دہشت گردی کا خاتمہ اور قومی سلامتی کا تقاضا
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں کشیدگی محض دو ہمسایہ ریاستوں کے درمیان سرحدی کشیدگی کا معاملہ نہیں، بلکہ اس خطے کے امن، معاشی استحکام، انسانی سلامتی اور بین الاقوامی ذمے داریوں سے جڑا ہوا ایک پیچیدہ مسئلہ ہے۔ اس تنازعے کا سب سے سنگین پہلو یہ ہے کہ طالبان حکومت اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی کا سب سے زیادہ نقصان خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے عام لوگوں کو ہو رہا ہے۔
خیبرپختونخوا کے پہاڑوں، وادیوں اور سرحدی بستیوں میں امن کی واپسی اب محض ایک انتظامی ضرورت نہیں رہی، بلکہ ریاستی سلامتی اور شہری زندگی کے تحفظ کا بنیادی تقاضا بن چکی ہے۔ اس صورت حال میں پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ افغانستان کے ساتھ مذاکرات، سفارتی رابطوں اور بین الاقوامی تعاون کے تمام راستے کھلے رہنے چاہئیں، لیکن ان کوششوں کی کامیابی کا انحصار اس امر پر ہوگا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دی جائے۔
پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جو جانی، مالی اور معاشرتی نقصان اٹھایا ہے، اسے کسی وقتی سیاسی اختلاف یا سفارتی مصلحت کے پردے میں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں پاکستانی نمائندے نے گزشتہ تین برس کے دوران افغانستان سے ہونے والے دہشت گرد حملوں میں 4,700 سے زائد پاکستانیوں کی ہلاکت کا ذکر کیا۔ یہ تعداد محض ایک سفارتی بیان کا حصہ نہیں، بلکہ ان خاندانوں کی محرومیوں، اجڑے ہوئے گھروں، یتیم بچوں اور ان علاقوں کی اجتماعی اذیت کی یاد دہانی ہے جہاں خوف نے معمول کی زندگی کو متاثر کیا۔
پاکستان کے لیے یہ سوال بنیادی اہمیت رکھتا ہے کہ اگر کسی ہمسایہ ملک کی سرزمین سے مسلح گروہ دوسرے ملک کے شہریوں کو نشانہ بناتے رہیں تو دونوں ریاستوں کے درمیان معمول کے تعلقات کس بنیاد پر قائم ہو سکتے ہیں؟ سفارت کاری کی کامیابی کا پیمانہ بیانات کی خوش آہنگی نہیں، بلکہ زمینی حقائق میں آنے والی قابلِ تصدیق تبدیلی ہے۔افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان کو یہ توقع تھی کہ دونوں ملکوں کے تاریخی، مذہبی، تہذیبی اور جغرافیائی رشتے باہمی تعاون کی نئی بنیاد فراہم کریں گے۔ پاکستان نے افغان عوام کی میزبانی، پناہ گزینوں کی طویل میزبانی، تجارت اور علاقائی روابط کے فروغ میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔
تاہم کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر مسلح دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیوں سے متعلق مسلسل سامنے آنے والی اطلاعات نے ان توقعات کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ ان دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین پر پناہ اور سرگرمیوں کی گنجائش حاصل ہے ۔افغانستان کی طالبان حکومت ان دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کے لیے تیار نہیں ہے۔ دہشت گردی کے خلاف دوٹوک پالیسی کا مطلب یہ بھی ہے کہ کسی تنظیم کی شناخت، نام یا سیاسی وابستگی کو اس کے تشدد پر مبنی کردار کے لیے ڈھال نہ بننے دیا جائے۔
اس تناظر میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا یہ بیان اہم سفارتی پیش رفت ہے کہ واشنگٹن پاکستان کے تحفظات سے آگاہ ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے پر آمادہ ہے۔ امریکی انتظامیہ کی جانب سے پاکستان کے سیکیورٹی خدشات کو تسلیم کرنا اس حقیقت کی علامت ہے کہ افغانستان کی صورت حال اب صرف علاقائی تنازع نہیں رہی، بلکہ عالمی امن کے وسیع تر تناظر میں بھی توجہ طلب ہے۔ پاکستان نے بھی امریکا سمیت دوست ممالک کی ثالثی اور سہولت کاری کا خیرمقدم کیا ہے، تاہم دفتر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ مذاکرات کا نتیجہ ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات کی صورت میں سامنے آنا چاہیے۔ یہی وہ اصول ہے جو کسی بھی بامعنی سفارت کاری کو محض رسمی ملاقاتوں اور مشترکہ بیانات سے ممتاز کرتا ہے۔ قطر، ترکیہ، چین اور دیگر علاقائی قوتیں بھی اس سلسلے میں کردار ادا کر سکتی ہیں، لیکن ثالثی اسی وقت مؤثر ہوگی جب کابل دہشت گرد تنظیموں کے خلاف عملی اقدامات کی ضمانت دے۔
پاکستان کو اس معاملے میں سفارتی محاذ پر اپنی دلیل کو مسلسل مضبوط رکھنا ہوگا۔ سرحد پار دہشت گردی کے خلاف مؤقف بین الاقوامی قانون، شواہد اور شہریوں کے تحفظ کے اصولوں سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ عسکری کارروائی بعض حالات میں فوری خطرے کو محدود کر سکتی ہے، مگر مستقل امن کا راستہ مؤثر سرحدی نگرانی، خفیہ معلومات کے تبادلے، دہشت گردوں کی مالی معاونت کے خاتمے اور دونوں ملکوں کے درمیان قابلِ عمل نظامِ رابطہ سے ہوکر گزرتا ہے۔
ملکی داخلی صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو خیبرپختونخوا میں امن و امان کا مسئلہ محض سرحد پار سرگرمیوں تک محدود نہیں۔ دہشت گردی کے پھیلاؤ میں مقامی سہولت کاری، کمزور انتظامی نگرانی، پولیس اور انسداد دہشت گردی کے اداروں کی استعداد اور سیاسی ترجیحات بھی اہم عوامل ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے فیصلے کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں کی دعوت دی گئی، مگر مطلوبہ تعاون حاصل نہیں ہوا۔ ان کے مطابق 2019ء اور 2020ء میں افغانستان سے دہشت گردوں کو واپس لاکر آباد کرنے کے فیصلوں نے بھی مسائل کو جنم دیا۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس پر غیر جانب دارانہ قومی جائزہ ضروری ہے، کیونکہ شدت پسندوں کی واپسی اور آبادکاری سے متعلق فیصلوں کے اثرات کسی ایک حکومت یا سیاسی جماعت تک محدود نہیں رہتے۔
قومی سلامتی کے معاملات میں ماضی کی غلطیوں کا تعین کرکے درست اور قابل عمل پالیسی اختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔گورنر راج یا ایمرجنسی جیسے غیر معمولی آئینی اقدامات کے حوالے سے بھی یہ حقیقت پیش نظر رہنی چاہیے کہ محدود مدت میں زیادہ سے زیادہ کام کیے جائیں اور دہشت گردی اور لاقانونیت کا خاتمہ کرنے کے مسلسل کام ہونا چاہیے ۔ قومی سلامتی کے تقاضے ، عوامی نمائندگی، بنیادی حقوق اور جمہوری اداروں کا تسلسل بھی ریاستی استحکام کے لازمی اجزا ہیں۔ کسی غیر معمولی انتظام کو مستقل سیاسی بندوبست میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔ اس کی ضرورت، قانونی بنیاد اور نتائج پارلیمانی نگرانی اور عدالتی جانچ کے لیے واضح ہونے چاہییں۔
افغانستان کی داخلی صورت حال بھی اس پورے بحران کو ایک وسیع تر انسانی مسئلے سے جوڑتی ہے۔ اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ بینیٹ نے افغان خواتین اور لڑکیوں پر عائد پابندیوں، تعلیم اور روزگار کے مواقع کی بندش اور بنیادی انسانی آزادیوں میں مسلسل کمی پر تشویش ظاہر کی ہے۔ خواتین کو تعلیم اور معاشرتی شرکت سے محروم رکھنے کی پالیسی پر سنجیدہ سوالات اٹھتے ہیں۔ پاکستان نے بھی اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم کے فورمز پر اس معاملے کو اجاگر کیا ہے۔ تاہم انسانی حقوق کے تحفظ اور علاقائی سلامتی کے مسائل کو الگ الگ خانوں میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ جس معاشرے میں نصف آبادی کی صلاحیتوں کو محدود کردیا جائے، وہاں معاشی ترقی، سماجی استحکام اور ادارہ جاتی بحالی کا سفر بھی متاثر ہوتا ہے۔ امریکا کی جانب سے 150 سے زائد افغان شہریوں کو ملک بدر کرکے پاکستان کے راستے افغانستان بھیجنے کی اطلاعات نے ایک اور پیچیدہ انسانی اور سفارتی پہلو سامنے رکھ دیا ہے۔
ان میں ایسے افراد بھی شامل بتائے گئے ہیں جو 2021ء میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد امریکا پہنچے تھے۔ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق لوزیانا سے پہلی پرواز 2 نومبر کو روانہ کیے جانے کا امکان ہے، تاہم ملک بدری کے حتمی انتظامات اور تمام متعلقہ افراد کی قانونی حیثیت کے بارے میں تفصیلات پوری طرح واضح نہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بعض افراد کو افغانستان واپسی پر انتقامی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ خدشات اپنی جگہ رہے ، کیونکہ یہ مسئلہ امریکا اور افغانستان کے درمیان ہے ۔ دنیا کے کئی ملک افغان مہاجرین کو اپنے ملک سے نکال رہے ہیں، افغانستان کی حکومت کو اپنے شہریوں کو وصول کرنا چاہیے اور اس تاثر کی نفی کرنی چاہیے کہ افغان شہریوں کو افغانستان میں حکومت کی جانب سے انتقام کا نشانہ بنایا جائے گا۔
پاکستان کے لیے اب اصل امتحان یہ ہے کہ وہ داخلی سلامتی، سفارتی حکمت عملی اور علاقائی استحکام کو ایک مربوط پالیسی کے تحت آگے بڑھائے۔ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے نیٹ ورک، ان کے مالی وسائل اور مقامی سہولت کاروں کے خلاف قانون کے مطابق مؤثر کارروائی ہو، متاثرہ علاقوں میں انتظامی خلا ختم کیا جائے اور پولیس و انسداد دہشت گردی کے اداروں کو جدید وسائل فراہم کیے جائیں۔
فغانستان کے ساتھ مذاکرات کے دروازے بھی بند نہ ہوں، مگر ان کا نتیجہ عملی ضمانتوں اور قابلِ تصدیق پیش رفت کی صورت میں سامنے آنا چاہیے۔ امریکا اور دیگر دوست ممالک کی سہولت کاری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان کو عالمی سطح پر اپنے تحفظات پیش کرنے چاہئیں۔خیبرپختونخوا کے عوام کو محض وعدوں نہیں، محفوظ زندگی، معیاری تعلیم، بہتر علاج، روزگار اور ترقی کے مواقع درکار ہیں۔ جب بندوق کی جگہ کتاب، خوف کی جگہ اعتماد اور بدامنی کی جگہ معاشی سرگرمی لے گی، تبھی اس خطے میں پائیدار امن کی بنیاد استوار ہوسکے گی۔