کے لیے انٹیلی جنس معلومات فراہم کرتا ہے۔ جولائی میں جاری ہونے والے سرکاری پولیس ڈیٹا سے معلوم ہوتا ہے کہ 2019ء کے بعد سے مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کے تشدد اور قوم پرستانہ جرائم کے واقعات کی تحقیقات میں 560 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے … لیکن صرف 6.6 فیصد مقدمات میں ہی فردِ جرم عائد کی گئی۔
بن گویر نے پورے اسرائیل اور مغربی کنارے میں اسرائیلی شہریوں کے لیے بندوق رکھنا بھی آسان بنا دیا اور آبادکاروں اور رضاکار شہری سیکیورٹی ٹیموں کو ہزارہا اسالٹ رائفلیں تقسیم کرنے کی مہم کی قیادت کی۔ اس کے مطابق مقصد 7 اکتوبر کے بعد مستقبل کے حملوں کو روکنا تھا۔وہ کہتا ہے ’’آج پولیس میں آتشیں اسلحہ کے استعمال کے قواعد و ضوابط فوج کی بہ نسبت بہت زیادہ نرم اور کھلے ہیں۔‘‘2023ء کے بعد سے آتشیں اسلحے کی فراوانی کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کاٹز
نومبر 2024ء میں اسرائیل کاٹز نے وزیرِ دفاع کا عہدہ سنبھالا۔ اس کے ابتدائی اقدامات میں سے ایک یہودی آبادکاروں کے خلاف ’’ادارہ جاتی حراست"‘‘ (detention administrative ) کا استعمال ختم کرنا تھا۔یہ سخت قانون اسرائیل کو اِس انٹیلی جنس کی بنیاد پر کہ مشتبہ شخص قانون توڑنے کا ارادہ رکھتا تھا، بغیر کسی جرم، الزام یا مقدمے کے ایک وقت میں چھ ماہ کے لیے حراست میں رکھنے کی اجازت دیتا ہے۔ اسے غیر معینہ مدت کے لیے بڑھایا جا سکتا ہے۔کاٹز کے اس اقدام کے فوراً بعد اسرائیل نے اداری حراست کے تحت قید آبادکاروں کو رہا کر دیا۔
یہودی آبادکاروں کے بڑھتے تشدد کا سامنا کرتے ہوئے سینئر اسرائیلی فوجی حکام نے نجی طور پر اِس قانون کی بحالی کا مطالبہ کیا ۔انھوں نے پُرتشدد آبادکاروں کے خلاف پولیس کے سست ردِعمل اور کمزور کارروائی پر افسوس کا اظہار بھی کیا ۔دوسری طرف فلسطینیوں کے خلاف ادارہ جاتی حراست کا قانون اب بھی نافذ العمل ہے۔ اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیم ،بی تسیلم (B’Tselem) کے مطابق مغربی کنارے میں 3 ہزار سے زائد فلسطینی اُس کے تحت قید ہیں۔
مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی ساخت بھی بدل چکی ۔ 7 اکتوبر کے بعد فوج نے مغربی کنارے کے تقریباً ساڑھے پانچ ہزار آبادکاروں کو ریزروسٹ (محفوظ فوجی) کے طور پر طلب کیا اور انہیں علاقائی دفاعی یونٹوں میں متعین کر دیا جس سے آبادکاروں اور فوجیوں کے درمیان کا فرق مٹ کر رہ گیا۔یہ باہمی ملاپ اور اشتراک اگست میں اُس وقت نمایاں طور پر سامنے آیا جب ائش کوڈیش سمیت قریبی چوکیوں کے آبادکار قصریٰ (Qusra) کے گھروں پر حملہ آور ہوئے اور اندر موجود فلسطینی رہائشیوں کے بجلی اور پانی کے کنکشن کاٹ دیے۔
جب اسرائیلی فوجی وہاں پہنچے، تو وہ یہودی آبادکاروں کے ساتھ گرمجوشی سے ملے اور ان کے ساتھ عبادت میں شامل ہو گئے۔بعد میں عالمی سطح پر اس عمل پہ شدید تنقید اور جانچ پڑتال کے بعد تعینات اسرائیلی کمانڈر کو عہدے سے ہٹا دیا گیا۔کاٹز نے اس تشدد کی اہمیت کم ظاہر کرنے کی کوشش کی اور حکومت کے اِس موقف کو مزید دہرایا کہ آبادکاروں کا تشدد چند افراد کا کام ہے جنہیں نتن یاہو نے ’’کم عمر جرائم پیشہ افراد‘‘ قرار دیا تھا۔
یہ بھی سچ ہے، عالمی سطح پر شدید مذمت کے درمیان جیسے جیسے یہودی آبادکاروں کا تشدد ریکارڈ سطح پر پہنچ رہا ہے، فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے بین الاقوامی حمایت میں وسعت آئی ہے۔تاہم اسرائیلی حکومت کا عزم مزید پختہ اور مستحکم ہو چکا۔شدت پسند یہودی لیڈر کہتے ہیں:
’’وہ (اہل فلسطین) ایک فلسطینی خواب کی بات کرتے رہیں گے اور ہم ایک یہودی حقیقت کی تعمیر جاری رکھیں گے۔ یہی حقیقت فلسطینی ریاست کا تصّور ہمیشہ کے لیے دفن کر دے گی۔‘‘