غزہ میں اپنی ہی بمباری سے اسرائیلی یرغمالی مارے گئے، سابق فوجی سربراہ کا اعتراف

ہرزی حالیوی نے 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کو اسرائیل کی ایسی ناکامی قرار دیا جسے روکا جاسکتا تھا

نیویارک: اسرائیلی فوج کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ہرزی حالیوی نے اعتراف کیا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی بمباری کے دوران حماس کے زیرِ حراست بعض اسرائیلی یرغمالی بھی ہلاک ہوئے تھے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق مارچ 2025 میں اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد اپنے پہلے عوامی بیان میں ہرزی حالیوی نے کہا کہ فوج کو معلوم نہیں تھا کہ ان حملوں کے مقامات پر یرغمالی بھی موجود ہیں۔

انہوں نے نیویارک میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں شدید فوجی دباؤ کے بغیر یرغمالیوں کی واپسی ممکن نہیں تھی، تاہم اس کارروائی کے دوران بعض یرغمالی اسرائیلی بمباری کا نشانہ بھی بنے۔

ہرزی حالیوی نے 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کو اسرائیل کی ایسی ناکامی قرار دیا جسے روکا جاسکتا تھا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس ناکامی میں کسی قسم کی اندرونی غداری شامل نہیں تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ حملے کے بعد غزہ میں حماس کے خلاف زمینی کارروائی شروع کرنے کے لیے سیاسی قیادت کو قائل کرنے میں کافی وقت لگا۔

اسرائیلی فوج کے سابق سربراہ نے کہا کہ 7 اکتوبر کے حملے کی تحقیقات کے لیے قائم کمیشن کو اپنا کام مکمل کرنا چاہیے اور مشکل سوالات اٹھانے چاہییں۔ ان کے مطابق اسرائیل کو اپنی ناکامیوں کا سامنا کرنا ہوگا تاکہ غلطیوں کی اصلاح کی جاسکے۔

حالیوی نے یہ انکشاف بھی کیا کہ 7 اکتوبر کی صبح جب حماس کا حملہ جاری تھا، اسرائیل نے حزب اللہ کو سخت پیغام بھیجا تھا کہ اگر اس نے کسی قسم کی کارروائی کی تو لبنان کو سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ہرزی حالیوی 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے وقت اسرائیلی فوج کے سربراہ تھے۔ غزہ میں کئی ماہ تک جاری رہنے والی اسرائیلی فوجی کارروائی کے بعد انہوں نے مارچ 2025 میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

متعلقہ

Load Next Story