پنجاب، ہزاروں ایکٹر سرکاری اراضی پر ناجائز قبضوں کا انکشاف
فوٹو: فائل
پنجاب میں سرکاری اراضی پر قبضوں، غیرقانونی الاٹمنٹس، ریونیو ریکارڈ میں مبینہ ردوبدل اور سرکاری املاک کے تحفظ میں غفلت کے سنگین معاملات سامنے آگئے۔
صوبے کے مختلف سرکاری محکموں کی ہزاروں ایکڑ اراضی غیرقانونی قبضوں، عدالتی مقدمات اور ملکیتی تنازعات کی زد میں ہے جبکہ نیب، بورڈ آف ریونیو اور متعلقہ محکموں کی کارروائیوں کے نتیجے میں اربوں روپے مالیت کی زمین واگزار کرانے کے اعدادوشمار بھی سامنے آئے ہیں۔
سرکاری آڈٹ رپورٹ میں محکمہ زراعت کی 541 ایکڑ سے زائد اراضی پر غیرقانونی قبضے یا عدم واگزاری کی نشاندہی کی گئی ہے، محکمہ جنگلات نے گزشتہ دو برس کے دوران 1,984 ایکڑ سے زائد اراضی واگزار کرائی جبکہ ہاؤسنگ، اربن ڈویلپمنٹ اور پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے شعبے سے متعلق رپورٹ میں 14 ہزار 574 مرلے اراضی بدستور قبضے میں ہونے کا انکشاف کیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق نیب اور پنجاب بورڈ آف ریونیو کی مشترکہ کارروائیوں کے دوران جون 2026 تک صوبے میں 25 ہزار 444 کنال سرکاری اراضی واگزار کرائی گئی، جس کی تخمینی مالیت 433 ارب روپے بتائی گئی ہے۔