یہ جو لاوا پھٹا ہے ابھی ابھی

آیا ہے آئینہ دل میں کچھ ایسے بال جیسے دیوار گری ہو کچے مکان میں

farooq.adilbhuta@gmail.com

پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں ایک لاوہ پھٹا۔ مولانا فضل الرحمن پھٹ پڑے، ان کے جواب میں خواجہ آصف پھر محسن نقوی کیوں پیچھے رہتے۔ وہ بھی ایسا سب کچھ کہہ گزرے جو ان کا مینڈیٹ تھا۔ اس بیچ میں کامران مرتضی کے دہن سے کچھ ایسے پھول جھڑے کہ صنم بھی سنے تو کہے ہری ہری۔ایوان ہو یا ایوان سے باہر، سیاست کی دنیا میں ایسا بہت کچھ ہو جاتا ہے جسے سن کر خیال ہوتا ہے کہ بے قدروں کی دوستی تڑخ کر کے ٹوٹ گئی۔ ایک شعر یاد آتا ہے، جانے کس کا ہے  ؎

آیا ہے آئینہ دل میں کچھ ایسے بال

جیسے دیوار گری ہو کچے مکان میں

ہماری صحافت کا ایک خاص روّیہ ہے۔ محاورے میں اسے کہتے ہیں، کاتا اور لے دوڑی۔ ہمارے بڑے نامور صحافیوں نے یہ دیکھا اور اعتماد سے پیشین گوئی کر دی کہ یہ جو پرانے دوستوں کے درمیان بگڑی ہے، اس نے اگلے پچھلے تمام رشتے توڑ ڈالے ہیں۔ اب راہیں جدا ہوئیں اور کھیل ختم ہوا۔ بہ ظاہر ہوا تو یہی ہے کہ لیکن سیاست کا کھیل اتنا ہی سادہ ہوتا تو ہر ایک سیاست دان ہوتا۔ سیاست دان نہ ہوتا تو تجزیہ کار بن جاتا۔ رانا ثنا اللہ کے اس بیان کے بعد اس تجزیے کی کیا اہمیت رہ گئی ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ میاں نواز شریف مولانا فضل الرحمن کا بہت احترام کرتے ہیں۔ اس بیان نے بہ ظاہر دکھائی دینے والی دشمنی کے پرخچے اڑا دیے ہیں۔

ابھی چند روز ہوتے ہیں، محسن نقوی صاحب نے یہ کہہ کر طوفان اٹھایا تھا کہ سسٹم بوسیدہ ہو گیا ہے۔ اب یہ بدلے ہی بدلے۔ یار لوگ کات کر لے دوڑنے والی کی طرح سوت کی یہ انی لے دوڑے اور خبر دی کہ یہ تو کابینہ کے ایک رکن کا اپنے باس یعنی وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد ہے۔ فاضل دوستوں نے یہ دھول بڑے زور سے اڑائی حالاں کہ اگر سیاق وسباق کو ذرا سا بھی ذہن میں رکھ کر سمجھنے کی کوشش کی جاتی تو سمجھ میں آ جاتا کہ اس کا مطلب کیا تھا؟ اس کا مطلب وہی تھا جو صوبوں اور بلدیات کے باب میں منکشف ہوا۔ کون نہیں جانتا کہ یہ معاملہ سندھ پر کتنا بھاری ہے لیکن تصویر کے دوسری طرف نہ دیکھ پانے کی مجبوری کے بطن سے ایسے لطیفے ہی ظہور میں آتے ہیں۔

 مولانا بولے تو کہا کہنے والوں نے کہ وہ اٹوٹ رشتے جو میاں صاحب اور مولانا کے درمیان تھے، ختم ہوئے، اب مؤرخ نئی تاریخ رقم فرمائے گا۔ پھر دنیا نے دیکھا کہ ایسی خبر دینے والے اپنی یہ خبر بھولے اور بالکل ایک سو اسی درجے کے زاویے پر ایک نئی خبر دی کہ جب محسن نقوی مولانا کے جواب میں بولے تو مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کی طرف سے کوئی ان کی پشت پر نہیں کھڑا تھا۔ یہاں کرنٹ افیئرز کے ماہرین نے گویا الٹی بات دریافت کر لی۔ عرض صرف یہ کرنا ہے کہ ظاہر پر جانے اور گہرائی میں نہ اترنے کا نتیجہ یہی ہوتا ہے۔

اس تمہید سے گزرنے کے بعد یہ خیال ضرور سر اٹھائے گا کہ اچھا، تنقید فرما لی، اب یہ بھی تو فرماؤ کہ حقیقت کیا ہے۔ حقیقت بالکل سامنے ہے۔ خود مولانا فضل الرحمن نے بتا دیا ہے کہ ہم وہ لوگ ہیں جو طالبان کے نشانے پر سب سے زیادہ رہے۔ انھوں نے کھل کر کہہ دیا کہ ان کی جماعت کے اہم علما اور ڈھائی تین سو کارکنان دہشت گردی کی لہر میں شہید ہوئے ہیں۔ خبر ساز اپنے مزاج کے مطابق ٹٹ گئی تڑک کر کے کی نفسیاتی کیفیت سے باہر نکلتے تو تقریر کے اس نکتے پر ضرور توجہ دیتے۔ مولانا نے اپنی تقریر میں یہ بھی بتا دیا کہ وہ دہشت گردی کے بھی خلاف ہیں اور دہشت گردوں کو یہ اشارہ دے کر توجہ اُن کی اپنی طرف ہٹا بھی دی کہ اب اگر کوئی آپریشن ہوتا ہے تو وہ اس کا حصہ نہیں ہوں گے۔

مولانا کی سیاسی ذکاوت اور ذہانت کی باتیں تو سب کرتے ہیں لیکن ان کی نکتہ آفرینی کو سمجھنے پر کوئی تیار نہیں ہوتا۔ بہ جائے اس کے کہ مولانا اپنی اس چابک دستی پر داد پاتے، الٹا معتوب ہو گئے۔ ہماری صحافت اگر دن بہ دن گہری کھائی میں لڑھکتی چلی جاتی ہے تو آخر اس کی کوئی وجہ تو ہو گی۔ ایسا نہ ہوتا تو ہماری جلد باز صحافت کے ہیرو وہ بات بھی کہہ پاتے جو بالکل سامنے کی تھی یعنی سیاست کی دنیا میں ایسا ہوتا رہتا ہے اور وہ لوگ جو بہ ظاہر دشمن دکھائی دیتے ہیں، بہ وقت ضرورت یوں شیر و شکر ہو جاتے ہیں جیسے کوئی اختلاف تھا ہی نہیں۔ محترم نجم سیٹھی نے یہی بات سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ اتنی کائٹ فلائنگ کی ضرورت نہیں۔ یہ عین ممکن ہے کہ 28 ویں ترمیم کے لیے محسن نقوی مولانا سے جپھی ڈال رہے ہوں اور مولانا اپنی روایتی شفقت سے انھیں گلے لگا رہے ہوں۔ گویا  ؎

گر آج تجھ سے جدا ہیں تو کل بہم ہوں گے

یہ رات بھر کی جدائی تو کوئی بات نہیں

اچھا ایسا بھی نہیں کہ مولانا کو کوئی شکایت نہیں۔ مولانا کی شکایات الیکشن تا حال اظہر من الشمس ہیں اور موقع ملتے ہی انھوں نے کہہ بھی ڈالی ہیں۔ سخت بات کہتے ہوئے تنے ہوئے رسے سے ان کا پاؤں رپٹا ضرور ہے جس کا ترنت جواب بھی انھیں مل گیا۔

یہ تو ہوا اس قضیے میں سیاست کا احوال۔ یہ بات صرف اتنی ہی تھی البتہ ایک بات ایسی ضرور ہوئی ہے جس کا مداوا شاید کبھی نہ ہو پائے۔ ابلاغیات کی سائنس کہتی ہے کہ ایسی باتوں کا کہا جانا اور ذرائع ابلاغ کا انھیں من و عن ناظرین و قارئین تک پہنچا دینا دو دھاری تلوار کی طرح ہوتا ہے۔ ایسا کہنے والوں کی ساکھ عام آدمی کی نظر میں ختم ہو جاتی ہے جو آگے چل کر آئینی و قانونی نظام کو کمزور کر دیتی ہے۔ یہ ایسی حقیقت ہے جو آج کھلی آنکھوں سے دکھائی دیتی ہے۔ دوسری حقیقت یہ ہے کہ ایسی باتوں کو عوام تک پہنچانے کے ذریعے ڈس کریڈٹ ہو جاتے ہیں، یہ حقیقت بھی ہمارے سامنے ہے۔ آج صحافت جس حالت کو پہنچ چکی ہے، اس پر گریہ ضروری ہے لیکن گریہ کرنے والے تصویر کے اس رخ پر بھی تو نگاہ ڈالیں۔ ایک معروف صحافی و تجزیہ کار نے درست فرمایا ہے کہ تیلی لگائے بغیر صحافت کا کاروبار نہیں چلتا۔ درست ہے لیکن تیلی بڑی ظالم ہوتی ہے۔ اس کا شعلہ جلنے اور جلانے والے یعنی دونوں کو متاثر کرتا ہے۔ ہمارے روزگار کو دراصل یہی آگ لگی ہے۔ کاش ہم کبھی سمجھ پاتے۔

Load Next Story