روشن خیال دانشوروں کے نام
www.facebook.com/shah Naqvi
شریعتی انتہائی چونکا دینے والا دعویٰ کرتے ہیں۔ وہ دعویٰ یہ ہے کہ دنیا کے پسے ہوئے طبقات پر سب سے بڑا ظلم کوئی عالمی سپر پاور یا جابر حکمران نہیں کرتا بلکہ وہ خود اپنے آپ پر کرتے ہیں۔ ہم ڈاکٹر علی شریعتی کی مشہور تصنیف روشن خیال مفکرین کے نام سے ایک پیغام کی تہوں میں اتر رہے ہیں۔ جو ایک شاہکار ہے اور یہ تحریر دراصل سورۃ روم کا ایسا تجزیہ ہے جو یعنی روایتی مذہبی بحث کی سرحدوں کو پار کر جاتا ہے۔ یہ آج کی جیو پالیٹکس نو آبادیاتی نظام اور غلامی کی نفسیات کو بالکل ننگا کر کے رکھ دیتا ہے۔ تو چلیں اس بات کی تہہ تک پہنچتے ہیں تو ساتویں صدی کے اس کلام میں ایسا کیا راز پوشیدہ ہے جو آج کی جدید دنیا کے محکوم انسانوں کو جھنجوڑ کر رکھ دیتا ہے۔
اس حیران کن دعوے کو سمجھنے کے لیے ہمیں پہلے اس کے تاریخی پس منظر کو دیکھنا ہو گا جس پر شریعتی بات کر رہے ہیں۔ وہ رومی اور ایرانی سلطنت والا واقعہ، بالکل وہی ۔ سورۃ روم کا نزول اس وقت ہوا جب اس دور کی دو سب سے بڑی گلوبل سپر پاور یعنی رومی سلطنت اور ساسانی سلطنت ایک دوسرے کے مدمقابل تھیں۔ رومیوں کو ایک فیصلہ کن شکست ہوئی تھی۔ بظاہر ایسا لگتا تھا کہ ان کا زوال اب حتمی ہے۔ لیکن اس وقت پیغمبرؐ کی پیش گوئی نے جو انھوں نے فرمائی تھی کہ دس سال بعد رومی دوبارہ سے غالب آ جائیں گے، نے اس پورے منظر نامے کو بدل دیا ۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ شریعتی یہاں ہمیں محض قدیم تاریخ نہیں پڑھا رہے۔
وہ اس تاریخی ٹکراؤ کو ایک وسیع تر استعارے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ یعنی وہ اپنے دور کی مشرقی و مغربی طاقتوں پر تنقید کر رہے ہیں۔ انھوں نے بیداری کا آغاز جس نقطے سے کیا ہے وہ بظاہر بہت سادہ ہے وہ دانشوروں سے کہتے ہیں کہ دنیا کو صرف اپنے اردگرد کے جغرافیائی دائروں تک مت دیکھو۔ وہ اصرار کرتے ہیں کہ زمین پر سفر کرو اور ان عظیم طاقتوں کے انجام پر غور کرو جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں۔
شریعتی بتاتے ہیں کہ ماضی کی یہ طاقتیں آج کی جدید سپر پاور سے بھی زیادہ مضبوط تھیں۔ انھوں نے پہاڑ تراشے تھے۔ تو شریعتی یہ کھنڈرات کا سفر کیوں کروانا چاہتے تھے۔ جب کوئی قوم مسلسل غلامی یا پسماندگی کا شکار ہوتی ہے تو اس کی نفسیات میں ایک شدید قسم کا احساس کمتری جڑ پکڑ لیتا ہے۔ انھیں لگنے لگتا ہے جو طاقتیں آج ان پر قابض ہیں وہ ابدی ہیں۔ ناقابل تسخیر ہیں۔ وہ سوچتے ہیں کہ ان کا جبر ایک مستقل حقیقت ہے۔ اچھا تو کھنڈرات کا مشاہدہ اس طلسم کو توڑتا ہے؟ بالکل جب ان طاقتوں کے محلات کو مٹی میں ملتا ہوا دیکھتے ہیں جنھوںنے کبھی پوری دنیا پر حکمرانی کی تھی تو آپکا وہ خوف ختم ہو جاتا ہے۔ یعنی شریعتی یہ باور کروانا چاہتے ہیں کہ طاقت کا جو توازن ہمیں آج اٹل دکھائی دیتا ہے وہ دراصل بہت عارضی ہے۔ "تاریخ ایک بہتا ہوا دریا ہے۔ جو لہر آج سب سے اونچی ہے۔
کل اس کا ٹوٹ کا بکھرنا یقینی ہے۔ اور یہی وہ نکتہ ہے جو ایک محکوم ذہن میں مزاحمت کی پہلی چنگاری پیدا کرتا ہے"۔ یہاں بات واقعی بہت دلچسپ ہو جاتی ہے ۔ اگر تاریخ کا پہیہ اتنی ہی بے رحمی سے گھومتا ہے تو پھر ایک غریب قوم صدیوں تک غلامی کیوں سہتی ہے۔ یہی تو اصل سوال ہے۔ اور یہیں سے شریعتی اپنی تحریر کا رخ سماج سے ہٹا کر سیدھا فرد کی طرف موڑ دیتے ہیں۔ متن میں ذکر ہے جب تاریکی عروج پر تھی تو پیغمبروں نے آ کر واضح دلائل یعنی جنھیں ہم بینات کہتے ہیں وہ پیش کیے۔ لیکن اس کے بعد شریعتی وہ بات کہتے ہیں جس نے ہمیں الجھا کر رکھ دیا۔ وہ بات کہتے ہیں کہ اللہ نے ان قوموں پر ظلم نہیں کیا۔ بلکہ انھوں نے خود اپنے اوپر ظلم کیا۔
یہاں ہمیں رکنا ہو گا۔ کیا یہ مظلوم پر ہی سارا ملبہ ڈالنے والی بات نہیں ہے کہ شریعتی مظلوم کو ہی ذمے دار ٹھہرا رہے ہیں۔ لیکن حقیقت میں یہ مظلوم کو بااختیار بنانے کی سب سے موثر شکل ہے۔ وہ کس طرح؟ وہ یہ سمجھا رہے ہیں کہ ظلم کے نظام کی بقاء صرف ظالم کی طاقت پر نہیں ہوتی۔ تو پھر کس چیز پر ہوتی ہے؟ اس میں مظلوم کی رضامندی اس کی خاموشی اور اس جبر کو اپنی تقدیر سمجھ کر قبول کر لینے کا برابر کا حصہ ہوتا ہے۔ مطلب مظلوم کا اپنا رویہ؟ اور اس کے باوجود اس نے آنکھیں بند رکھیں تو اس اندھے پن کی ذمے داری کس پر ہے؟ ظاہر ہے اس شخص پر جو آنکھیں بند کیے بیٹھا ہے جو شخص ظلم کو قسمت کا لکھا سمجھ کر سہہ لیتا ہے وہ نادانستہ طور پر ظالم کے نظام کا ایک پرزہ بن جاتا ہے۔
شریعتی کے نزدیک اللہ اس وقت تک کامیابی کی ضمانت نہیں دیتا جب تک کہ مظلوم خود اپنے اندر سے آزادی کا ارادہ نہ کر لے۔ جب تک آپ خود کو بے بس سمجھیں گے۔ آپ بے بس ہی رہیں گے۔ اس لیے شریعتی اس بات پر بہت زور دیتے ہیں کہ انسان کو کس چیز پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ وہ منع کرتے ہیں کہ ان سپر پاورز کو اپنا نجات دہندہ مت سمجھو۔ کیونکہ یہ طاقتیں بدلتی رہتی ہیں۔ جب یہ طاقتیں منظر سے ہٹتی ہیں تو ان کے بھروسے پر جینے والی قومیں کٹھ پتلیاں بن کر رہ جاتی ہیں۔