عمران خان سے ملاقات کی درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت کے لیے مقرر

بانی پی ٹی آئی کے دوست ہونے کی وجہ سے ان کی صحت اور خیریت پر شدید تشویش ہے، درخواست گزاران

(فوٹو: انٹرنیٹ)

اسلام آباد:

اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی سے جیل میں ملاقات کے لیے نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے ارکان کی درخواست 5 نومبر کو سماعت کے لیے مقرر کردی ہے۔

جسٹس عمیر مجید ملک جمعرات کو درخواست پر سماعت کریں گے۔ درخواست رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے ساتھ سماعت کے لیے مقرر کی گئی ہے۔

نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی نے سینئر وکیل فیصل فرید چوہدری کے ذریعے درخواست دائر کر رکھی ہے، جس میں سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری، سابق گورنر عمران اسماعیل، محمود مولوی اور بیرسٹر سیف درخواست گزاروں میں شامل ہیں۔ درخواست میں سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری ہوم پنجاب اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے دوست ہونے کی وجہ سے انہیں ان کی صحت اور خیریت پر شدید تشویش ہے۔ درخواست میں جیل حکام کے مبینہ نامناسب رویے اور بدسلوکی پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے، جبکہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی مسلسل گرتی ہوئی صحت اور خیریت پر گہری تشویش ظاہر کی گئی ہے۔

درخواست کے مطابق بانی پی ٹی آئی کے اہلِ خانہ، دوستوں اور قریبی رشتہ داروں کو کئی ماہ سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ ملاقاتوں پر پابندی کے باعث سوشل میڈیا پر افواہوں اور قیاس آرائیوں کو ہوا مل رہی ہے، جبکہ ملاقات نہ ہونے سے عوامی سطح پر بے چینی اور تشویش میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

درخواست گزاروں نے کہا ہے کہ سیاسی استحکام، آئین کی بالادستی اور قومی مصالحت کے لیے عدالت سے رجوع کیا گیا ہے۔ بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں پر پابندی آئین کے آرٹیکل 9 اور 14 سمیت جیل قوانین کی خلاف ورزی ہے، جبکہ انہیں ملاقاتوں سے محروم رکھنا اقوام متحدہ کے نیلسن منڈیلا رولز کے بھی منافی ہے۔

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ پاکستان پریزن رولز 1978 کے تحت بانی پی ٹی آئی سے جیل میں ملاقات اور انٹرویو کی اجازت دی جائے۔ عدالت سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے وفد کی بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی سے ملاقات کرانے کا حکم دے اور اس مقصد کے لیے مناسب وقت مقرر کیا جائے تاکہ دونوں کی صحت، ویلفیئر اور قانونی تحفظ کا جائزہ لیا جا سکے۔

Load Next Story